hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 2988

.

كنز العمال

2988
Kanz al-Ummal
2988- "الأعراف" "خلق الله تعالى الخلق وقضى القضية وأخذ ميثاق النبيين وعرشه على الماء فأخذ أهل اليمين بيمينه وأخذ أهل الشمال بيده الأخرى وكلتا يدي الرحمن يمين فقال: يا أصحاب اليمين فاستجابوا له [فقالوا –1لبيك ربنا وسعديك قال: ألست بربكم قالوا: بلى فخلط2 بعضهم ببعض فقال قائل منهم: ربنا لم خلطت بيننا قال لهم: أعمال من دون ذلك هم لها عاملون أن تقولوا يوم القيامة إنا كنا عن هذا غافلين ثم ردهم في صلب آدم فأهل الجنة أهلها وأهل النار أهلها قيل يا رسول الله فما الأعمال قال: يعمل كل قوم بمنزلتهم". "عبد بن حميد والحكيم عق طب وأبو الشيخ في العظمة وابن مردويه عن أبي أمامة".
2988: سورة الاعراف۔ اللہ تعالیٰ نے ایک مخلوق پیدا فرمائی اور فیصلہ فرما دیا اور پیغمبروں سے عہد لیا۔ اس وقت اللہ کا عرش پانی پر تھا۔ اللہ نے اہل یمین کو اپنے دائیں ہاتھ میں لیا اور اصحاب شمال کو بائیں ہاتھ میں لیا اور رحمن کے دونوں ہاتھ یمین (صاحب برکت) یں۔ پھر فرمایا : اے اصحاب الیمین (انہوں نے جواب میں عرض کیا) لبیک ربنا وسعدیک۔ حاضر ہیں ہم اے پروردگار ! اور تمام بھلائیاں تجھ ہی سے ہیں۔ پروردگار نے فرمایا : الست بربکم۔ کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں ؟ انھوں نے عرض کیا : کیوں نہیں اے پروردگار ! بیشک آپ ہی ہمارے پروردگار ہیں۔ (اصل نسخہ میں آئندہ کا اضافہ نہیں لیکن منتخب کنز العمال میں یہ اضافہ موجود ہے) پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے اصحاب الشمال ! انھوں نے عرض کیا : حاضر ہیں اے ہمارے پروردگار ! اور تو ہی تمام سعادتوں کا سرچشمہ ہے۔ فرمایا کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں ؟ عرض کیا : کیوں نہیں۔ آپ ہی ہمارے رب ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اے اصحاب الاعراف ! انھوں نے بھی عرض کیا لبیک ربنا وسعدیک۔ فرمایا : کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں ؟ عرض کیا کیوں نہیں۔ آپ ہی ہمارے رب ہیں۔ منتخب کنز العمال۔
پھر اللہ تعالیٰ نے ان سب کو آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ خلط ملط کردیا۔ کسی نے ان میں سے کہا : اے پروردگار : ہمیں (اچھوں اور بروں کو) ایک دوسرے کے ساتھ کیوں خلط ملط کردیا ؟ ارشاد خداوندی ہوا : تمام لوگوں کے سامنے ان کے اپنے اپنے اعمال ہیں جن پر ہر ایک کاربند ہے۔ (یہ سب سوال و جواب میں نے اس لیے کیا) کہیں تم قیامت کے دن کہو ہم اس سے غافل تھے۔
پھر اللہ تعالیٰ نے ان سب کو آدم (علیہ السلام) کی پشت میں لوٹا دیا۔ پس اہل جنت جنت ہی کے اہل ہیں اور اہل جہنم جہنم ہی کے لائقیں۔ کسی نے سوال کیا یا رسول اللہ ! (جب جنت اور جہنم ہر ایک کے لیے اس کے اہل لکھے جا چکے ہیں) پھر عمل کا کیا فائدہ ؟ فرمایا : ہر قوم اپنے مرتبہ (جنت یا جہنم) کے مطابق ہی عمل کرتی ہے۔ (عبد بن حمید، الضعفاء للعقیلی، العظمت لابی الشیخ، ابن مردویہ بروایت ابی امامہ (رض) )
نوٹ : اس حدیث مضمون کی مکمل تفصیل سورة الاعراف 172 پر تفاسیر میں ملاحظہ فرمائیں۔
کلام : ذخیرۃ الحفاظ 2789 پر یہ روایت معمولی اختلاف کے ساتھ نقل کی گئی ہے اور اس کو ضعیف قرار دیا گیا ہے۔