(۸۱۶۷) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، قَالَ : حدَّثَنَا حَرِیزُ بْنُ عُثْمَانَ ، عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ عاصِمِ بْنِ حُمَیْدٍ السَّکُونِیِّ وَکَانَ مِنْ أَصْحَابِ مُعَاذٍ ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ، قَالَ : بَقَیْنَا رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی صَلاَۃِ الْعِشَائِ فَخَرَجَ عَلَیْنَا فَقَالَ : أَعْتِمُوا بِہَذِہِ الصَّلاَۃ ، فَقَدْ فُضِّلْتُمْ بِہَا عَلَی سَائِرِ الأُمَمِ ، وَلَمْ تُصَلِّہَا أُمَّۃٌ قَبْلَکُمْ۔
(٨١٦٧) حضرت معاذ بن جبل سے روایت ہے، فرماتے ہیں کہ ہم نے ایک روز عشاء کی نماز کے لیے آپ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تشریف آوری کا بہت انتظار کیا، لیکن آپ نے اتنی دیر کردی کہ ایک آدمی کہنے لگا کہ آپ تشریف نہیں لائیں گے۔ اتنے میں آپ تشریف لائے تو ایک آدمی نے کہا کہ یا رسول اللہ ! ہمارا خیال یہ تھا کہ آپ نماز پڑھ چکے ہیں اور اب تشریف نہیں لائیں گے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اس رات کو اندھیرے میں پڑھا کرو، کیونکہ تمہیں ساری امتوں پر اس نماز کی وجہ سے فضیلت دی گئی ہے، تم سے پہلی امتیں یہ نماز نہیں پڑھتی تھیں۔