hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 35569

.

كنز العمال

35569
Kanz al-Ummal
35560- المعافى بن زكريا القاضي حدثنا الحسن بن علي بن زكريا العدوي أبو سعيد البصري حدثنا أحمد بن محمد المكي أبو بكرحدثنا محمد بن عبد الرحمن المديني عن محمد بن عبد الواحد الكوفي حدثنا محمد بن أبي بكر الأنصاري "عن عبادة بن الصامت وكان عقيبا بدريا نقيبا أنه قال: بعثني أبو بكر إلى ملك الروم يدعوه إلى الإسلام ويرغبه فيه ومعي عمرو بن العاص بن وائل السهمي وهشام بن العاص ابن وائل السهمي وعدي بن كعب ونعيم بن عبد الله النحام، فخرجنا حتى قدمنا على جبلة بن الأيهم دمشق، فأدخلنا على ملكهم بها الرومي فإذا هو على فرش له مع الأسقف، فأجلسنا وبعث إلينا رسوله وسألنا أن نكلمه، فقلنا: لا والله لا نكلمه برسول بيننا وبينه! فإن كان له في كلامنا حاجة فليقربنا منه، فأمر بسلم فوضع ونزل إلى فرش له في الأرض فقربنا فإذا هو عليه ثياب سود مسوح، فقال له هشام بن العاص بن وائل: ما هذه المسوح التي عليك؟ قال: لبستها ناذرا أن لا أنزعها حتى أخرجكم من الشام، فقلنا -: قال القاضي: وذكر كلاما خفي علي من كتابي معناه - بل نملك مجلسك وبعده ملككم الأعظم، فوالله لنأخذنه إن شاء الله! فإنه قد أخبرنا بذلك نبينا صلى الله عليه وسلم الصادق البار، قال: إذا أنتم السمراء، قال: قلنا: وما السمراء؟ قال: لستم بها، قلنا: ومن هم؟ قال: الذين يقومون الليل ويصومون النهار، قال فقلنا: نحن والله هم! قال فقال: وكيف صومكم وصلاتكم وحالكم؟ فوصفنا له أمرنا، فنظر إلى أصحابه وراطنهم وقال لنا: ارتفعوا، قال: ثم علا وجهه سواد حتى كأنه قطعة مسح من شدة سواده وبعث معنا رسلا إلى ملكهم الأعظم بالقسطنطينية، فخرجنا حتى انتهينا إلى مدينتهم ونحن على رواحلنا علينا العمائم والسيوف، فقال لنا الذين معنا: إن دوابكم هذه لا تدخل مدينة الملك، فإن شئتم فجئناكم ببراذين وبغال، قلنا: لا والله لا ندخلها إلا على رواحلنا! فبعثوا إليه يستأذنونه، فأرسل إليهم أن خلوا سبيلهم، ودخلنا على رواحلنا حتى انتهينا إلى غرفة مفتوحة الباب فإذا هو فيها جالس ينظر، قال: فأنخنا تحتها ثم قلنا: لا إله إلا الله والله أكبر، فيعلم الله لانتفضت حتى كأنها نخلة تصفقها الريح، فبعث إلينا رسولا أن هذا ليس لكم أن تجهروا بدينكم في بلادنا، وأمر بنا فأدخلنا عليه فإذا هو مع بطارقته، وإذا عليه ثياب حمر، فإذا فرشه وما حواليه أحمر، وإذا رجل فصيح بالعربية يكتب فأومأ إلينا فجلسنا ناحية، فقال لنا وهو يضحك: ما منعكم أن تحيوني بتحيتكم فيما بينكم؟ فقلنا: نرغب بها عنك، وأما تحيتك التي لا ترضى إلا بها فإنها لا تحل لنا أن نحييك بها، قال: وما تحيتكم فيما بينكم؟ قلنا: السلام، قال: فما كنتم تحيون به نبيكم؟ قلنا: بها، قال: فما كان تحيته هو؟ قلنا، بها، قال: فبم تحيون ملككم اليوم! قلنا: بها، قال: فبم يجيبكم؟ قلنا: بها، قال: فما كان نبيكم يرث منكم؟ قلنا: ما كان يرث إلا ذا قرابة، قال: وكذلك ملككم اليوم؟ قلنا؛ نعم، قال: فما أعظم كلامكم عندكم؟ قلنا: لا إله إلا الله - قال: فيعلم الله لانتفض حتى كأنه طير ذو ريش من حسن ثيابه، ثم فتح عينيه في وجوهنا،قال فقال: هذه الكلمة التي قلتموها حين نزلتم تحت غرفتي؟ قلنا: نعم، قال: كذلك إذا قلتموها في بيوتكم تنفضت لها سقوفكم؟ قلنا: والله ما رأيناها صنعت هذا قط إلا عندك وما ذاك إلا لأمر أراده الله تعالى، قال: ما أحسن الصدق! أما والله لوددت أني خرجت من نصف ما أملك وأنكم لا تقولونها على شيء إلا انتفض لها، قلنا: ولم ذاك؟ قال: ذاك أيسر لشأنها وأحرى أن لا تكون من النبوة وأن تكون من حيل ولد آدم، قال: فماذا تقولون إذا فتحتم المدائن والحصون؟ قلنا: نقول: لا إله إلا الله والله أكبر، قال: تقولون: لا إله إلا الله والله أكبر - ليس غيره شيء؟ قلنا: نعم، قال: تقولون الله أكبر هو أكبر من كل شيء؟ قلنا نعم، قال: فنظر إلى أصحابه فراطنهم! ثم أقبل علينا فقال: أتدرون ما قلت لهم؟ قلت: ما أشد اختلاطهم، فأمر لنا بمنزل وأجرى لنا نزلا، فأقمنا في منزلنا تأتينا ألطافه غدوة وعشية. ثم بعث إلينا فدخلنا عليه ليلا وحده ليس معه أحد، فاستعادنا الكلام فأعدناه عليه، ثم دعا بشيء كهيئة الربعة ضخمة مذهبة فوضعها بين يديه، ثم فتحها فإذا بها بيوت صغار وعليها أبواب، ففتح منها بيتا فاستخرج منها خرقة حرير سوداء فنشرها فإذا فيها صورة حمراء وإذا رجل ضخم العينين عظيم الأليتين لم ير مثل طول عنقه في مثل جسده أكثر الناس شعرا، فقال لنا: أتدرون من هذا؟ قلنا: لا قال: هذا آدم صلى الله عليه وسلم، ثم أعاده ففتح بيتا آخر فاستخرج منه خرقة حرير سوداء فنشرها فإذا بها صورة بيضاء وإذا رجل له شعر كثير كشعر القبط - قال القاضي: أراه قال - ضخم العينين بعيد ما بين المنكبين عظيم الهامة، فقال: أتدرون من هذا؟ قلنا لا، قال: هذا نوح صلى الله عليه وسلم، ثم أعادها في موضعها وفتح بيتا آخر فاستخرج منه خرقة حرير خضراء فإذا بها صورة شديدة البياض وإذا رجل حسن الوجه حسن العينين شارع الأنف سهل الخدين أشيب الرأس أبيض اللحية كأنه حي يتنفس، فقال: أتدرون من هذا؟ قلنا: لا، قال: هذا إبراهيم صلى الله عليه وسلم، ثم أعادها وفتح بيتا آخر فاستخرج منه خرقة حرير خضراء فإذا فيها صورة محمد صلى الله عليه وسلم، فقال: تدرون من هذا؟ قلنا: هذا محمد صلى الله عليه وسلم - وبكينا، فقال: بدينكم أنه محمد؟ قلنا: نعم، بديننا أنها صورته كأنما ننظر إليه حيا. قال: فاستخف حتى قام على رجليه قائما ثم جلس فأمسك طويلا فنظر في وجوهنا فقال: أما إنه كان آخر البيوت ولكني عجلته لأنظر ما عندكم، فأعاده وفتح بيتا آخر فاستخرج منه خرقة حرير خضراء فإذا فيها صورة رجل جعد أبيض قطط غائر العينين حديد النظر عابس متراكب الأسنان مقلص الشفة كأنه من رجال أهل البادية، فقال: تدرون من هذا؟ قلنا: لا، قال: هذا موسى، وإلى جانبه صورة شبيهة به رجل مدر الرأس عريض الجبين بعينيه قبل ، قال: تدرون من هذا؟ قلنا: لا، قال: هذا هارون، فأعادها وفتح بيتا آخر فاستخرج منه خرقة حرير خضراء فنشرها فإذا فيها صورة بيضاء وإذا رجل شبه المرأة ذو عجيزة وساقين، قال: تدرون من هذا؟ قلنا: لا، قال: داود، فأعادها وفتح بيتا آخر فاستخرج منه خرقة حرير خضراء فإذا فيها صورة بيضاء فإذا رجل أوقص قصير الظهر طويل الرجلين على فرس، لكل شيء منه جناح، قال: تدرون من هذا؟ قلنا: لا، قال: هذا سليمان وهذه الريح تحمله، ثم أعادها وفتح بيتا آخر فيه خرقة حرير خضراء فنشرها فإذا فيها صورة بيضاء وإذا رجل شاب حسن الوجه حسن العينين شديد سواد اللحية يشبه بعضه بعضا، فقال: أتدرون من هذا؟ قلنا: لا، قال: عيسى ابن مريم، فأعادها وأطبق الربعة. قال قلنا: أخبرنا عن قصة الصور ما حالها؟ فإنا نعلم أنها تشبه الذين صورت صورهم فإنا رأينا نبينا صلى الله عليه وسلم يشبه صورته، قال: أخبرت أن آدم سأل ربه أن يريه أنبياء بنيه، فأنزل عليه صورهم، فاستخرجها ذو القرنين من خزانة آدم في مغرب الشمس، فصورها لنا دانيال في خرق الحرير على تلك الصور، فهي هذه بعينها. أما والله لوددت أن نفسي طابت بالخروج من ملكي فتابعتكم على دينكم وأن أكون عبدا لأسوئكم ملكة! ولكن نفسي لا تطيب. فأجازنا فأحسن جوائزنا، وبعث معنا من يخرجنا إلى مأمننا، فانصرفنا إلى رحالنا. قال القاضي: قد كنا أملينا هذا الخبر من وجه آخر، ومعاني الخبرين متقاربة، ولما حضرنا هذا الخبر من هذا الطريق رسمناه ههنا وقد تضمن ما يدل على صدق نبينا وصحة نبوته على كثرة الأخبار والروايات فيه وشهادة الكتب السالفة مع تأييد الله عز وجل اسمه إياه بالمعجزات التي أظهرها على يده والأعلام الشاهدة له. "كر".
35560 ۔۔۔ معافی بن زکریا قاضی نے کہا ہم سے حدیث بیان کی ہے حسن بن علی بن زکریا عدوی ابوسعید بصری نے انھوں نے کہا ہم سے حدیث بیان کی ہے احمدبن محمد مکی ابوبکر نے کہ ہم سے حدیث بیان کی عبدالرحمن مدینی نے محمد بن عبدالوحد کوفی سے انھوں نے کہا ہمیں حدیث بیان کی ہے محمد بن ابی بکر انصار نے عبادہ بن صامت وہ بدری صحابہ کرام (رض) میں سے تھے اور یقنا میں سے تھے انھوں نے کہا ابوبکر نے مجھے ملک روم کے پاس بھیجا اس کو اسلام کی دعوت دینے کے لیے اور اس کی رغبت دلانے کے لیے اور میرے ساتھ عمرو بن العاص بن وائل سہمی بھی تھے اور ہشام بن العاص ابن وائل سہمی اور عدی بن کعب اور نعیم بن عبداللہ النجار بھی ہم لوگ نکلے