hadith book logo

Ibn Abi Shaybah: Hadith 38502

.

ابن أبي شيبة

38502
Ibn Abi Shaybah
(۳۸۵۰۳) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ آدَمَ ، قَالَ : حدَّثَنَا أَبُو شِہَابٍ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَمْرٍو الْفُقَیْمِیِّ ، عَنْ مُنْذِرٍ الثَّوْرِیِّ ، عَنْ سعد بْنِ حُذَیْفَۃَ ، قَالَ : لَمَّا تَحَسَّر النَّاسُ سَعِیدَ بْنَ الْعَاصِ کَتَبُوا بَیْنَہُمْ کِتَابًا أَنْ لاَ یَسْتَعْمِلَ عَلَیْہِمْ إِلاَّ رَجُلاً یَرْضَوْنَہُ لأَنْفُسِہِمْ وَدِینِہِمْ ، فَبَیْنَمَا ہُمْ کَذَلِکَ إذْ قَدِمَ حُذَیْفَۃُ مِنَ الْمَدَائِنِ فَأَتَوْہُ بِکِتَابِہِمْ فَقَالُوا : یَا أَبَا عَبْدِ اللہِ ، صَنَعنَا بِہَذَا الرَّجُلِ مَا قَدْ بَلَغَک ، ثُمَّ کَتَبْنَا ہَذَا الْکِتَابَ وَأَحْبَبْنَا أَنْ لاَ نَقْطَعَ أَمْرًا دُونَک ، فَنَظَرَ فِی کِتَابِہِمْ وَضَحِکَ ، وَقَالَ : وَاللہِ مَا أَدْرِی أَیُّ الأَمْرَیْنِ أَرَدْتُمْ أَرَدْتُمْ أَنْ تَتَوَلَّوْا سُلْطَانَ قَوْمٍ لَیْسَ لَکُمْ أو أَرَدْتُمْ أَنْ تَرُدُّوا ہَذِہِ الْفِتْنَۃَ حَیْثُ أَطْلَعتْ خِطَامَہَا وَاسْتَوَتْ ، إِنَّہَا لَمُرْسَلَۃٌ مِنَ اللہِ فِی الأَرْضِ تَرْتَعِی حَتَّی تَطَأَ عَلَی خِطَامِہَا ، لَنْ یَسْتَطِیعَ أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ لَہَا رَدًّا وَلَیْسَ أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ یُقَاتِلُ فِیہَا إِلاَّ قُتِلَ حَتَّی یَبْعَثَ اللَّہُ قَزَعًا کَقَزَعِ الْخَرِیفِ یَکُونُ بِہِمْ بَیْنَہُمْ۔ (حاکم ۵۰۳)
(٣٨٥٠٣) حضرت سعد بن حذیفہ سے روایت ہے انھوں نے فرمایا جب لوگوں نے حضرت سعید بن عاص کو معزول کرنے پر موافقت کرلی تو آپس میں انھوں نے ایک تحریر لکھی کہ ان پر عامل نہیں بنایا جائے گا مگر وہ آدمی جس پر وہ اپنے لیے اور اپنے دین کے لیے راضی ہوں گے وہ لوگ اسی حالت پر تھے اچانک حضرت حذیفہ مدائن سے تشریف لائے اپنی تحریر لے کر ان کے پاس گئے اے ابو عبداللہ ہم نے اس آدمی کے ساتھ وہ معاملہ کیا ہے ہے جو آپ کو پہنچا ہے پھر ہم نے یہ تحریر لکھی ہے اور ہم یہ چاہتے ہیں کہ آپ کے بغیر ہم کسی امر کا یقینی فیصلہ نہ کریں حضرت حذیفہ نے ان کی تحریر کو دیکھا اور مسکرائے اور فرمایا اللہ کی قسم مجھے معلوم نہیں دونوں امروں میں سے کس کا تم نے ارادہ کیا ہے ایسے لوگوں کی ولایت کا ارادہ کیا ہے جو تمہارے فائدے کے لیے نہیں ہے یا تم نے ارادہ کیا ہے اس فتنے کو لوٹا نے کا اس مقام کی طرف جہاں یہ بےمہار ہوجائے گا اور مضبوط ہوجائے گا۔ بلاشبہ یہ فتنہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے زمین پر بھیجا جاتا ہے چرتا ہے یہاں تک اپنی لگام کو روندتا ہے کہ لوگوں میں سے کوئی بھی اسے روکنے کی طاقت نہیں رکھتا لوگوں میں سے کوئی بھی اس میں قتال نہیں کرتا مگر قتل کردیا جاتا ہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ بدلی بھیجتے ہیں موسم خزاں کے بادلوں کی طرح وہ قتال انہی کے درمیان ہوجاتا ہے۔