hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 11344

.

كنز العمال

11344
Kanz al-Ummal
11344 عن سلمة بن نفيل الكندي وكان قومه بعثوه وافدا إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم : قال : بينا أنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم تمس ركبتي ركبته مستقبل الشام بوجهه موليا إلى اليمن ظهره ، إذ أتاه رجل فقال : يا رسول الله أذال الناس الخيل ، ووضعوا السلاح ، وزعموا أن الحرب قد وضعت أوزارها ، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : كذبوا ، بل الآن جاء القتال ، لا تزال فرقة ، وفي لفظ : لا يزال قوم من أمتي يقاتلون عن أمر الله يزيغ الله بهم قلوب أقوام وينصرهم عليهم حتى تقوم الساعة أو حتى يأتي أمر الله ، الخيل معقود في نواصيها الخير إلى يوم القيامة وهو يوحي إلي اني مقبوض غير ملبث وأنكم متبعي أفنادا يضرب بعضكم رقاب بعض ، وعقر دار المؤمنين بالشام. (كر).
11340 ۔۔۔ حضرت سلمۃ بن نفیل الحضرمی (رض) سے مروی ہے کہ ان کو ان کی قوم نے نمائندہ بنا کر جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت اقدس میں بھیجا تھا، فرمایا کہ اس دوران کہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ اور میرا گھٹنا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مبارک گٹھنے سے چھورہا تھا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا رخ مبارک شامم کی طرف اور پشت مبارک یمن کی طرف تھی، کہ اتنے میں ایک شخص آیا اور عرض کیا یارسول اللہ ! لوگوں نے گھوڑوں کو لاپروائی کی وجہ سے دبلا کردیا اور اسلحہ رکھ دیا اور یہ سمجھنے لگے کہ جنگ اپنے کیل کانٹے سے فارغ ہوگئی، تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ “ انھوں نے جھوٹ کہا بلکہ اب ہی تو قتال کا وقت آیا ہے میری امت میں سے ایک گروہ (اور ایک طریق میں ہے کہ) میری امت میں سے ایک قوم اللہ کے لیے قتال کرتی رہے گی ان سے اللہ تعالیٰ قوموں کے دل ٹیڑھے کردیں گے اور ان کی ان قوموں کی خلاف مدد کریں گے یہاں تک کہ قیامت قائم ہوجائے یا اللہ کا حکم آجائے، گھوڑوں کی پیشانیوں میں خیر قیامت تک بندھی ہوئی ہے اور یہی میری طرف وحی کیا گیا ہے کہ مجھے واپس بلایا جانے ولا ہے، بلاتاخیر اور تم اتباع کرنے والے ہو، ماریں گے تم میں سے بعض کی گردنیں اور مسلمانوں کے گھر کا درمیانی علاقہ شام ہے “۔