18575- عن أبي هريرة أن النبي صلى الله عليه وسلم كان يقوم حتى تزلع رجلاه. "ابن النجار".
18566 ۔۔۔ حضرت علی (رض) سے حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی صفت کے بارے میں سوال کیا گیا حضرت علی (رض) نے ارشاد فامایا حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سفید رنگت والے قدرے سرخی مائل تھے ۔ آپ کی آنکھیں بڑی بڑی اور نہایت سیاہ تھیں ۔ آپ کے بال سیدھے (اور قدرے خمدار) تھے جو کانوں کی لو کو چھوتے تھے ۔ سینے پر ناف تک بالوں کا باریک خط تھا ۔ آپ کے رخسار نرم ونازک تھے ۔ ریش مبارک گنجان اور گھنی تھی ۔ آپ کی گردن چاندی کی صراحی کی مانند تھی ۔ آپ کے سینے پر بالوں کے خط کے سوا سینے اور پشت پر مزید بال نہ تھے ۔ ہاتھ پاؤں پر گوشت تھے ۔ جب چلتے تھے گویا پشت کی طرف اتر رہے ہیں اور پاؤں گویا چٹان سے اٹھا رہے ہیں (یعنی اٹھا اٹھا کر رکھ رہے ہیں نہ کہ ہموار زمین پر گھسیٹ رہے ہیں) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب کسی طرف متوجہ ہوتے تھے تو پورے وجود کے ساتھ متوجہ ہوتے تھے آپ کے چہرے پر پسینہ چمکتے موتی محسوس ہوتے تھے ۔ آپ کے سینے کی خوشبو مشک سے زیادہ اچھی محسوس ہوتی تھی ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نہ بہت لمبے تھے اور نہ کوتاہ قامت نہ عاجزوکمزور اور نہ گھٹیا انسان تھے بلکہ میں نے آپ جیسا عظیم انسان پہلے دیکھا اور نہ بعد میں کبھی دیکھا ۔ (البیھقی فی الدلائل ابن عساکر)