12860- عن سليمان بن يسار أن عبد الله بن عباس أخبره أن امرأة من خثعم استفت رسول الله صلى الله عليه وسلم، والفضل بن عباس رديف رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقالت: يا رسول الله إن فريضة الله في الحج أدركت أبي شيخا كبيرا لا يستطيع أن يستوى على الراحلة فهل يقضى أن أحج عنه؟ فقال لها رسول الله صلى الله عليه وسلم: نعم، حجي عن أبيك أرأيت إن كان على أبيك دين فقضيته عنه ألا ترين أنك قد أديت عنه؟ قالت: بل قال: فحق الله أحق. "ابن جرير".
12860 سلیمان بن یسار سے مروی ہے کہ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) نے ان کو خبر دی کہ خثعم قبیلے کی ایک عورت نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے فتویٰ پوچھا جبکہ فضل بن عباس (رض) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیچھے سواری پر بیٹھے ہوئے تھے۔ اس نے عرض کیا : اللہ کا فریضہ حج میرے بوڑھے والد پر آچکا ہے لیکن وہ سواری پر ٹھہر نہیں سکتے ؟ کیا میں ان کی طرف سے حج کرسکتی ہوں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس عورت کو ارشاد فرمایا : ہاں تو اپنے باپ کی طرف سے حج کرسکتی ہے پھر اس عورت سے پوچھا : اگر تیرے باپ پر قرض ہو اور تو اس کو ادا کرے تو تیرا کیا خیال ہے کہ وہ ادا ہوجائے گا ؟ عورت نے عرض کیا : کیوں نہیں، فرمایا : پس الل کا حق زیادہ حقدار ہے (ادا ہونے کے) ۔ ابن جریر