hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 35373

.

كنز العمال

35373
Kanz al-Ummal
35364- عن عمر أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان في محفل من أصحابه إذ جاء أعرابي من بني سليم قد صاد ضبا وجعله في كمه ليذهب به إلى رحله فيشويه ويأكله، فلما رأى الجماعة قال: ما هذه؟ قالوا: هذا الذي يذكر أنه نبي فجاء حتى شق الناس، فقال: واللات والعزى! ما اشتملت النساء على ذي لهجة أبغض إلي منك ولا أمقت، ولولا أن تسميني قومي عجولا لعجلت إليك فقتلتك فسررت بقتلك الأحمر والأسود والأبيض وغيرهم، فقلت: يا رسول الله! دعني فأقوم فأقتله! فقال: يا عمر! أما علمت أن الحليم كاد أن يكون نبيا؟ ثم أقبل على الأعرابي فقال: ما حملك على أن قلت ما قلت - وقلت غير الحق ولم تكرم مجلسي؟ قال: وتكلمني أيضا - استخفافا برسول الله صلى الله عليه وسلم؟ واللات والعزى!. لا أومن بك أو يؤمن بك هذا الضب، فأخرج الضب من كمه وطرحه بين يدي رسول الله صلى الله عليه وسلم وقال: إن آمن بك هذا الضب آمنت بك فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم يا ضب! فأجابه الضب بلسان عربي مبين يسمعه القوم جميعا: لبيك وسعديك يا زين من وافى القيامة! قال: من تعبد يا ضب؟ قال: الذي في السماء عرشه، وفي الأرض سلطانه وفي البحر سبيله وفي الجنة رحمته وفي النار عذابه، قال: فمن أنا يا ضب؟ قال: أنت رسول رب العالمين وخاتم النبيين، وقد أفلح من صدقك وقد خاب من كذبك، قال الأعرابي: لا أتبع أثرا بعد عين، والله لقد جئتك وما على ظهر الأرض أحد أبغض إلي منك وإنك اليوم أحب إلي من والدي ونفسي وإني لأحبك بداخلي وخارجي وسري وعلانيتي، أشهد أن لا إله إلا الله وأنك رسول الله، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: الحمد لله الذي هداك إلى هذا الدين الذي يعلو ولا يعلى، ولا يقبله الله إلا بصلاة ولا يقبل الصلاة إلا بقرآن، قال: فعلمني، فعلمه رسول الله صلى الله عليه وسلم {الْحَمْدُ} و {قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ} ، قال: زدني يا رسول الله! فما سمعت في البسيط ولا في الرجز أحسن من هذا، قال: يا أعرابي! إن هذا كلام رب العالمين وليس بشعر، وإنك إذا قرأت {قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ} مرة كان لك كأجر من قرأ ثلث القرآن، وإن قرأت: {قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ} مرتين كان لك كأجر من قرأ ثلثي القرآن؛ وإن قرأت: {قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ} ثلاث مرات كان كان لك كأجر من قرأ القرآن كله، فقال الأعرابي: نعم الإله إلهنا، يقبل اليسير ويعطي الجزيل، فقال: رسول الله صلى الله عليه وسلم: ألك مال؟ قال: ما في بني سليم قاطبة رجل هو أفقر مني، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم لأصحابه: أعطوه، فأعطوه حتى أبطروه، فقام عبد الرحمن بن عوف فقال: يا رسول الله! إن عندي ناقة عشراء دون البختي وفوق الأعرابي تلحق ولا تلحق، أهديت إلي يوم تبوك، أتقرب بها إلى الله وأدفعها إلى الأعرابي؟ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: قد وصفت ناقتك، وأصف لك ما عند الله جزاء يوم القيامة، قال: نعم، قال: لك ناقة من درة جوفاء قوائمها من زمرد أخضر وعنقها من زبرجد أصفر، عليها هودج وعلى الهودج السندس والإستبرق تمر بك على الصراط كالبرق الخاطف يغبطك بها كل من رآك يوم القيامة، فقال عبد الرحمن: قد رضيت. فخرج الأعرابي من عند رسول الله صلى الله عليه وسلم فلقيه ألف أعرابي من بني سليم على ألف دابة معهم ألف سيف وألف رمح، فقال لهم: أين تريدون؟ فقالوا: نذهب إلى هذا الذي سفه آلهتنا فنقتله، فقال: لا تفعلوا، أنا أشهد أن لا إله إلا الله وأن محمدا رسول الله، فقالوا له: صبوت، فقال: ما صبوت - وحدثهم الحديث، فقالوا بأجمعهم: لا إله إلا الله محمد رسول الله، فبلغ ذلك النبي صلى الله عليه وسلم فتلقاهم في رداء فنزلوا عن ركابهم يقبلون ما رأوه منه وهم يقولون: لا إله إلا الله محمد رسول الله، ثم قالوا: يا رسول الله مرنا بأمراء قال: كونوا تحت راية خالد بن الوليد، فليس أحد من العرب آمن منهم ألف جميعا إلا بنو سليم. "طس وقال: تفرد به محمد بن علي بن الوليد السلمى، عد، ك في المعجزات وأبو نعيم، ق معا في الدلائل، كر؛ وقال هق: الحمل فيه على السلمى، قال: وروى ذلك من حديث عائشة وأبي هريرة وهذا أمثل الأسانيد فيه، قال ابن دحية في الخصائص: هذا خبر موضوع، وقال الذهبي في الميزان: هذا خبر باطل، وقال الحافظ ابن حجر في اللسان: السلمى روى عنه الإسماعيلي في معجمه وقال: منكر الحديث".
