14035- عن ابن عمرو قال: رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم أتته امرأة بابن لها، فقالت يا رسول الله ابني كان بطني له وعاء وثديي له سقاء وحجري له حواء، وأن أباه يزعم أنه أحق به مني، فقال لها النبي صلى الله عليه وسلم: أنت أحق به ما لم تنكحي، قال عمرو بن شعيب: وقضى أبو بكر الصديق في عاصم ابن عمر أن أمه أحق به ما لم تنكح. "ابن جرير".
14035 ابن عمرو (رض) سے مروی ہے کہ میں نے دیکھا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک عورت اپنے بیٹے کو لے کر حاضر ہوئی اور عرض کیا : یارسول اللہ ! میرا شکم میرے بیٹے کے لیے برتن ہے، میرے پستان اس کے لیے مشکیزے ہیں اور میری گود اس کے لیے پناہ گاہ ہے۔ لیکن اس کا باپ گمان کرتا ہے کہ وہ مجھ سے زیادہ اس کا حقدار ہے۔ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس عورت کو فرمایا : تو اس کی زیادہ حقدار ہے جب تک شادی نہ کرے۔
عمرو بن شعیب (رح) فرماتے ہیں : حضرت ابوبکرصدیق (رض) نے عاصم بن عمر کے متعلق بھی یہی فیصلہ فرمایا کہ اس کی ماں اس کی زیادہ حقدار ہے جب تک وہ دوسرا نکاح نہ کرے۔ ابن جریر