(۳۸۲۲۱) حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِیسَ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاہِیمَ ، عَنِ ابْنِ مِینَائَ ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَۃَ ، قَالَ : سَمِعْتُ عُمَرَ ، وَإِنَّ إِحْدَی أَصَابِعِی فِی جُرْحِہِ ہَذِہِ ، أَوْ ہَذِہِ ، أَوْ ہَذِہِ ، وَہُوَ یَقُولُ : یَا مَعْشَرَ قُرَیْشٍ ، إِنِّی لاَ أَخَافُ النَّاسَ عَلَیْکُمْ ، إِنَّمَا أَخَافُکُمْ عَلَی النَّاسِ ، إِنِّی قَدْ تَرَکْتُ فِیکُمْ ثِنْتَیْنِ ، لَنْ تَبْرَحُوا بِخَیْرٍ مَا لَزِمْتُمُوہُمَا : الْعَدْلُ فِی الْحُکْمِ ، وَالْعَدْلُ فِی الْقَسْمِ ، وَإِنِّی قَدْ تَرَکْتُکُمْ عَلَی مِثْلِ مُخَرَفَۃِ النَّعَمِ ، إِلاَّ أَنْ یَعَوَّجَ قَوْمٌ ، فَیُعْوَجَّ بِہِمْ۔
(٣٨٢٢١) حضرت مسور بن مخرمہ سے روایت ہے۔ کہتے ہیں : میں نے حضرت عمر کو کہتے سُنا۔۔۔جبکہ میری انگلیوں میں سے ایک انگلی ان کے زخم کے اندر تھی ۔۔۔ اے گروہ قریش ! میں تمہارے خلاف لوگوں سے خوف نہیں رکھتا بلکہ مجھے تو صرف لوگوں کے خلاف تم سے خوف ہے۔ یقیناً میں دو چیزیں تم میں چھوڑ کر جا رہا ہوں جب تک تم ان کو لازم پکڑو گے تب تک مسلسل خیر پر رہو گے۔ فیصلہ کرنے میں عدل اور تقسیم کرنے میں عدل۔ اور یقیناً میں تمہیں بالکل سیدھا چھوڑ کر جا رہا ہوں البتہ اگر کسی قوم نے ٹیڑھا راستہ اختیار کیا تو وہ ٹیڑھے راستے پر چل پڑیں گے۔