22715- "أيضا" كنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في سفر، وإنا سرينا ليلة حتى إذا كان آخر الليل وقفنا تلك الوقفة ولا وقفة عند المسافر أحلى منها، فما أيقظنا إلا حر الشمس، فجعل عمر يكبر، فلما استيقظ النبي صلى الله عليه وسلم شكا الناس إليه ما أصابهم، فقال: لا ضير فارتحلوا فساروا غير بعيد، ثم نزل فنودي بالناس فصلى بالناس". "ش".
22715 ۔۔۔ حضرت جابر (رض) کی روایت ہے کہ ایک سفر میں ہم حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تے چنانچہ ہم رات بھر محو سفر رہے حتی کہ رات کے آخری پہر میں ہم نے سفر موقوف کیا بلاشبہ اس طرح کا وفقہ مسافر کے نزدیک بڑا لذیذ ہوتا ہے الغرض ہم گہری نیند سوتے رہے اور ہمیں سورج کی تپش نے جگایا سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) تکبیر کہنے لگے ، اور جب حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیدار ہوئے تو لوگوں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے گہری نیند سوتے رہنے کی شکایت کی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : کچھ ضرر کی بات نہیں (فی الحال) یہاں سے کوچ کرو چنانچہ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین وہاں سے چل دیے اور تھوڑا آگے جا کر نزول کیا ، اذان دی گئی اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لوگوں کو نماز پڑھائی ۔ (رواہ ، ابن ابی شیبۃ)