23066- عن الحسن البصري أن النبي صلى الله عليه وسلم اشتكى فدخل عليه عمر ونفر معه يعودونه، فحضرت الصلاة، فصلى بهم قاعدا وهم قيام وأشار إليهم بيده أن اجلسوا، فلما فرغ قال: "إنه فارس إنما تفضلت عليهم ملوكهم لأنهم يجلسون ويقام لهم فلا تفعلوا ذلك، قال: أشار بيده من ورائه من غير أن يرفعها إلى عاتقه". "عب".
23066 ۔۔۔ حسن بصری (رح) روایت کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیمار پڑگئے چنانچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عیادت کرنے کے لیے سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) اور ان کے ساتھ چند اور صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اتنے میں نماز کا وقت ہوگیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کو نماز پڑھائی دراں حالیکہ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیچھے کھڑے تھے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نی صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کی طرف ہاتھ سے بیٹھ جانے کا اشارہ کیا جب نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا : یہ اہل فارس کا طریقہ ہے چنانچہ ان کے بادشاہ ان پر اپنی برتری ظاہر کرنا چاہتے ہیں چونکہ ان کے بادشاہ بیٹھے ہوتے ہیں اور انھیں (رعایا عوام) کو اپنے سامنے کھڑا کردیتے ہیں لہٰذا تم ایسا مت کرو ، حسن بصری (رح) کہتے ہیں : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اشارہ کرنے کے لیے ہاتھ اوپر گردن کی طرف نہیں اٹھایا بلکہ ہاتھ پیچھے کرکے اشارہ کردیا ۔ (رواہ عبدالرزاق)