35358- عن ابن عباس أنه قيل لعمر بن الخطاب حدثنا عن شأن ساعة العسرة، فقال عمر: خرجنا إلى تبوك في قيظ شديد
فنزلنا منزلا أصابنا فيه عطش شديد حتى ظننا أن رقابنا ستنقطع حتى إن كان الرجل ليذهب يلتمس الرجل فلا يرجع حتى يظن أن رقبته ستنقطع حتى أن الرجل لينحر بعيره فيعصر فرثه فيشربه ويجعل ما بقي على كبده، فقال أبو بكر: يا رسول الله! إن الله قد عودك في الدعاء خيرا فادع الله لنا، قال: "أتحب ذلك"؟ قال: نعم، فرفع يديه فلم يرجعهما حتى قالت السماء فأظلت ثم سكبت فملؤا ما معهم، ثم ذهبنا ننظر فلم نجدها جاوزت العسكر. "البزار وابن جرير وجعفر الفريابي في دلائل النبوة وابن خزيمة، حب، ك وأبو نعيم، ق معا في الدلائل، ص".
35358 ۔۔۔ حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب (رض) سے عرض کیا گیا کہ آپ ہمیں تنگی کے وقت کی حالت کے بارے میں بتائیں تو حضرت عمر (رض) نے فرمایا ہم سخت گرمی کے عالم میں تبوک کی طرف نکلے ہم نے ایک جگہ میں پڑاو ڈالا تو ہمیں وہاں اتنی سخت پیاس لگی کہ ہم نے یہ گمان کیا کہ ہماری گردنیں کٹ جائیں گی یہاں تک ایک شخص پانی تلاش کرنے جاتا تو وہ واپس نہ آتا یہاں تک یہ گمان کیا جاتا کہ اس کی گردن منقطع ہوگئی اور کوئی اپنا اونٹ ذبح کرتا اور پھر اس کی اوجڑی کا گویر نچوڑتا اور پھر اس پینا اور جو بچ جاتا اس کو اپنی پہلو پر رکھتا ابوبکر (رض) نے یہ عرض کیا اے اللہ کے رسول اللہ تعالیٰ نے آپ سے دعا میں بھلائی کا وعدہ فرمایا ہے تو آپ اللہ سے ہمارے لیے دعا کیجئے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ آپ یہ پسند کرتے ہیں تو انھوں نے کہا جی ہاں پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے اور پھر واپس نہ کیسے یہاں تک آسمان مائل ہوا اور پھر ابرآلود ہوا اور پھر برساتو سب نے جو کچھ ان کے پاس تھا بھرلیا پھر ہم چلے گئے دیکھ رہے تھے۔ تو ہم نے اس کو نہ پایا۔ (البزار ابن جریرجعفر الفریابی دلائل النبوة ابن خزیمہ ابن حبان مستدرک حاکم ابو نعیم بیہقی اکٹھے دلائل میں سعید بن منصور )