35359- عن عمر قال: كنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في غزاة تبوك أصابنا جوع شديد فقلنا: يا رسول الله! إن العدو قد حضروهم شباع والناس جياع، فقالت الأنصار: ألا ننحر نواضحنا فنطعمها الناس؟ فقال النبي صلى الله عليه وسلم: "لا، بل يجيء كل رجل منكم بما في رحله" - وفي لفظ: من كان معه فضل طعام فليجيء به وبسط نطعما فجعل الرجل يجيء بالمد والصاع وأكثر وأقل، فكان جميع ما في الجيش بضعا وعشرين صاعا، فجلس النبي صلى الله عليه وسلم إلى جنبه ودعا بالبركة؛ ثم دعا الناس فقال: "بسم الله خذوا ولا تنتبهوا"، فجعل الرجل يأخذ في جرابه وفي غرارته، وأخذوا في أوعيتهم، حتى أن الرجل ليربط كم قميصه فيملؤه، ففرغوا والطعام كما هو، ثم قال النبي صلى الله عليه وسلم: أشهد أن لا إله إلا الله وأني رسول الله، لا يأتي بهما عبد محق إلا وقاه الله حر النار. "ابن راهويه والعدني، ع والحاكم في الكنى وجعفر الفريابي في دلائل النبوة".
35359 ۔۔۔ حضرت عمر (رض) سے روایت ہے فرمایا ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ غزوہ تبوک میں تھے اس میں سخت بھوک لگی تو ہم نے عرض کیا اے اللہ کے رسول دشمن آئے ہیں اور وہ شکم سیر بیں اور لوگ بھوکے ہیں تو ایضاء نے کہا کیا ہم اپنے اونٹ ذبح کرکے لوگوں کو نہ کھلائیں ؟ تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نہیں بلکہ تم میں سے ہر شخص جو کچھ اس کے کجاوے میں اور ایک روایت کے مطابق جو کچھ بچاہواکھانا ہے وہ اس کو لے آئے اور دسترخوان بچھایا پھر ہر شخص لائے گا مرصاع زیادہ اور کم تو جو کچھ لشکر کے پاس تھا وہ 2423 صاع کے قریب تھا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کے پہلو کی طرف بیٹھ گئے اور برکت کی دعا کی اور لوگوں کو بلایا پھر فرمایا اللہ کے نام کے ساتھ لو اور چکو نہیں پھر ہر شخص اپنے مشکیزے اور ہاتھ میں لینے لگا اور لوگوں نے اپنے برتنوں میں لے لیا حتی کہ ایک شخص اپنی قمیص کی آستیں باندھ لیتا اور اس کو بھر دیں تو لوگ فارغ ہوگئے اور کھانا اسی طرح رہا جیسا کہ تھا پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں کہا گواہی دینا ہوں اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں ان کے پاس کوئی حق والا بندہ نہ آئے گا مگر اللہ تعالیٰ اس کو جہنم کی گرہن سے بچائیں گے ۔ (ابن راھویہ العدنی ابویعلی الحاکم الکنی جعفر الفریانی دلائل النبوة)