35410- عن عاصم بن حميد عن أبي ذر قال: انطلقت ألتمس النبي صلى الله عليه وسلم في بعض حوائط المدينة فإذا أنا بالنبي صلى الله عليه وسلم قاعد تحت نخلات! فأقبلت فسلمت على النبي صلى الله عليه وسلم؛ فقال النبي صلى الله عليه وسلم: "ما جاء بك"؟ قلت: الله جاء بي وأبتغي رسوله، فقال: "اجلس"، فجلست، ثم قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " ليت أتانا رجل صالح"، فأقبل أبو بكر فسلم على رسول الله صلى الله عليه وسلم، فرد عليه رسول الله صلى الله عليه وسلم السلام، ثم قال: " ما جاء بك "؟ قال: الله جاء بي وأبتغي رسوله، فأمره فجلس، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " ليربعنا رجل صالح! " فأقبل عمر فسلم على النبي صلى الله عليه وسلم، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " ما جاء بك "؟ قال: الله جاء بي وأبتغي رسوله، فأمره فجلس، ثم قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "ليخمسنا رجل صالح! " فأقبل عثمان فسلم على النبي صلى الله عليه وسلم، فرد عليه رسول الله صلى الله عليه وسلم السلام، ثم قال: "ما جاء بك؟ " قال: الله جاء بي وأبتغي رسول الله صلى الله عليه وسلم، فأمره فجلس، ثم جاء علي فسلم على رسول الله صلى الله عليه وسلم فرد عليه رسول الله صلى الله عليه وسلم ثم قال: " ما جاء بك"؟ قال: "الله جاء بي وأبتغي رسوله"، ثم أمره فجلس، ومع رسول الله صلى الله عليه وسلم حصيات يسبحن في يده، فناولهن أبا بكر فسبحن في يده، ثم انتزعهن منه، فناولهن عمر فسبحن في يده، ثم انتزعهن منه، فناولهن عثمان فسبحن في يده، ثم انتزعهن منه، فناولهن عليا فلم يسبحن وخرسن. "كر".
35410 ۔۔۔ عاصم بن حمید ابوذر سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں کہ میں مدینہ کے بعض باغات میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تلاش کرنے کے لیے چلاتو اجانک آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو میں نے کھجور کے درختوں کے نیچے بیٹھے ہوتے پایا تو میں آگے بڑھا اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سلام کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ آپ کو کیا چیز لے کر آتی ہے ؟ میں نے عر ض کیا کہ مجھے اللہ لے کر آیا ہے اور میں اس کے رسول کو تلاش کررہا تھا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا بیٹھ جاؤ تو میں بیٹھو گیا پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ کاش ہمارے پاس کوئی اور صالح آدمی بھی آجاتا ہے تو ابوبکر (رض) آئے اور سلام کیا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں سلام کا جواب دیا پھر فرمایا کہ تجھے کیا چیز لے کر آءی ہے ؟ عرض کیا کہ مجھے اللہ لے کر آیا ہے اور میں اس کا رسول تلاش کررہا تھا پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نہیں بھی حکم دیاتو وہ بھی بیٹھ گئے پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ ہم میں ایک چوتھا نیک شخص بھی ہونا چاہتے تو حضرت عمر (رض) حاضر خدمت ہوئے اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سلام کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ تجھے کیا چیز لے کر آئی ہے ؟ عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ مجھے لے کر آتے اور میں اس کے رسول کو تلاش کررہا تھا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں بھی حکم دیاتو وہ بھی بیٹھ گئے پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ ہم میں ایک پانچواں نیک شخص بھی ہونا چاہیے تو حضرت عثمان (رض) آئے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سلام کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں سلام کا جواب دیا پھر فرمایا کہ تجھے کیا چیز لے کر آئی ہے ؟ عرض کیا اللہ تعالیٰ مجھے لے کر آتے اور میں اس کے رسول کو تلاش کررہا تھا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں بھی حکم دیاتو وہ بھی بیٹھ گئے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس کچھ کنکریاں تھیں جو تسبیح کررہی تھیں آپ کے دست مبارک میں تو آپ نے دوکنکریاں ابوبکر (رض) کو دیں تو وہ ان کے ہاتھ میں بھی تسبیح پڑھتی ہیں پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وہ ان سے واپس لے لیں پھر وہ کنکریاں حضرت عمر (رض) کو ہاتھ میں دین تو ان کے ہاتھ میں بھی تسبیح پڑھتی رہیں پھر ان سے بھی واپس لے لیں پھر حضرت عثمان (رض) کو پکڑائیں تو ان کے ہاتھ میں بھی تسبیح کرتی ہیں پھر ان سے لے کر حضرت علی (رض) کو پکڑ وائیں توکنکریوں نے تسبیح نہ کی اور بلکہ خاموش ہوگئیں ۔ (رواہ ابن عساکر)