hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 35418

.

كنز العمال

35418
Kanz al-Ummal
35409- عن أبي ذر قال: لا أذكر عثمان إلا بخير بعد شيء رأيته، كنت رجلا أتتبع خلوات رسول الله صلى الله عليه وسلم أتعلم منه، فرأيته يوما خاليا وحده، فاغتنمت خلوته فجئت حتى حلت إليه، فقال، " يا أبا ذر! ما جاء بك"؟ قلت: الله ورسوله، فجاء أبو بكر فسلم ثم جلس عن يمين رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال: " يا أبا بكر! ما جاء بك "؟ قال: الله ورسوله، ثم جاء عمر فسلم وجلس عن يمين أبي بكر، فقال: "يا عمر! ما جاء بك"؟ قال: الله ورسوله، ثم جاء عثمان فسلم ثم جلس عن يمين عمر، فقال: " يا عثمان! ما جاء بك"؟ قال: الله ورسوله، وبين يدي رسول الله صلى الله عليه وسلم سبع حصيات - أو قال: تسع حصيات - فأخذهن فوضعهن في كفه، فسبحن حتى سمعت لهن حنينا كحنين النحل، ثم وضعهن فخرسن، ثم أخذهن فوضعهن في يدي أبي بكر، فسبحن حتى سمعت لهن حنينا كحنين النحل، ثم وضعهن فخرسن، ثم تناولهن فوضعهن في يد عمر، فسبحن حتى سمعت لهن حنينا كحنين النحل، ثم وضعهن فخرسن، ثم تناولهن فوضعهن في يد عثمان، فسبحن حتى سمعت لهن حنينا كحنين النحل، ثم وضعهن فخرسن، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " هذه خلافة النبوة. " كر".
35409 ۔۔۔ ابوذر (رض) فرماتے ہیں کہ ایک بات دیکھنے کے بعد میں حضرت عثمان (رض) کا صرف ذکر خیر کے ساتھ ہی تذکرہ کروں گا میں ایک شخص تھا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خلوتوں اور تنہائیوں کی جستجو میں رہتا تھا تاکہ میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کچھ سیکھوں تو میں نے ایک دن آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تنہاء دیکھا تو میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تنہائی کو غنیمت سمجھا اور آپ کے قریب آگیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا اے ابوذر تجھے کیا چیز لائی ہے ؟ میں نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول پھر ابوبکر (رض) نے اور سلام کیا پھر وہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دائیں جانب بیٹھ گئے پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے ابوبکر آپ تجھے کیا چیز لے کر آتی ہے ؟ انھوں نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کا رسول پھر عمر (رض) آئے اور اسلام کیا اور ابوبکر (رض) کے دائیں جانب بیٹھ گئے پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوجھا اے عمر تجھے کیا چیز لے کر آئی ہے ؟ عرض کیا کہ اللہ اور اس کا رسول پھر عثمان (رض) آئے اور اسلام کیا پھر وہ بھی حضرت عمر (رض) کے دائیں جانب بیٹھ گئے پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اے عثمان تجھے کیا چیز لے کر آئی ہے عرض کیا کہ اللہ اور اس کا رسول اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنی نوکنکریاں تھیں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں لیا اور اپنے تبیلی ہر رکھا تو وہ کنکریاں تسبیح کرنے لگیں یہاں تک میں نے خودشہد کی مکھی کی طرح ان کی بھنبنا ہٹ سنی پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں واپس رکھا تو وہ خاموش ہوگئیں پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں دوبارہ لیا اور نہیں حضرت ابوبکر (رض) کے دونوں ہاتھوں میں رکھا تو وہ پھر تسبیہ کرنے لگیں یہاں تک کہ میں نے شہد کی مکھیوں کی طرح ان کی بہنبنا ہٹ خود سنی پھر انھوں نے بھی انھیں واپس زمین پر رکھاتو وہ خاموش ہوگئیں پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں لیا اور حضرت عمر (رض) کے ہاتھ میں انھیں رکھاتو وہ تسبیح کرنے لگیں یہاں تک کہ میں نے شہد کی مکھیوں کی طرح ان کی بھنبنا ہٹ سنی پھر انھوں نے بھی انھیں دوبارہ زمین پر رکھا تو وہ خاموش ہوگئیں پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں لے کر حضرت عثمان (رض) کے ہاتھ میں رکھا تو وہ تسبیح کرنے لگیں یہاں تک کہ میں شہد کی مکھیوں کی طرح ان کی بھنبناہٹ سنی پھر انھوں نے بھی انھیں واپس رکھا تو وہ خاموش ہوگئیں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ یہی نبوت کی خلافت ہے۔ رواہ ابن عساکر