23612- قال الله تبارك وتعالى: "كل عمل ابن آدم له إلا الصيام فإنه لي وأنا أجزي به، والصيام جنة وإذا كان يوم صوم أحدكم فلا يرفث ولا يصخب، وإن سابه أحد أو قاتله فليقل إني امرؤ صائم، والذي نفس محمد بيده لخلوف فم الصائم أطيب عند الله من ريح المسك وللصائم فرحتان يفرحهما: إذا أفطر فرح بفطره، وإذا لقي ربه فرح بصومه". (ق ت عن أبي هريرة) .
23612 ۔۔۔ اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتا ہے ابن آدم کا ہر عمل اس کے لیے ہوتا ہے۔ بجز روزہ کے بلاشبہ روزہ میرے لیے ہے اور میں خود اس کا بدلہ دوں گا روزہ ڈھال ہے لہٰذا جب بھی تم میں سے کوئی آدمی روزہ میں ہو وہ نہ بیہودہ گفتگو کرے اور نہ ہی شور مچائے اگر اسے گالی دے یا اس سے کوئی جھگڑے تو یہ کہہ دے کہ میں روزہ میں ہوں ، قسم اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں محمد کی جان ہے ! روزہ دار کے منہ کی بو اللہ تبارک وتعالیٰ کے یہاں مشک کی خوشبو سے بھی افضل ہے روزہ دار کو دو فرحتیں نصیب ہوتی ہیں چنانچہ جب وہ افطار کرتا ہے تو روزہ افطار کرکے اسے فرحت حاصل ہوتی ہے اور جب اپنے رب سے ملاقات کرے گا تو روزہ سے اسے بےحد فرحت نصیب ہوگی ۔ (رواہ البخاری ومسلم والترمذی ، عن ابوہریرہ (رض))