35364 ۔۔۔ حضرت عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے صحابہ کرام (رض) کی محفل میں تھے توبنو سلیم کا ایک دیہاتی آیا اس نے ایک گوشکار کی تھی اور اس کو اپنی آستیں رکھا ہوا تھا تاکہ اپنے کی طرف لے جائے اور بھون کر کھالے جب اس نے جماعت کو دیکھا تو اس نے کہا : یہ کیا ہے لوگوں نے کہا : یہ وہ ہے جس کے بارے میں ذکر کیا جاتا ہے کہ وہ نبی ہے پھر وہ لوگوں کو چیرتاہو آیا اور کہا : لات اور عزی کی قسم عورتوں نے جتنوں کو جنا ان میں آپ سے زیادہ ناپسندید اور مبغوض نہیں اگر یہ بات نہ ہوتی کہ میری قوم مجھے جلد با ز کہے گی تو میں جلدی کرتا ہے اور آپ کو قتل کردیتاتو میں سرخ سیاہ اور ان کے علاوہ لوگوں کو آپ کے قتل سے خوش کردیتاتو میں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! مجھے چھوڑیں میں کھڑ آ ہوں اور اس کو قتل کردوں ! تو فرمایا : اے عمر ! کیا آپ نے یہ نہیں سنا کہ بردبار قریب ہے کہ نبی بن جائے ، پھر اعرابی کی طرف متوجہ ہوئے فرمایا : آپ کو کس نے ان باتوں پر ابھار جو آپ نے کہیں اور آپ نے درست نہ کہا اور مجلس کا اکرام نہ کیا ؟ اس نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ استخفاف اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے پھینک دیا اور کہا : یہ گو اگر آپ پر ایمان لے آئے تو میں بھی ایمان لے آؤں گا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے گو ! تو گونے واضح عبی زمین میں جواب دیا سارے لوگ سن رہے تھے میں حاضر ہوں اور آپ سے نیک سبق چاہتی ہوں اے قیامت کو پورا کرنے والے کی زنیت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے گو ! تو کس کی عبادت کرتی ہے ؟ تو اس نے کہا : اس ذات کی جس کا عرش آسمان میں ہے اور جس کی بادشاہت زمین میں اور جس راستہ سمندر میں ہے جس کی رحمت جنت میں ہے جس کا عذاب جہنم میں ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تو میں کون ہوں اے گو آپ تمام جہانوں کے رب کے پیغمبر اور خاتم النبیین ہیں اور وہ شخص کامیاب ہے جس نے آپ کی تصدیق کی اور وہ شخص نقصان میں ہے جس نے آپ کی تکذیب کی دیہاتی نے کہا : مشاہدہ کے بعدپیچھے نہیں ہٹوں گا اللہ کی قسم ! میں آپ کے پاس اس حال میں آیا کہ روئے زمین پر مجھے آپ سے زیادہ مبغوض کوئی نہ تھا اور آپ آج مجھے میرے والد اور میرے نفس سے بھی زیادہ محبوب ہیں میں آپ سے زندہ باہر پوشیدہ اور ظاہر(ہر طرح ) محبت رکھتا ہوں میں اس بات کی گواہی دیتاہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور آپ اللہ کے رسول ہیں تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے جس نے آپ کو اس دین کی طرف ہدایت دی جو دین غالب ہوگا مغلوب نہیں، اور اس دین کو اللہ نماز نے بغیر قبول نہیں کرتا اور نماز بغیر قرآن کے قبول نہیں کرتا تو اس نے عرض کیا : آپ نے مجھے سکھا دیں پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو الحمد اور قل ھو اللہ احد سکھائی اس نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول اور سکھائیں میں مفصل اور مجمل کلام میں اس سے خوبصورت کلام کوئی نہیں سناتو فرمایا اے دیہائی یہ تمام جہانوں کے رب کا کلام ہے اور شعر نہیں ہے اور جب آپ قل ھو اللہ احد ایک مرتبہ پڑھیں گے تو آپ کے لیے اس شخص کے اجر کے مثل ہے جو قران کا تہائی پڑھے، اور اگر قل ھو اللہ احد دو مرتبہ پڑھیں تو آپ کے لیے اس شخص کے اج کے مثل ہے جو قرآن کے دوتہائی قرآن پڑھے اور اگر آپ قل ھو اللہ احدتین مرتبہ پڑھیں تو آپ کے لیے اس شخص کے اجر کے مثل ہے جو پورا قرآن پڑھے ، تو دیہاتی نے کہا جی ہاں ! معبود تو ہمارا معبود ہے تھوڑا عمل قول کرتا ہے اور عطاء کثیر دیتے ہیں تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا آپ کے پاس مال ہے ؟ اس نے عرض کیا : پورے نبی سلیم میں کوئی شخص مجھ سے زیادہ محتاج نہیں ہٹے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے صحابہ کرام (رض) سے فرمایا ان کو دو تو انھوں نے ان کو دیا یہاں تک کہ ان کو حیران کردیا عبدالرحمن بن عوف (رض) اٹھے اور عرض کیا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرے پاس اس سالہ اونٹنی ہے نجتی سے کم اور اعرابی سے اوپر خود ملتی ہے ملایا نہیں جاتا مجھے تبوک کے دن حد یہ کی گئی، اس کے ذریعہ میں اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنا چاہتا ہوں اور دیہاتی کو دیتا ہوں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : آپ نے اپنی اونٹنی کی صفات بیان کیں : میں آپ کو اس اجر کے۔ اوصاف بیان کرتا ہوں جو اللہ تعالیٰ کے پاس قیامت کے دن آپ کے لیے ہوگا عرض کیا : جی ہاں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : آپ کے لیے ایک اونٹنی ہے جو کشادہ خوف والی موٹے کی جس کی ٹانگیں سبز زمزد کی گردن زرد نر برجد کی اس پر ایک ہودہ ہے اور ہودہ پر بار یک اور موٹا ریشم ہے جو آپ کو پلک جھپکتی بجلی کی طرح صراط سے لے کر گذرے گی قیامت ہر دیکھنے والا اس کی وجہ سے آپ رشک کرے گا تو عبدالرحمن بن عوف نے عرض کیا : میں راضی ہوچکا پھر دیہاتی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس سے نکلا اس کو نبی سلیم کے ایک ہزار دیہاتی ہزار سوار پر ملے جن کے پاس ہزار تلواریں اور ہزار نیزے تھے اس نے اس سے کہا : کہا جانے کا ارادہ رکھتے ہو ؟ انھوں نے کہا ہم اس کے پاس جارہے ہیں جس نے ہمارے معبودوں براکہا ہے ہم اس کو قتل کریں گے تو اس نے کہا مت کرو ! میں اس بات کی گواہی دیتاہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور مجھ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں، انھوں نے اس سے کہا : تو صابی ہوگیا اس نے کہا : میں صابی نہیں ہوا اور انکوسارا قصہ سنایا تو سب نے اکٹھے کہا : لہ الہ الا اللہ محمدرسول اللہ یہ بات رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پہنچی پھر آپ نے ان سے رداء میں ملاقات کی وہ اپنے جانوروں سے اترگئے اس بات کو قبول کرتے ہوئے جو انھوں نے اس سے دیکھی اور وہ کہہ رہے تھے : لاالہ الا اللہ محمدرسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پھر انھوں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمیں امراء کے بارے میں حکم دیں : تو آپ نے فرمایا : تم سب خالد بن الولید (رض) کے جھنڈے کے نیچے ہوجاؤ عرب میں سے کوئی بھی بنوسلیم کے علاوہ پورے ہزار ایک ساتھ ایمان نہ لائے (طبرانی اوسط اس حدیث کے ساتھ محمد بن علی بن لولید اسلمی متفرد ہے ابن عدی کامل مستدرک حاکم معجزات ابونعیم بیہقی اکٹھے ابالدئل میں تاریخ ابن عساکر اور کہا حق نے اس کا حمل اسلمی پر ہے فرمایا یہ حدیث عائشہ (رض) اور ابوہریرہ (رض) کی حدیث سے بھی مروی ہے اور اس میں امثل ان سانید ہے خصائص میں ابن وحیہ نے فرمایا : یہ خبر موضوع ہے اور میزان میں ذھبی نے فرمایا : یہ خبرباطل ہے لسان میں حافظ ابن الحجر نے فرمایا : الاسماعیلی نے اپنی معجم میں سلمی سے روایت کیا اور کہا منکرالحدیث ہے)