hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 35374

.

كنز العمال

35374
Kanz al-Ummal
35365- "مسند عمر" عن ابن عمر قال: كتب عمر بن الخطاب إلى سعد بن أبي وقاص وهو بالقادسية أن وجه نضلة بن معاوية إلى حلوان العراق فليغر على ضواحيها فوجه سعد نضلة في ثلاثمائة فارس، فخرجوا حتى أتوا حلوان فأغاروا على ضواحيها فأصابوا غنيمة وسبيا، فأقبلوا يسوقون الغنيمة والسبي حتى إذا رهقهم العصر وكادت الشمس أن تؤوب فألجأ نضلة الغنيمة والسبي إلى سفح جبل ثم قام فأذن فقال: الله أكبر الله أكبر، فإذا مجيب من الجبل يجيبه: كبرت كبيرا يا نضلة! قال: أشهد أن لا إله إلا الله، قال: كلمة الإخلاص يا نضلة! قال: أشهد أن محمدا رسول الله، قال: هو النذير وهو الذي بشرنا به عيسى ابن مريم وعلى رأس أمته تقوم الساعة، قال: حي على الصلاة، قال: طوبى لمن مشى إليها وواظب عليها قال: حي على الفلاح - قال: أفلح من أجاب محمدا، فلما قال: الله أكبر الله أكبر لا إله إلا الله - قال: أخلصت الإخلاص كله يا نضلة! فحرم الله بها جسدك على النار، فلما فرغ من أذانه قمنا فقلنا له: من أنت - يرحمك الله؟ أملك أنت أم ساكن من الجن أم طائف من عباد الله أسمعتنا صوتك؟ فأرنا صورتك فأنا وفد الله ووفد رسول الله ووفد عمر بن الخطاب، فانفلق الجبل عن هامة كالرحا أبيض الرأس واللحية، عليه طمران من صوف، فقال: السلام عليكم ورحمة الله، قلنا: وعليك السلام ورحمة الله، من أنت - يرحمك الله؟ قال: أنا زريب بن ثرملة وصي العبد الصالح عيسى ابن مريم، أسكنني هذا الجبل ودعا لي بطول البقاء إلى نزوله من السماء، فيقتل الخنزير ويكسر الصليب ويتبرأ مما نحلته النصارى، فأما إذ فاتني لقاء محمد فأقرؤا عمر مني السلام وقولوا له: يا عمر! سدد وقارب فقد دنا الأمر، وأخبروه بهذه الخصال التي أخبركم بها، يا عمر! إذا ظهرت هذه الخصال في أمة محمد فالهرب الهرب: إذا استغنى الرجال بالرجال والنساء بالنساء، وانتسبوا من غير مناسبة وانتموا إلى غير مواليهم، ولم يرحم كبيرهم صغيرهم، ولم يوقر صغيرهم كبيرهم، وترك المعروف فلم يؤمر به، وترك المنكر فلم ينه عنه، وتعلم عالمهم العلم فيجلب به الدنانير والدراهم، وكان المطر قيظا والولد غيضا وطولوا المنازل، وفضضوا المصاحف، وزخرفوا المساجد، وأظهروا الرشا وشيدوا البناء، واتبعوا الهوى، وباعوا الدين بالدنيا، واستخفوا بالدماء، وقطعت الأرحام، وبيع الحكم، وأكل الربوا فخرا، وصار الغنى عزا، وخرج الرجل من بيته فقام إليه من هو خير منه فسلم عليه، وركب النساء السروج. ثم غاب عنا، فكتب بذلك نضلة إلى سعد، فكتب سعد إلى عمر، فكتب عمر إلى سعد: لله أبوك! سر أنت ومن معك من المهاجرين والأنصار حتى تنزل هذا الجبل، فإن لقيته فأقرئه مني السلام، فإن رسول الله صلى الله عليه وسلم أخبرنا أن بعض أوصياء عيسى ابن مريم نزل ذلك الجبل ناحية العراق فخرج سعد في أربعة آلاف من المهاجرين والأنصار حتى نزلوا ذلك الجبل أربعين يوما ينادي بالأذان وقت كل صلاة فلا جواب. "قط في غرائب مالك وقال: لا يثبت؛ وق في الدلائل وقال: ضعيف بمرة، خط في رواة مالك وقال: منكر".
35365 ۔۔۔ (مسندعمر (رض)) عبداللہ بن عمر (رض) سے مروی ہے حضرت عمربن الخطاب (رض) نے سعد بن ابی وقاص (رض) جب وہ قادسیہ میں تھے لکھا کہ نصلہ بن معاویہ کو حلوان العراق کی طرف بھیجیں کہ وہ اس کے کناروں پر حملہ کریں تو سعد (رض) نے نصلہ کو متوجہ کردیا تین سوشہسواروں کے ساتھ تو وہ لوگ نکلے یہاں تک حلوان پہنچ گئے اور اس کے کناروں پر حملہ کردیا اور ان کو غنیمت اور قیدی ملے تو وہ لوگ غنیمت اور قیدیوں کو لے کر چلنے لگے یہاں تک کہ عصر ختم ہونے لگا اور سورج غروب کے قریب ہوگیا تو نصلہ نے غنیمت اور قیدیوں کو پہاڑ کے دامن میں کردیا اور کھڑے ہو کر اذان دی جب انھوں نے اللہ اکبر اللہ اکبر کہا تو پہاڑ سے ایک جو ابد ینے والے نے جواب دینا شروع کیا : اے نصلہ ! تو بڑی ذات کی بڑھائی بیان کی انھوں نے کہا : اشھدن لاالہ الا اللہ اس نے کہا : اے نصلہ : یہ اخلاص ہے انھوں نے کہا : اشھد ان محمد رسول اللہ ! اس نے کہا ھوڈرانے والے ہیں آور وہ و ہیں جن کی خوشخبری ہمیں عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام ) نے دی اور ان کی امت پر قیامت قائم ہوگی انھوں نے کہا : حی علی ارصلاة اس نے کہا خوشخبری ہو اس کے لیے جس جو اس کی طرف چلا اور اس پر ہمیشگی کی ، انھوں نے کہا : حی علی الفلاح، اس نے کہا : وہ شخص کامیاب ہوا جس نے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو قبول کیا انھوں نے کہا : اللہ اکبر لاالہ الا اللہ اس نے کہا : اے نصلہ توپوراپورا خالص کردیا : اس کی وجہ سے اللہ نے تیرا جسم آگ پر حرام کردیا جب وہ اپنی اذان سے فارغ ہوئے ہم کھڑے ہوئے ہم نے اس سے کہا : آپ کون ہیں ؟ اللہ آپ پر رحم کرے ۔ کیا فرشتے ہیں ؟ یا جنوں میں سے رہنے والے یا اللہ کے بندوں میں طائف ؟ آپ نے اپنی آواز سنا دی آپ اپنی صورت بھی دکھائیں اس لیے کہ ہم وفد اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے وفد اور عمر بن خطاب (رض) کے وفد ہیں تو اوپر سے پہاڑ پھٹا ین چکی کی طرح سفید سر اور ڈاڑھی والا اس پر اون کے دوپرانے کپڑے تھے اس نے کہا : السلام ورحمتہ اللہ اہم نے کہا : وعلیک السلام ورحمتہ اللہ ! آپ کون ہیں ؟ اللہ آپ پر رحم فرمائے اس نے کہا : میں زریب بن ترملہ نیک بندے عیسیٰ ابن مریم (علیہ السلام) کا وصی ہوں انھوں نے مجھے اس پہاڑ میں ٹھہرایا اور میرے لیے درازی عمر کی دعا کی ان کے آسمان سے اترنے تک پھر وہ خنزیر کو قتل کریں اور صلیب کو توڑیں گے مجھ سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ملاقات فوت ہوگئی تو میری طرف سے عمر (رض) کو سلام کہو اور ان سے کہو اے عمر ! درست رہیں اور ابں کے قریب رہیں اس لیے کہ قیامت قریب ہوگئی اور وہ باتیں بتادیں بتادو جو تم کو بتارہا ہوں اے عمر (رض) پر جب یہ باتیں محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی امت ظاہر ہوں گی تو فساد ہی فساد ہوگا جب مرد مرد سے عورتیں عورتوں سے مستغن ہوجائیں گے اور بغیر مناسبت کریں گے اور آپنے آباؤں کے علاوہ کی عرف نسبت کریں گے اور نہ ان کا بڑا چھوٹوں پر شفقت کرے گا اور نہ ان کا چھوٹا اپنے بڑوں کی عزت کرے گا اور نیکی کو چھوڑ دیا جائے اور اس کا حکم نہیں دیا جائے اور گناہ کو چھوڑ دیا جائے گا اور اس سے روکا نہ جائے اور ان کا علما علم دیناروں اور درھموں کے لیے علم حاصل کرے گا اور بارش ماند اور بچے ناتمام ہوں گے اور عمارتوں کو لمبا کریں گے اور مصاحف پرچاندیاں چڑھائیں گے اور مسجدوں میں سونا جڑیں گے اور رشوت کو ظاہر کریں گے اور عمارتوں کو بلند کریں گے اور خواہش کریں گے اور دین کو دینا کے بدلے بیچیں گے اور ناحق خون کرنے کو حقیر سمجھیں گے اور قطع رحمی ہوگی اور فیصلہ بیچا جائے گا اور فخر سے سودا کھایا جائے گا اور مالداری عزت ہوگی ایک شخص اپنے گھر سے نکلے اور اس سے بہتر اس کو کھڑا ہو کر سلام کرے گا اور عورتیں نرینوں پر سوار ہوں گی پھر وہ ہم سے غائب ہوگیا یہ باتیں نضلہ نے سعد (رض) کو لکھ کر بھیجیں پھر انھوں نے حضرت عمر (رض) اللہ تعالیٰ عنہ کو لکھ کر بھیجیں حضرت عمر (رض) نے حضرت سعد (رض) کو لکھا آپ اور آپ کے ساتھ مہاجرین اور انصار جائیں اور اس پہاڑ پر اتریں آپ کی ملاقات ان سے ہو تو میری طرف سے ان کو سلام کہیں اس لیے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں بتایا حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بعض وصی اس پہاڑ پر اتڑے ہیں عراق کے نواح میں تو حضرت سعد (رض) 4 ہزار مہاجرین اور انصار کے ساتھ تھے اور اس پہاڑ پر اترے ایک دن اور ہر نماز کے وقت اذان دی تو کوئی جواب نہ آیا دارقطنی غرائب مالک اور فرمایا : یہ ثابت نہیں بیہقی الدلائل اور فرمایا یہ ضعیف ہے مرة سے خطیب بغداد ۔ مالک اور فرمایا یہ منکر ہے اللآلی :771 ۔ 178 التنزیة :2391 ۔ 240