hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 35375

.

كنز العمال

35375
Kanz al-Ummal
35366- "مسند جبير بن مطعم" كنت أكره أذى قريش رسول الله صلى الله عليه وسلم فلما ظننت أنهم سيقتلونه خرجت حتى لحقت بدير من الديرات فذهب أهل الدير إلى رأسهم فأخبروه، فقال: أقيموا له حقه الذي ينبغي له ثلاثا، فلما مرت ثلاث رأوه لم يذهب، فانطلقوا إلى صاحبهم فأخبروه، فقال: قولوا له: قد أقمنا لك بحقك الذي ينبغي لك، فإن كنت وصبا فقد ذهب وصبك، وإن كنت واصلا فقد نالك أن تذهب إلى من تصل، وإن كنت تاجرا فقد نالك أن تخرج إلى تجارتك، فقلت: ما كنت تاجرا ولا واصلا وما أنا بنصب، فذهبوا إليه فأخبروه، فقال: إن له لشأنا فسلوه ما شأنه، فأتوني فسألوني، فقلت: لا والله! إلا أن في قرية إبراهيم ابن عمي يزعم أنه نبي وآذوه قومه وتخوفت أن يقتلوه فخرجت لئلا أشهد ذلك، فذهبوا إلى صاحبهم فأخبروه بقولي، قال: هلموا، فأتيته فقصصت عليه قصصي، فقال: تخاف أن يقتلوه؟ قلت: نعم، قال: وتعرف شبهه لو تراه مصورا؟ قلت: نعم، عهدي به منذ قريب، فأراني صورا مغطاة فجعل يكشف صورة صورة ثم يقول: أتعرف؟ فأقول: لا، حتى كشف صورة مغطاة، فقلت: ما رأيت شيئا أشبه بشيء من هذه الصورة به كأنه طوله وجسمه وبعد ما بين منكبيه، قال: فتخاف أن يقتلوه؟ قلت: أظنهم قد فرغوا من قتله، قال: والله! لا يقتلوه وليقتلن من يريد قتله: وإنه لنبي وليظهرنه الله، ولكن قد وجب حقك علينا فامكث ما بدا لك وادع بما شئت: فمكثت عندهم حينا ثم قلت: لو أطعتهم! فقدمت مكة فوجدتهم قد أخرجوا رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى المدينة، فلما قدمت قامت إلي قريش فقالوا: قد تبين لنا أمرك وعرفنا شأنك فهلم أموال الصبية التي عندك التي استودعكها أبوك، فقلت: ما كنت لأفعل هذا حتى تفرقوا بين رأسي وجسدي ولكن دعوني أذهب فأدفعها إليهم، فقالوا: إن عليك عهد الله وميثاقه أن لا تأكل من طعامه، فقدمت المدينة وقد بلغ رسول الله صلى الله عليه وسلم الخبر، فدخلت عليه فقال لي فيما يقول: إني لأراك جائعا، هلموا طعاما، قلت: لا آكل حتى أخبرك، فإن رأيت أن آكل أكلت، قال فحدثته بما أخذوا علي، قال: فأوف بعهد الله ولا تأكل من طعامنا ولا تشرب من شرابنا. "طب".
35366 ۔۔۔ میں قریش کے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تکلیف پہنچانے کو ناپسند سمجھتا تھا جب مجھے گمان ہوا کہ یہ لوگ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو قتل کردیں گے تو راہبوں کی جگہوں میں ایک جگہ چلا گیا تو وہ لوگ اپنے سردار کے پاس گئے اور اس کو بتایا تو اس نے کہا تین دین جوا س کا مناسب حق ہے اداء کرو ! تین دن گذ ر گئے تو انھوں نے دیکھا کہ گیا نہیں تو وہ اپنے سردار کے پاس گئے اور اس کو بتایا اس نے کہا اس سے کہو ! ہم نے آپ کا مناسب حق ادا کردیا اگر آپ کو بیماری تھی تو وہ ختم ہوگئی اگر آپ کسی سے ملنا چاہتے ہیں تو اس کے پاس چلے جائیں جس سے ملنا ہو اگر آپ تاجر ہیں تو آپ اپنی تجارت کے لیے چلے