29919 ألا أخبركم بجيشكم هذا الغازي ؟ انهم انطلقوا حتى لقوا العدو فأصيب زيد شهيدا فاستغفروا له ، ثم أخذ اللواء جعفر ابن أبي طالب فشد على القوم حتى قتل شهيدا أشهد له بالشهادة فاستغفروا له ، ثم اخذ اللواء عبد الله بن رواحة فأثبت قدمه حتى أصيب شهيدا فاستغفروا له ، ثم أخذ اللواء خالد بن الوليد ولم يكن من الامراء هو آمر نفسه اللهم هم سيف من سيوفك فانصره انفروا فأمدوا إخوانكم ولا يتخلفن أحد (حم والدارمي ، ع ، حب ، ض - عن أبي قتادة).
29919 ۔۔۔ کیا میں تمہیں تمہارے لشکر کے اس غازی کے متعلق خبر نہ دوں ؟ یہ گھروں سے نکل کر چل پڑے تھے ، حتی کہ دشمن کے ساتھ ان کی مڈبھیڑ ہوگئی چنانچہ زید کو شہید کردیا گیا تم اس کے لیے استغفار کرو پھر جعفر بن ابی طالب نے جھنڈا لے لیا اس نے دشمن پر ٹوٹ کر حملہ کیا بالآخر وہ بھی شہید کردیا گیا میں اس کی شہادت پر گواہی دیتا ہوں تم اس کے لیے استغفار کرو اس کے بعد عبداللہ بن رواحہ نے جھنڈا لے لیا وہ بھی ثابت قدمی سے لڑتا رہا بالاخر وہ بھی شہید ہوگیا اس کے لیے بھی استغفار کرو پھر خالد بن ولید نے جھنڈا لے لیا حالانکہ وہ مقرر کئے ہوئے امراء میں سے نہیں تھا وہ اپنے تئیں امیر بنا ہے یا اللہ ! وہ تیری تلواروں میں سے ایک تلوار ہے اس کی مدد کر پھیل جاؤ اور اپنے بھائیوں کی مدد کرو اور کوئی بھی پیچھے نہ رہنے پائے ۔ (رواہ احمد بن حنبل والدارمی وابو یعلی وا ابن حبان والنصار عن ابی قتادہ (رض))