23724- إن أمتي لن تخزى ما أقاموا شهر رمضان، قيل: يا رسول الله وما خزيهم في شهر رمضان؟ قال: "انتهاك المحارم فيه، من زنى فيه أو شرب فيه خمرا لعنه الله ومن في السموات إلى مثله من الحول، فإن مات قبل أن يدرك رمضان فليس له عند الله حسنة يتقي بها النار، فاتقوا الله في شهر رمضان، فإن الحسنات تضاعف فيه ما لا تضاعف فيما سواه وكذلك السيئات". (طب عن أم هانئ؛ وابن صصرى في أماليه عن أبي هريرة) .
23724 ۔۔۔ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے کہ میری امت جب تک ماہ رمضان میں قیام کرتی رہے گی رسوا نہیں ہوگی صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! ماہ رمضان میں آپ کی امت کی رسوائی کیا ہے ؟ ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ حدود کو رمضان میں توڑنا رمضان المبارک میں جو شخص زنا کرتا ہے یا شراب پیتا ہے اللہ تعالیٰ اور آسمانوں کے فرشتے کے پاس اس کی کوئی نیکی نہیں اپنی جس کے ذریعے وہ آگ سے بچاؤ کا سامان کرے ماہ رمضان کے معاملہ میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو ، چونکہ اس مہینہ میں نیکیاں اس قدر بڑھ جاتی ہیں جو غیر رمضان میں نہیں بڑھتی ہیں اور یہی حال برائیوں کا بھی ہے۔ (رواہ الطبرانی و اصحابہ السنن الاربعۃ عن ام ھانی و اصحابہ السنن اربعۃ وابن صصری فی امالیہ عن ابوہریرہ (رض)) کلام : ۔۔۔ حدیث ضعیف ہے دیکھئے ذخیرۃ الحفاظ 829 المتناھیۃ 883 ۔