(۳۸۳۷۸) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حدَّثَنَا عِمْرَانُ الْقَطَّانُ ، عَنْ قَتَادَۃَ ، عَنْ أَبِی الْخَلِیلِ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَۃَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : یُبَایَعُ لِرَجُلٍ بَیْنَ الرُّکْنِ وَالْمَقَامِ عِدَّۃ أَہْل بَدْرٍ، فَتَأْتِیہِ عَصَائِبُ الْعِرَاقِ وَأَبْدَالِ الشَّامِ ، فَیَغْزُوہُمْ جَیْشٌ مِنْ أَہْلِ الشَّامِ حَتَّی إِذَا کَانُوا بِالْبَیْدَائِ یُخْسَفُ بِہِمْ ، ثُمَّ یَغْزُوہُمْ رَجُلٌ مِنْ قُرَیْشٍ أَخْوَالُہُ کَلْبٌ فَیَلْتَقُونَ فَیَہْزِمُہُمَ اللَّہُ ، فَکَانَ یُقَالُ : الْخَائِبُ مَنْ خَابَ مِنْ غَنِیمَۃِ کَلْبٍ۔ (ابوداؤد ۴۲۸۷۔ حاکم ۴۳۱)
(٣٨٣٧٨) حضرت ام سلمہ سے روایت ہے انھوں نے فرمایا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ایک آدمی کی رکن یمانی اور مقام ابراہیم کے درمیان اصحاب بدر کی تعداد کے برابر بیعت کی جائے گی اس کے پاس عراقی زاہدوں کے گروہ اور شام کے ابدال آئیں گے ان سے لڑائی کرے گا شامیوں میں سے ایک لشکر یہاں تک کہ جب وہ ایک میدان میں ہوں گے تو ان کو زمین میں دھنسا دیا جائے گا پھر ان سے قریش میں سے ایک آدمی جس کے ماموں بنوکلب میں سے ہوں گے لڑائی کرے گا ان کی آپس میں مڈ بھیڑ ہوگی اللہ ان کو شکست دے دے گا پس کہا جاتا تھا نامراد وہ ہے جو کلب کی غنیمت کے پانے سے نامراد رہا۔