35367- عن جبير بن مطعم عن ابن عمر قال: ما سمعت عمر ابن الخطاب يقول لشيء قط: إني لأظن كذا وكذا، إلا كان كما يظن، بينا عمر جالس إذ مر به رجل جميل، فقال له: أخطأ ظني أو أنك على دينك في الجاهلية أو لقد كنت كاهنهم؟ وما رأيت كاليوم استقبل به رجل مسلم، قال عمر: فإني أعزم عليك إلا أخبرتني، قال: كنت كاهنهم في الجاهلية، قال: فما أعجبك ما جاءتك به جنيتك؟ قال: بينا أنا يوما في شرف جاءتني أعرف فيها الفزع قالت:ألم تر الجن وإبلاسها ... ويأسها من بعد انكاسها ولحوقها بالقلاص وأحلاسها
قال عمر: صدق، بينا أنا نائم عند آلهتهم إذ جاء رجل بعجل فذبحه فصرخ به صارخ لم أسمع صارخا قط أشد صوتا منه يقول: يا جليح! أمر نجيح رجل فصيح يقول: لا إله إلا الله؛ فوثب القوم، قلت: لا أبرح حتى أعلم ما وراء هذا، ثم نادى كذلك الثانية والثالثة، فقمت فما نشبت أن قيل: هذا نبي. "خ، ك، ق في الدلائل".
35367 ۔۔۔ حضرت جبیر بن مطعم (رض) سے روایت ہے وہ ابن عمر (رض) سے روایت کرتے ہیں انھوں نے فرمایا میں نے عمر بن خطاب (رض) سے کوئی بات نہیں سنی جس کے بارے میں وہ کہتے ہوں میں اس طرح گمان کرتا ہوں مگر وہ اسی طرح ہوئی جس طرح انھوں نے فرمایا : ایک دفعہ عمر (رض) بیٹھے ہوئے تھے ان کے پاس سے ایک خوبصورت آدمی گذرا تو انھوں نے آس سے فرمایا : میرا گمان غلط ہے : کیا آپ جاہلیت میں اپنے دین پر تھے یا آپ ان کے کاھن تھے ؟ اور میں نے آج کے دن کی طرح کوئی دن نہ دیکھا جس میں کوئی مسلمان آدمی آیاہو حضرت عمر (رض) نے فرمایا : میں آپ کو تم دیتا ہوں اگر آپ نہ بتائیں ! اس نے کہ کہا : جاہلیت میں ان کا کاھن تھا فرمایا : آپ کے پس جو جنیہ آتی تھی اس کی کونسی بات عجیب لگی ؟ اس نے کہا : اسی دوران میں چبوترے پر سویا ہوا تھا وہ میرے پاس آئی اور گھبراہٹ ظاہر تھی اس نے ہاتھ کیا آپ نے جنوں کے حقر اور ان کے واپس آنے کے بعد کی مایوسی کو اور ان کے اونیوں اور اس کی چادر سے منے کو نہ دیکھاعمر (رض) نے فرمایا : سچ کہا ایک دفہع میں اپنے الہیہ کے پاس سو رہا تھا تو ایک آدمی بچھڑا لے کر آیا پھر اس کو ذبح کیا پھر ایک چیخنے والے نے چیخ لگائی میں نے کبھی بھی اس سے سخت آواز چیخنے والے کی نہیں سنی کہہ رہا تھا اے خلیج کامیاب کام ہے وضاحت والا آدمی کہتا ہے : لا الہ الا اللہ تو لوگ گود پرے تو میں نے کہا : میں اسی طرح رہوں گا یہاں تک میں وہ جان لوں جو کچھ آواز کے پیچھے ہے پھر اس طرح دوسری اور تیسری مرتبہ پکارا تو میں کھڑا ہوا تو نیچے نہیں ہوا کہ کہا گیا یہ بہتی ہے بخاری مستدرک خاکم بیہقی الدلدئل۔