(۳۸۲۱۰) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ أَبِی سَلَمَۃَ ، عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ أَبِی عَوْنٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَۃَ ، أَنَّہَا کَانَتْ تَقُولُ : تُوُفِّیَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَنَزَلَ بِأَبِی بَکْرٍ مَا لَوْ نَزَلَ بِالْجِبَالِ لَہَاضَہَا ، اشْرَأَبَّ النِّفَاقُ بِالْمَدِینَۃِ ، وَارْتَدَّتِ الْعَرَبُ ، فَوَاللہِ مَا اخْتَلَفُوا فِی نُقْطَۃٍ إِلاَّ طَارَ أَبِی بِحَظِّہَا وعَنَائِہَا فِی الإِسْلاَمِ ، وَکَانَتْ تَقُولُ مَعَ ہَذَا : وَمَنْ رَأَی عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ عَرَفَ أَنَّہُ خُلِقَ غِنَائً لِلإِسْلاَمِ ، کَانَ وَاللہِ أَحْوَذِیًّا ، نَسِیجَ وَحْدِہِ ، قَدْ أَعَدَّ لِلأُمُورِ أَقْرَانَہَا۔ (احمد ۶۸)
(٣٨٢١٠) حضرت قاسم بن محمد سے روایت ہے کہ حضرت عائشہ کہا کرتی تھیں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وفات پائی تو حضرت ابوبکر پر ایسے مصائب اترے کہ اگر وہ مصائب کسی پہاڑ پر اترتے تو اس پہاڑ کو ریزہ ریزہ کردیتے۔ مدینہ میں نفاق پھیل گیا اور عرب کے (بہت) لوگ مرتد ہوگئے۔ پس خدا کی قسم ! لوگوں نے اسلام کے کسی حکم میں اختلاف نہیں کیا مگر یہ کہ حضرت ابوبکر اس کے تحفظ اور دفاع کے لیے دوڑ پڑے۔ اور حضرت عائشہ اس کے ساتھ یہ بھی کہتی تھیں۔ اور جو شخص عمر بن خطاب کو دیکھتا تو جان لیتا کہ اس کو اسلام سے نقصان دور کرنے کے لیے پیدا کا و گیا ہے۔ اور خدا کی قسم ! حضرت عمر تمام معاملات میں نہایت چاق و چوبند تھے بےمثال تھے ۔ اور انھوں نے معاملات کے لیے ان کے مناسب لوگوں کو تیار کیا۔