27460- عن ندبة مولاة ميمونة قالت: "دخلت على ابن عباس وأرسلتني ميمونة إليه فإذا هو في بيته فراشان فرجعت إلى ميمونة فقلت: ما أرى ابن عباس إلا مهاجرا لأهله، فأرسلت ميمونة إلى بنت سرج الكندي امراة ابن عباس تسألها فقالت: ليس بيني وبينه هجر ولكني حائض، فأرسلت ميمونة إلى ابن عباس أترغب عن سنة رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ فقد كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يباشر المرأة من نسائه حائضا تكون عليها الخرقة إلى الركبة وإلى نصف الفخذ". "عب".
27460 ۔۔۔ میمونہ (رض) کی آزاد کردہ باندی ندیہ سے مروی ہے کہ میں حضرت ابن عباس (رض) کے پاس داخل ہوئی مجھے میمونہ (رض) نے ان کے پاس بھیجا تھا چنانچہ ابن عباس (رض) کے گھر میں دو بستر لگے ہوئے تھے میں میمونہ (رض) کی طرف واپس لوٹ آئی میں نے کہا میرے خیال میں ابن عباس اپنے گھر والوں سے علیحدگی اختیار کیے ہوئے ہیں میں میمونہ (رض) نے بنت سرج کندی جو کہ ابن عباس (رض) کی بیوی ہی کو پیغام بھیجا اور صورتحال کی وضاحت چاہی اس نے کہا میرے اور ابن عباس کے درمیان کوئی علیحدگی نہیں لیکن میں حالت حیض میں ہوں۔ میمونہ (رض) نے ابن عباس (رض) کا پیغام بھیجا اور صورتحال کی وضاحت چاہی۔ اس نے کہا : میرے اور ابن عباس کے درمیان کوئی علیحدگی نہیں لیکن میں حالت حیض میں ہوں ۔ میمونہ (رض) نے ابن عباس (رض) کو پیغام بھیجا اور کہا : کیا تم بنت رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے منہ موڑنا چاہتے ہو حالانکہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی بیویوں میں حائضہ کے ساتھ مباشرت کے لیتے تھے البتہ اس کے گھٹنوں اور نصف رانوں تک کپڑا پڑا ہوتا تھا۔ (رواہ عبدالرازق) ۔ فائدہ :۔۔۔ حدیث میں مباشرت سے مراد مجامعت نہیں بلکہ لپٹ لپٹاؤ مراد ہے یہ مطلب حدیث کے آخر سے واضح ہے۔