hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 35511

.

كنز العمال

35511
Kanz al-Ummal
35502- "مسند العرباض" الواقدي حدثني ابن أبي سبرة عن موسى بن سعد عن عرباض بن سارية قال: كنت ألزم باب رسول الله صلى الله عليه وسلم في الحضر والسفر، فرأينا ليلة ونحن بتبوك وذهبنا لحاجة فرجعنا إلى منزل رسول الله صلى الله عليه وسلم وقد تعشى ومن عنده من أضيافه ورسول الله صلى الله عليه وسلم يريد أن يدخل في قبة ومعه زوجه أم سلمة، فلما طلعت عليه قال: "أين كنت منذ الليلة"؟ فأخبرته، فطلع جعال بن سراقة وعبد الله بن مغفل المزني فكنا ثلاثة كلنا جائع، نعيش بباب النبي صلى الله عليه وسلم، فدخل رسول الله صلى الله عليه وسلم البيت فطلب شيئا نأكله فلم يجده، فخرج إلينا فنادى بلالا: " يا بلال! هل من عشاء لهؤلاء النفر"؟ قال: لا: والذي بعثك بالحق لقد نفضنا جربنا وحميتنا! قال: "انظر عسى أن تجد شيئا"، فأخذ الجرب ينفضها جرابا جرابا فتقع التمرة والتمرتان حتى رأيت بين يديه سبع تمرات ثم دعا بصحفة فوضع فيها التمر، ثم وضع يده على التمرات وسمى الله وقال: "كلوا بسم الله"، فأكلنا، فأحصيت أربعة وخمسين تمرة أكلتها، أعدها ونواها في يدي الأخرى، وصاحباي يصنعان ما أصنع وشبعنا، وأكل كل واحد منهما خمسين تمرة، ورفعنا أيدينا فإذا التمرات السبع كما هي! فقال: " يا بلال! ارفعها في جرابك فإنه لا يأكل منها أحد إلا نهل شبعا "؛ فبتنا حول قبة رسول الله صلى الله عليه وسلم، فكان يتهجد من الليل فقام تلك الليلة يصلي، فلما طلع الفجر رجع ركعتي الفجر، فأذن بلال وأقام، فصلى رسول الله صلى الله عليه وسلم بالناس، ثم انصرف إلى فناء قبة، فجلس وجلسنا حوله فقراء من المؤمنين عشرة، فقال: "هل لكم في الغداء"؟ قال عرباض: فجعلت أقول في نفسي أي غداء؟ فدعا بلالا بالتمرات فوضع يده عليهن في الصحفة ثم قال: "كلوا بسم الله"، فأكلنا والذي بعثه بالحق حتى شبعنا وإنا لعشرة ثم رفعوا أيديهم منها شبعا وإذا التمرات كما هي! فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " لولا أني أستحي من ربي لأكلنا من هذه التمرات حتى نرد المدينة من آخرنا"، فطلع غليم من أهل البلد فأخذ رسول الله صلى الله عليه وسلم التمرات بيده، فدفعها إليه، فولى الغلام يلوكهن. "كر".
35502 ۔۔۔ مسند العرباض میں ہے کہ واقدی نے روایت کی ہے کہ مجھ سے ابن ابی سبرة نے روایت کی انھوں نے موسیٰ بن سعد سے انھوں نے عریاض بن ساریہ سے کہ میں سفر وحضر میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ڈروازہ پر ہوتا تھا ایک رات میں نے دیکھا جب کہ ہم تبوک میں تھے ہم کسی ضرورت سے گئے ہوئے تھے پھر ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جگہ واپس ہوئے آپ اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مہمان رات کے کھانے سے فارغ ہوچکے تھے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رقبہ میں داخل ہونے کا ارادہ کررہے تھے آپ کے ساتھ ازواج مطہرات میں سے ام سلمہ تھیں جب میں آپکے سامنے آیا تو آپ نے پوچھا رات اس وقت تک کہاں تھے ؟ میں نے بات بتلا دی اتنے میں جعال بن سراقہ اور عبداللہ بن مغفل مزنی بھی آگئے ہم تینوں بھوک کی حالت میں تھے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دروازے پر تھے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) گھر میں داخل ہوئے ہمارے کھانے کے لیے کچھ طلب کیا لیکن نہ مل سکا پھر آپ ہمارے پاس واپس تشریف لائے اور بلال (رض) کو آواز کر پوچھا اے بلال ان حضرات کے کھانے کے لیے کچھ ہے ؟ عرض یا نہیں ہے قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق دے کر بھیجا ہم نے اپنی ہتھیلی اور برتن صاف کرلئے فرمایا دیکھ لو ہوسکتا ہے کوئی چیز مل جائے تو انھوں نے ایک ایک تھیلی کو جھانا شروع کیا تو ایک ایک دودو کھجوریں گرنے لگیں یہاں تک میں نے دیکھا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے سات کھجوریں جمع ہوگئیں پھر ایک برتن منگوا کر اس میں کھجوریں رکھدیں پھر پر دست مبارک رکھ کر بسم اللہ پڑھی اور فرمایا کھاؤ بسم اللہ ہم نے کھانا شروع کیا میں نے گنا کہ میں نے اکیلئے نے 45 کھجوریں کھائیں اب ہم نے ہاتھ کھینچ لیا لیکن سات کھجوریں اس طرح رکھی ہوئی تھیں فرمایا اب اے بلال ان کو اٹھا کر اپنی تھیلی میں بھر لوان میں سے جو بھی کھائے گا اس کا پیٹ بھر جائے گا ہم رات آپ کے قبہ کے پاس گذاری آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تہجد کے لیے بیدار ہوتے اٹھے اس رات بھی اٹھ کر نماز پڑھنے لگے جب فجر طلوع ہوگئی واپس ہو کر فجر کی دو رکعت سنت ادا کی بلال (رض) نے اذان و اقامت کہی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لوگوں کی نماز پڑھائی بھرقبہ کے صحن میں تشریف لائے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیٹھ گئے اور ہم بھی آپ کے گردوس فقراء مسلمین بیٹھ گئے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہم پوچھا کیا تمہارے پاس دو پر ہر کے کھانے کے لیے کچھ ہے عرباض نے کہا میں اپنے دل میں کہہ رہا تھا کھانے کی کیا چیز ہوگی ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بلال (رض) کو کھجوریں لانے کا حکم فرمایا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان پر اپنا دست مبارک رکھدایا اور فرمایا : کھاؤ بسم اللہ ہم نے کھایا قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حق دے کر مبعوث فرمایا ہم دس کے پس نے پیٹ بھرکرکھایا پھر پیٹ بھرنے کی وجہ سے سب نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا اور کھجوریں اتنی میں تھیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اگر مجھے رب کریم سے شرم نہ آتی ہم سب ان کھجوریں کو مدینہ منورہ پہنچے تک کھاتے ایک دیہاتی بچہ نظر آیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کھجوریں ہاتھ میں لے کر اس کو دے دیں ، وہ کھاتا ہوا واپس چلا گیا۔ (رواہ ابن عساکر)