جائیں تو میں نے کہا : نہ میں تاجرہوں اور نہ کسی سے ملنا ہے نہ میں بیمارہوں پھر وہ اس کے پاس گئے اور اس کو بتایا تو اس نے کہا : اس کو کوئی معاملہ ہے اس سے پوچھا چھو کیا معاملہ ہے تو وہ میرے پاس آئے آور مجھ سے پوچھا تو میں نے کہا مگر بات یہ ہے کہ ابراہیم کی بستی میں میرا چچازاد یہ کہت ا ہے کہ وہ نبی ہے اور اس کی قوم اس کو ستاتی ہے مجھے یہ اندیشہ ہوا کہ وہ اس کو قتل کریں گے تو نکل پڑا تاکہ میں یہ منظر نہ دیکھو تو وہ دینے سردار کے پاس گئے اور اس کو میری بات بتائی تو اس نے کہا : اس کو لے آؤ میں ان کے پاس آیا اور اپنا قصہ بیان کیا اس نے کہا : آپ کو یہ اندیشہ ہے کہ وہ اس کو قتل کردیں گے میں نے کہا جی ہاں اس نے کہا : اس شیبھ آپ پہنچان سکتے ہیں آگر ان کی تصویر دیکھیں ، میں نے کہا جی ہاں میرا زمانہ اس کے ساتھ نزدیک سے ہے تو اس نے مجھے ایک ڈھکی ہوئی صورتیں دکھائیں اور ایک ایک صورت کھولتا رہا پھر کہتا آپ پہنچانتے ہیں ؟ میں کہتا نہیں یہاں تک کہ الگ صورت اس نے کھولی تو میں نے کہا : کوئی چیز اس چیز سے اس کے ساتھ زیادہ مشابہ میں نے نہیں دیکھی ، گویا کہ اس کو لمبائی اور اس کا جسم اور اس کے کندھوں کے درمیان فاصلہ ( اس کے مشابہ ہے) ۔ اس نے کہا : آپ اس کے اندیشہ کرتے ہیں کہ وہ اس کو قتل کردیں گے ؟ میں نے کہا : میں تو یہ سمجھتا ہوں کہ وہ قتل سے فارغ ہوگئے ہوں گے اس نے کہا : اللہ کی قسم وہ اس کو قتل نہ کریں گے اور وہ شخص ضرور قتل ہوگا جو اس کے قتل کا ارادہ کرے گا یہ تو نبی ہے اللہ اس کو ضرور غالب کرے گا اور لیکن آپ کا حق ہم پر ضروری ہوچکا توجتنا چاہیں آپ ٹھڑے رہیں اور جاجو چاہیں مانگیں پھر میں ان کے پس کچھ وقت رہا پھر میں نے کہا : اگر میں امانی اطاعت کروں تو میں مکہ آیا میں دیکھا انھوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مدنیہ کی طرف نکال دیاتو جب میں پہنچا تو میرے پاس قریش کھڑے ہوگئے اور کہنے لگے ہمارے سامنے آپ کی بات ظاہر ہوچکی ہے اور آپ حالت ہم پہچان لی ہے تو آپ اس بچی کے مال ہم میں دیہ ہے جو آپ کے پاس ہے اور آپ کے والد نے وہ آپ امانت دی ہے ، تو میں نے کہا : میں ایساہرگز نہیں کروں گا حتی کہ وہ لوگ میرے سر اور میرے جسم کو جدا کردیں، لیکن مجھے چھوڑدو میں جاؤں گا اور ان وہ حوالے کروں گا تو انھوں نے کہا : آپ پر اللہ کا عہد اور وعدہ ہے کہ آپ اس کا کھانا نہ کھائیں گے تو میں مدینہ آیا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بات پہنچ گئی میں خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے مجھ سے فرمایا ان باتوں میں جو آپ فرما رہے تھے میں آپ کو بھوکا سمجھ رہاہوں کھانا لے آؤ میں نے عرض کیا : میں کھاؤں گا نہیں یہاں تک کہ آپ کو پوری بات بتادوں پھر ا کر آپ مناسب سمجھیں تو میں کھالوں گا فرمایا کہ میں نے آپ کو وہ عہد بتادیں جو انھوں نے مجھ سے لیا تھا تو آپ نے فرمایا : اللہ کے وعدے کو پورا کرو ! اور دمارعا کھانا نہ کھائیں اور نہ ہمارا پانی پئیں ۔ (طبرانی)