(۳۸۵۰۲) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا شُعْبَۃُ بْنُ الْحَجَّاجِ ، عَنْ قَیْسِ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِہَابٍ ، قَالَ: جَلَدَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِیدِ رَجُلاً حَدًّا، فَلَمَّا کَانَ مِنَ الْغَدِ جَلَدَ رَجُلاً آخَرَ حَدًّا، فَقَالَ رَجُلٌ ہَذِہِ وَاللہِ الْفِتْنَۃُ، جَلَدَ أَمْسِ رَجُلاً فِی حَدٍّ، وَجَلَدَ الْیَوْمَ رَجُلاً فِی حَدٍّ، فَقَالَ: خَالِدٌ: لَیْسَ ہَذِہِ بِفِتْنَۃٍ، إنَّمَا الْفِتْنَۃُ أَنْ تَکُونَ فِی أَرْضٍ یُعْمَلُ فِیہَا بِالْمَعَاصِی فَتُرِیدُ أَنْ تَخْرُجَ مِنْہَا إِلَی أَرْضٍ لاَ یُعْمَلُ فِیہَا بِالْمَعَاصِی فَلاَ تَجِدُہَا۔
(٣٨٥٠٢) حضرت طارق بن شہاب سے روایت ہے انھوں نے فرمایا حضرت خالد بن ولید نے ایک آدمی کو بطور حد کوڑے لگائے جب دوسرا دن ہوا دوسرے آدمی کو بطور حد کوڑے لگائے ایک آدمی نے کہا اللہ کی قسم یہ تو فتنہ ہے گزشتہ کل ایک آدمی کو حد میں کوڑے لگائے اور آج دوسرے آدمی کو حد میں کوڑے لگائے ہیں حضرت خالد بن ولید نے فرمایا یہ فتنہ نہیں ہے فتنہ تو یہ ہوتا ہے کہ ایک زمین پر بیشمار گناہ کیے جائں تو یہ چاہے کہ ایسی زمین کی طرف نکل جائے جہاں گناہ نہ کیے جاتے ہوں پس تو ایسی زمین نہ پائے۔