35408- عن أبي ذر قال: قلت: يا رسول الله! كيف علمت أنك نبي حتى علمت ذلك واستيقنت أنك نبي؟ قال: " يا أبا ذر! أتاني ملكان وأنا ببعض بطحاء مكة فوقع أحدهما بالأرض وكان الآخر بين السماء والأرض، فقال أحدهما لصاحبه: أهو هو؟ قال: هو هو، فقال: زنه برجل، فوزنت برجل فرجحته، ثم قال: زنه بعشرة، فوزناني بعشرة فوزنتهم، ثم قال: زنه بمائة، فوزناني بمائة فرجحتهم، ثم قال: زنه بألف، فوزناني بألف فرجحتهم، فجعلوا ينتثرون علي من كفة الميزان، فقال أحدهما للآخر: لو وزنته بأمته لرجحها، ثم قال أحدهما لصاحبه: شق بطنه، فشق بطني، ثم قال أحدهما لصاحبه: أخرج قلبه، فشق قلبي فأخرج منه مغمز الشيطان وعلق الدم فطرحهما، ثم قال أحدهما للآخر: اغسل بطنه غسل الإناء واغسل قلبه غسل الملاء ثم دعى بسكينة كأنها برهرهة بيضاء فأدخلت قلبي، ثم قال أحدهما لصاحبه: خط بطنه، فخاط بطني فجعلا الخاتم بين كتفي، فما هو إلا أن وليا عني فكأنما أعاين الأمر معاينة. " الدارمي والروياني والحباني في فوائده، كر وابن النجار، ص - عن سويد بن يزيد العمى ".
35408 ۔۔۔ ابوذر فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا رسول اللہ آپ کو کیسے معلوم ہوا کہ آپ نبی ہیں حتی کہ آپ کو اپنے نبی ہونے کا یقین ہوگیا ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اے ابوذر میرے پاس دو فرشتے آتے اور میں مکہ کی کسی پتھریلی جگہ تھا یمن سے ایک فرشتہ زمین پر آیا اور دوسرا آسمان اور زمین کے درمیان فضا میں رہا پھر ایک نے دوسرے سے پوچھا کیا وہ بندہ یہی ہے دوسرے نے کہا ہاں یہی وہ بندہ ہے پھر کہا کہ اس کو ایک آدمی کے ساتھ تولو پھر مجھے ایک آدمی کے ساتھ تولا گیا تو میں اس سے وزنی تھا پھر کہا کہ اس کو دس کے ساتھ تولو پھر ان دونوں نے مجھے دس کے ساتھ تولا تو میں ان دس سے بھی وزنی نکلا۔ پھر کہا کہ اسے سو کے ساتھ تولو تو ان دونوں نے مجھے سو آدمیوں کے ساتھ تولا تو میں ان سے بھی وزنی نکلا پھر کہا کہ اسے بزار کے ساتھ تولو پھر مجھے ایک ہزار کے ساتھ ان دونوں نے تولا تو میں ان سے بھی وزن میں زیادہ تھا وہ لوگ ترازو کے پلڑے سے بکھر کر گرنے لگے پھر ان دونوں فرشتوں میں سے ایک نے دوسرے کہا کہ اگر آپ اسے اس کی پوری امت سے بھی وزن کرلو گے تو یہ ان سب سے وزنی ہوگا پھر ان دونوں میں سے ایک نے اپنے ساتھی سے کہا کہ اس کا پیٹ چاک کرو تو اس نے میرا پیٹ چاک کیا پھر ان دونوں میں سے ایک نے اپنے ساتھی سے کہا کہ اس کا دل باہر نکالو تو اسنے میرا دل بھی چاک کیا اور اس سے شیطان کے وسوسے ڈالنے کی جگہ نکال دی اور جما ہوا خون بھی پھر ان دونوں کو پھینک دیا پھر ایک نے دوسرے سے کہا کہ اس کا پیٹ برتن کی طرح اور اس کا دل کپڑے کی طرح دھولو پھر ایک چھری منگوائی گئی کہ وہ بالکل نئی صاف شفاف سفید چھری تھی پھر وہ چھری میرے دل میں داخل دی گئی پھر ایک نے دوسرے سے کہا کہ اس پیٹ سی لو تو اس نے میرا پیٹ سی لیا پھر ان دونوں نے مہر نبوت میرے دونوں کندھوں کے درمیان لگایا پھر اچانک وہ دونوں میرے پاس سے چلے گئے اور یہ سارا معالہ گویا اس آنکھوں سے دیکھ رہا تھا۔(دارمی والرادیانی دالحبانی شی فواندھا بن عساکر وابن النجار سعید بن مسیب عن سوید بن یزید العمی)