hadith book logo

Ibn Abi Shaybah: Hadith 38210

.

ابن أبي شيبة

38210
Ibn Abi Shaybah
(۳۸۲۱۱) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، وَابْنُ إِدْرِیسَ ، عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ أَبِی خَالِدٍ ، عَنْ زُبَیْدِ بْنِ الْحَارِثِ ؛ أَنَّ أَبَا بَکْرٍ حِینَ حَضَرَہُ الْمَوْتُ أَرْسَلَ إِلَی عُمَرَ یَسْتَخْلِفُہُ ، فَقَالَ النَّاسُ : تَسْتَخْلِفُ عَلَیْنَا فَظًّا غَلِیظًا ، وَلَوْ قَدْ وَلِیَنَا کَانَ أَفَظَّ وَأَغْلَظَ ، فَمَا تَقُولُ لِرَبِّکَ إِذَا لَقِیتَہُ ، وَقَدِ اسْتَخْلَفْتَ عَلَیْنَا عُمَرَ ، قَالَ أَبُو بَکْرٍ : أَبِرَبِّی تُخَوِّفُونَنِی ؟ أَقُولُ : اللَّہُمَّ اسْتَخْلَفْتُ عَلَیْہِمْ خَیْرَ خَلْقِک۔ ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَی عُمَرَ ، فَقَالَ : إِنِّی مُوصِیکَ بِوَصِیَّۃٍ إِنْ أَنْتَ حَفِظْتَہَا : إِنَّ لِلَّہِ حَقًّا بِالنَّہَارِ لاَ یَقْبَلُہُ بِاللَّیْلِ، وَإِنَّ لِلَّہِ حَقًّا بِاللَّیْلِ لاَ یَقْبَلُہُ بِالنَّہَارِ ، وَأَنَّہُ لاَ یَقْبَلُ نَافِلَۃً حَتَّی تُؤَدِّیَ الْفَرِیضَۃَ ، وَإِنَّمَا ثَقُلَتْ مَوَازِینُ مَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِینُہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ بِاتِّبَاعِہِمْ فِی الدُّنْیَا الْحَقَّ وَثِقَلُہُ عَلَیْہِمْ ، وَحَقٌّ لِمِیزَانٍ لاَ یُوضَعُ فِیہِ إِلاَّ الْحَقُّ أَنْ یَکُونَ ثَقِیلاً ، وَإِنَّمَا خَفَّتْ مَوَازِینُ مَنْ خَفَّتْ مَوَازِینُہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ بِاتِّبَاعِہِمَ الْبَاطِلَ وَخِفَّتُہُ عَلَیْہِمْ ، وَحَقٌّ لِمِیزَانٍ لاَ یُوضَعُ فِیہِ إِلاَّ الْبَاطِلُ أَنْ یَکُونَ خَفِیفًا ، وَإِنَّ اللَّہَ ذَکَرَ أَہْلَ الْجَنَّۃِ بِصَالِحِ مَا عَمِلُوا ، وَأَنَّہُ تَجَاوَزَ عَنْ سَیِّئَاتِہِمْ ، فَیَقُولُ الْقَائِلُ : لاَ أَبْلُغُ ہَؤُلاَئِ ، وَذَکَرَ أَہْلَ النَّارِ بِأَسْوَإِ مَا عَمِلُوا ، وَأَنَّہُ رَدَّ عَلَیْہِمْ صَالِحَ مَا عَمِلُوا ، فَیَقُولُ قَائِلٌ : أَنَا خَیْرٌ مِنْ ہَؤُلاَئِ ، وَذَکَرَ آیَۃَ الرَّحْمَۃِ وَآیَۃَ الْعَذَابِ ، لِیَکُونَ الْمُؤْمِنُ رَاغِبًا وَرَاہِبًا ، لاَ یَتَمَنَّی عَلَی اللہِ غَیْرَ الْحَقِّ ، وَلاَ یُلْقِی بِیَدِہِ إِلَی التَّہْلُکَۃِ۔ فَإِنْ أَنْتَ حَفِظْت وَصِیَّتِی ، لَمْ یَکُنْ غَائِبٌ أَحَبَّ إِلَیْک مِنَ الْمَوْتِ ، وَإِنْ أَنْتَ ضَیَّعْت وَصِیَّتِی لَمْ یَکُنْ غَائِبٌ أَبْغَضَ إِلَیْک مِنَ الْمَوْتِ ، وَلَنْ تَعْجِزَہُ۔
