11760- "مسند عمر رضي الله عنه" عن سعيد بن المسيب قال: قال عمر كنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم على جبل فأشرفنا على واد فرأيت شابا يرعى غنما له، أعجبني شبابه فقلت: يا رسول الله وأي شاب لو كان شبابه في سبيل الله؟ فقال النبي صلى الله عليه وسلم: يا عمر فلعله في بعض سبيل الله وأنت لا تعلم، ثم دعاه النبي صلى الله عليه وسلم فقال: يا شاب هل لك من تعول؟ قال: نعم، قال: من، قال أمي، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: الزمها فإن عند رجليها الجنة، ثم قال النبي صلى الله عليه وسلم: لئن كان الشهيد ليس إلا شهيد السيف فإن شهداء أمتي إذا لقليل، ثم ذكر صاحب الحرق، والشرق، والهدم، والبطن، والغريق، ومن أكل السبع ومن سعى على نفسه ليعزها ويغنيها عن الناس فهو شهيد. "إسماعيل الحطبي في حديثه خط في المفترق" وفيه أبو غالب عن ابن أحمد بن النصر الأزدي، قال الدارقطني ضعيف، وقال أحمد بن كامل القاضي لا أعلمه ذم في الحديث حكاها في الميزان وقال في اللسان ذكره سلمة الأندلسي وقال إنه ثقة.
حضرت عمر (رض) کی مسند سے حضرت سعید بن المسیب روایت فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے فرمایا
کہ ایک پہاڑ پر جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تھے کہ ہم ایک وادی کے سامنے پہنچے وہاں میں نے ایک نوجوان کو بکریاں چراتے ہوئے دیکھا، مجھے اس کی جوانی اچھی لگی میں نے عرض کیا، یا رسول اللہ ! کیا ہی خوب جوان ہے اگر اس کی جوانی اللہ کے راستے میں لگے تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اے عمر ! ہوسکتا ہے کہ وہ کسی طرح اللہ کے راستے میں ہو اور تمہیں معلوم نہ ہو، پھر جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے طلب فرمایا اور فرمایا کہ اے نوجوان ! کیا کوئی ایسا ہے جس کے پاس تم لوٹ کرجاتے ہو ؟ اس نے عرض کیا جی ہاں، فرمایا کون ؟ عرض کیا، میری والدہ ہیں تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ ان کے پاس ہی رہنا کیونکہ ان کے قدموں میں جنت ہے۔
پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اگر صرف تلوار سے قتل ہونے والا ہی شہید ہو تو پھر تو میری امت کے شہید بہت کم ہوجائیں گے، پھر جلے ہوئے، ٹکڑے ٹکڑے ہونے والے، منہدم شدہ عمارت وغیرہ کے نیچے دبنے والے پیٹ کی بیماری میں مرنے والے، ڈوب کر مرنے والے، درندے کا لقمہ بننے والے اور اس شخص کا ذکر فرمایا جو اپنے کمانے ےلئے محنت کرتا تھا تاکہ عزت سے کمائے اور خود کو دوسروں سے بےنیاز کرلے، وہ بھی شہید ہے۔ (اسمعیل الحطبی فی حدیثہ، بخاری فی التاریخ فی المفترق)