35368- عن إبراهيم النخعي قال: خرج نفر من أصحاب عبد الله يريدون الحج حتى إذا كانوا ببعض الطريق إذا هم بحية تنثني على الطريق أبيض تنفخ منه ريح المسك، فقلت لأصحابي: امضوا فلست ببارح حتى أنظر إلى ما يصير أمر هذه الحية، فما لبثت أن ماتت، فعمدت إلى خرقة بيضاء فلففتها فيها، ثم نحيتها عن الطريق فدفنتها وأدركت أصحابي، فوالله! إنا لقعود إذ أقبل أربع نسوة من قبل المغرب فقالت واحدة منهن: أيكم دفن عمرا؟ قلنا: ومن عمرو؟ قالت: أيكم دفن الحية؟ قلت: أنا، قالت: أما والله! لقد دفنت صواما قواما يأمر بما أنزل الله، ولقد آمن بنبيكم، وسمع صفته في السماء قبل أن يبعث بأربعمائة سنة، فحمدنا الله ثم قضينا حجنا، ثم مررت بعمر بن الخطاب بالمدينة فأنبأته بأمر الحية، فقال: صدقت، سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: لقد آمن بي قبل أن أبعث بأربعمائة سنة. "أبو نعيم في الدلائل".
35368 ۔۔۔ ابراہیم نخعی سے روایت ہے انھوں نے فرمایا کہ عبداللہ کے ساتھیوں کی ایک جماعت حج کے ارادہ سے نقل یہاں تک کہ جب وہ راستے کے بعض حصے ہی تھے تو ان کو ایک سانپ ملا جو راستے پر بل رکھا تھا سفید رنگ کا جس سے شک کی میک پھوٹ رہی تھی تو میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا چلو میں جاؤں گا یہاں تک کہ میں اس بات کو دیکھ لوں جس کی طرف اس سانپ کا معاملہ پھرتا ہے پھر میں ویں رہا کہ وہ مرگیا پھر میں نے سفید کپڑا لیا اس کو اس میں لپیٹا پھر میں نے اس کو رستے سے ہٹایا پھر میں نے اس کو دفن کردیا تو میں نے اپنے ساتھیوں کو پالیا تو اللہ کی قسم ہم بیٹھے ہوئے تھے تو چار عورتیں مغرب کی جانب سے آئیں تو ان میں سے ایک نے کہا تم میں سے کس نے عمروکودفن کیا ؟ تو ہم نے کہا عمروکون ہے ؟ تو اس نے کہا تم میں سے کس نے سانپ کو دفن کیا میں نے کہا میں نے اس سے کہا اللہ کی قسم آپ نے بہت زیادہ روزہ رکھنے والے بہت زیادہ شب بیدار کو دفن کیا جو اس بات کا حکم دیتا تھا جس کو اللہ نے اتارا اور وہ تمہارے نبی پر ایم ن لاچکا تھا اور وہ ان کے اوصاف آسمان میں بعثت سے چار سو سال قبل سن چکا تھا تو ہم نے اللہ کی تعریف کی بھر ہم نے اپنا حج ادا کیا پھر میں مدینہ میں عمربن خطاب کے پاس سے گزراتو میں نے ان کو سانپ کا معاملہ بتایا تو انھوں نے فرمایا آپ نے سچ کہا میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے ہوئے سنا کہ وہ مجھ پر میری بعثت سے چار سو سال قبل ایمان لاچکا ہے۔ (ابونعیم الدلائل)