(٣٨٢١١) حضرت زبید بن الحارث سے روایت ہے کہ جب حضرت ابوبکر کی موت کا وقت آیا تو انھوں نے حضرت عمر کی طرف قاصد بھیجا ۔ اور حضرت ابوبکر نے حضرت عمر کو خلیفہ بنایا۔ اس پر لوگوں نے کہا۔ آپ ہم پر ایک ترش مزاج اور سخت آدمی کو خلیفہ بنا رہے ہیں۔ اور اگر وہ ہمارے والی بن گئے تو وہ مزید ترش مزاج اور سخت آدمی ہوجائیں گے۔ پس جب آپ حضرت عمر کو ہم پر خلیفہ بنائیں گے تو آپ اپنے رب سے ملاقات کے وقت اپنے پروردگار کو کیا جواب دیں گے ؟ حضرت ابوبکر نے فرمایا : کیا تم لوگ میرے پروردگار سے مجھے ڈرا رہے ہو ؟ میں (اللہ تعالیٰ کو) یہ جواب دوں گا۔ اے اللہ ! میں نے لوگوں پر آپ کی مخلوق میں بہترین شخص کو خلیفہ بنایا ہے۔
٢۔ پھر حضرت ابوبکر نے حضرت عمر کی طرف قاصد بھیجا (اور بلا کر) فرمایا۔ اگر تم یاد رکھو تو میں تمہیں ایک وصیت کرتا ہوں۔ یقیناً دن کے وقت اللہ تعالیٰ کا کوئی ایسا حق ہے جس کو وہ رات کے وقت قبول نہیں کرتا اور (اسی طرح) اللہ تعالیٰ کا رات کے وقت کوئی ایسا حق ہے جس کو وہ دن کے وقت قبول نہیں کرتا۔ اور بلاشبہ جب تک فرائض کو ادا نہ کیا جائے نوافل کو قبول نہیں کیا جاتا۔ اور جن لوگوں کے اعمال قیامت کے دن میزان میں بھاری ہوں گے ان کے اعمال صرف اس وجہ سے بھاری ہوں گے کہ دناا میں ان لوگوں نے حق کی اتباع کی ہوگی اور حق ان پر وزنی رہا ہوگا۔ اور میزان کے لیے بھی یہ بات حق ہے کہ (جب) اس میں صرف حق ہی کو رکھا جائے تو وہ وزنی ہوجائے۔ اور جن لوگوں کے اعمال قیامت کے دن میزان میں ہلکے ہوں گے تو اس کی وجہ صرف یہ ہوگی کہ ان لوگوں نے باطل کی پیروی کی اور باطل ان لوگوں پر ہلکا رہا ہوگا۔ اور میزان کے لیے بھی یہ بات حق ہے کہ جب اس میں صرف باطل ہی کو رکھا جائے تو وہ ہلکا ہوجائے۔
٣۔ اور یقیناً اللہ تعالیٰ نے اہل جنت کا ذکر ان کے بہترین اعمال کی وجہ سے کیا ہے اور ان کی غلطیوں سے درگزر فرمایا ہے۔ پس کہنے والا کہہ سکتا ہے کہ میں تو ان تک نہیں پہنچ سکتا۔ اور (اسی طرح) اللہ تعالیٰ نے اہل جہنم کا ذکر ان کے بد اعمال کے ساتھ کیا ہے۔ اور یہ بھی بیان کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اہل جہنم پر ان کے اعمال صالحہ کو رد فرما دیا ہے۔ پس کہنے والا کہہ سکتا ہے کہ میں تو ان سے بہتر ہوں۔ اور اللہ تعالیٰ نے رحمت والی آیت اور عذاب والی آیت (دونوں) کو ذکر فرمایا تاکہ مؤمن رغبت بھی کرے اور خوف بھی۔ اللہ تعالیٰ پر ناحق امیدیں نہ کرے اور اپنے ہاتھ سے ہلاکت کی طرف نہ پڑے۔
٤۔ پس اگر تم نے میری وصیت کی حفاظت کی تو تمہیں کوئی غائب چیز موت سے زیادہ محبوب نہیں ہوگی۔ اور اگر تم نے میری وصیت کو ضائع کیا تو کوئی غائب چیز تمہیں موت سے زیادہ مبغوض نہیں ہوگی۔ اور تم ہرگز موت کو عاجز نہیں کرسکتے۔