hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 1918

.

كنز العمال

1918
Kanz al-Ummal
1918 – "ما صيد مصيد (2) إلا بنقص من التسبيح إلا أنبت الله نابه وإلا وكل ملكا يحصي به حتى يأتي به يوم القيامة ولا عضد من شجرة إلا بنقص في التسبيح وما دخل على امرئ مكروه إلا بذنب وما عفا الله عنه أكثر"، (ابن عساكر عن أبي بكر الصديق وعمر معا، قال: هذا حديث منكر وفي الإسناد ضعيفان ومجهولان) . (2) كذا ولعله صيد كما سيأتي.
١٩١٨۔۔ کوئی شکار شکار ہوتا ہے تو محض اس وجہ سے کہ اس کے ذکر کرنے میں کمی واقع ہوجاتی ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ اس کی جگہ دوسرے کو پیدا فرما دیتے ہیں اور ایک فرشتہ بھی اس پر مقرر فرما دیتے ہیں جو اس کی حفاظت کرتا ہے۔۔ یہاں تک کہ قیامت آجائے اور اسی طرح کوئی درخت بھی اس وقت کٹتا ہے جب اس کے ذکر کرنے میں کمی واقع ہوجاتی ہے۔ اور یونہی کسی شخص کو ناگوار بات تبھی پیش آتی ہے جب اس سے کوئی گناہ سرزد ہوجا جاتا ہے۔ اور جن گناہوں کو اللہ درگزر فرما دیتی ہیں وہ تو بہت زیادہ ہیں۔ ابن عساکر، بروایت ابی بکر الصدیق (رض) وعمر (رض) معا۔ مصنف علامہ سیوطی فرماتے ہیں یہ حدیث منکر ہے اور اس کی اسناد میں دوراوی بالکل ضعیف ومجہول ہیں۔