یہاں دمشق میں جب کہ بن ابہم کے پس پہنچے ہمیں انھوں نے اپنا بادشاہ روی کے پاس لے گیا وہ اپنے تخت پر بیٹھے ہوئے وزراء کے ساتھ ہمیں بیٹھایا اور ہمارے پاس اپنا بندہ بھیجا ہم سے کہا کہ ہم اس سے بات کریں ہم نے واللہ ہمارے درمیان قاصد کے ذریعہ گفتگو نہ ہوئی اگر اس کو ہم سے بات کرنے کی ضرورت ہے تو ہمیں اپنے قریب کرے تو سیڑھی کا حکم دیاجو رکھی گئی اس کے بعد اپنے تخت سے زمین پر نیچے اترآیا اور ہمارے قریب آیا تو اس پر سیاہ تیل ملاہوا کپڑا تھا تو اس سے ہشام بن عاص بن وائل نے کہا یہ تجھ پر سیاہ کپڑا کیوں ہے تو اس نے جواب دیا یہ میں نے پہنا ہے اس کا نذر مان کر تمہیں شام سے نکالنے تک نہیں اتارونگا ہم نے کہا کہ قاضی نے کہا ہے اس کے بعد ایک کلام ذکر کیا جس کا معنی میں مجھ پر مخفی رہ گیا بلکہ ہم تمہاری تخت اس کے بعد تمہارے عظیم ملک کا مالک ہوں گے اللہ کی قسم ہم ضرور اس کو لیں گے کیونکہ ہمارے نبی صادق (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں اس کی خبردی ہے اس نے کہا پھر تو تم سمراء ہو ہم نے کہا سمرا کیا چیز ہے ؟ کہا تم ان میں سے نہیں ہو ہم نے کہا وہ کون لوگ ہیں اس نے کہا جو لوگ رات کو قیام کریں گے اور دن کو روزہ رکھیں گے ہم نے کہا ہم ہی ہیں وہ اس نے پوچھا تمہارے روازے اور نماز کیسی اور تمہارا کیا حال ہے ؟ ہم نے اس سے اپنے حالات بیان کردیا اس نے اپنے ساتھیوں کو دیکھا اور اس میں بات چیت کی اور ہم سے کہا یہاں سے نکل جاؤ پھر اس کے چہرے پر سیاہی چڑھ گئی گویا کہ وہ ٹاٹ کا ٹکڑا ہے سخت سیاہ ہونے کی وجہ سے اور ہمارے ساتھ ایک قاصد بھیجا ان کے ملک اعظم کی طرف جو کہ قطنطنیہ ہیں تھا ہم وہاں سے نکل کر ان کے شہر تک پہنچے ہم اپنی سواریوں پہ تھے ہمارے سروں پر یگڑیاں اور ہاتھوں میں تلوار جو لوگ ہمارے ساتھ انھوں نے کہا تمہارے یہ جانور بادشاہ کے شہر میں داخل نہیں ہوسکتے اگر تم چاہو تو ہم تمہارے لیے گھوڑے اور خرء لے آتے ہیں ہم نے کہا اللہ کی قسم ہم تو انہی سواریوں پر داخل ہوں گے تو انھوں نے قاصد بھیجا اجازت لینے کے لیے تو اس نے پیغام ان کا راستہ چھوڑ دو یعنی آنے کی اجازت دیدو ہم اپنی سواریوں پر سوار ہو کر اس کمرہ تک پہنچ گئے جس کا دروازہ کھولا ہوا تھا وہ اس میں بیٹھا ہوادیکھ رہا تھا راوی نے کہا کہ ہم اپنے اونٹ نیچے بیٹھا دئیے بھر ہم نے کہا لاالہ الا اللہ واللہ اکبر۔ اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ وہ ہل گیا گویا کہ وہ کھجور کا درخت ہے جس کو ہوا نے حرکت دی پھر ہمارے پاس قاصد بھیجا کہ تمہیں حق نہیں پہنچا کہ تم ہمارے ملک میں اپنے کا اعلان کرو اور ہمارے متعلق حکم دیا کہ ہمیں ان کے پاس پہنچایا جائے وہ اپنے وزیر اعظم کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا اور اس پر سرخ لباس تھا اس کا فرش اور ارگرد کا حصہ بھی سرخ تھا تو دیکھا ایک شخص فصیح عربی بولنے والا لکھ رہا تھا ہماری طرف اشارہ کیا ہم ایک جانب بیٹھ گئے ہم سے ہنستے ہوئے کہا کیا وجہ ہے کہ جس طرح آپس میں ایکدوسرے کو سلام کرتے ہو مجھے اس طرح سلام نہیں کیا ؟ اس کے ذریعہ ہم آپ سے اعراض کرتے ہیں اور جس سلام سے تم راضی ہوئے ہو وہ ہمارے لیے حلال نہیں پوچھا تمہارے آپس کا سلام کس طرح ہے ؟ ہم نے کہا السلام علیکم پوچھا کہ تم اپنے نبی کو کس طرح سلام کرتے تھے ہم نے کہا انہی الفاظ کے ذریعہ پوچھا وہ تمہیں کس طرح سلام کرتے تھے ؟ ہم نے کہا انہی الفاظ کے ذریعہ پوچھا تم اب اپنے بادشاہ کو کس طرح کرتے ہو ہم نے کہا انہی الفاظ سے پوچھا وہ کس طرح جواب دیتے ہیں ہم نے کہا انہی الفاظ سے پوچھا تمہارے نبی تمہارا کس طرح وارث بنتے ہیں ہم نے کہا وارثت تو صرف قرابتداری کی بنیاد پر ہے اس طراح اس وقت کے بادشاہ بھی ہم نے کہا پوچھا تمہارا سب سے معظم کلام کیا ہے ہم نے کہا لاالہ الا اللہ راوی نے کہا کہ اللہ جانتا ہے کہ اس نے پھڑ پھڑایا گویا وہ پروں والد پرندہ ہے عمدہ لباس کی وجہ سے پھر ہمارے سامنے اپنی آنکھیں کھولیں پوچھا یہ وہی کلمہ ہے جو تم نے سواری سے اترتے ہوئے میری تخت کے نیچے کہا ہم نے کہا ہاں پوچھا کیا اس طرح تم اس کلمہ کو کہتے ہو تمہارے گھر کی چھت پتلی ہے تو ہم نے واللہ کبھی ہم نے اس طرح ملتے ہوئے نہیں دیکھا مگر تمہارے پاس اس کی وجہ یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں ایک بات منظور ہوئی ہے کیا کہتی سچی بات ہے وال میں تو یہی چاہتاہوں کہ میں اپنا آدھا ملک چھوڑ دوں اس بات پر کہ تم اس کلمہ کو کسی ایسی چیز پر مت پڑھو ہلنے لگے ہم نے کہا اس کی کیا وجہ ہے ؟ کیا یہ اس کی شان کے مناسب ہے لائق ہے کہ نبوت میں سے نہ ہو بلکہ نبی آدم کے جلسہ میں سے ہو اور کہا تم کیا کہتے ہو جب تم شہروں اور قلعوں کو فتح کرتے ہو ہم نے کہا، ہم کہتے ہیں لاالہ اللہ واللہ اکبر پوچھا تم لا الہ الا اللہ کہتے اس کے علاوہ کوئی اور کلمہ نہیں کہتے ؟ ہم نے جواب دیا ہاں اس نے اپنے ساتھیوں کی طرف دیکھا ان سے گفتگو کی پھر ہماری طرف متوجہ ہو کر کہا کیا تم جانتے ہو میں نے ان سے کیا کہا ، میں نے کہا کس قدر آپس میں اختلاط ہے ؟ ہمارے قیام گاہ کا حکم دیا اور ضیافت کا انتظام کیا ہم اپنی قیام گاہ میں نہرے صبح وشام اس کی طرف سے ضیافت ہوتی تھی پھر ہمارے پاس پیغام بھیجا ہم رات کے وقت اس کے پاس پہنچے اس کے ساتھ کوئی اور نہ تھا ہم سے مکرر گفتگو کی ہم نے بھی اپنی بات دھرادی ، پھر کوئی چیز منگوائی جو برتن کی شکل میں بھاری تھی اور سونے کا پانی اس پرچڑھایا ہوا تھا اس کے سامنے لاکر رکھ دی پھر اس کو کھولا تو اس میں چھوٹے چھوٹے گھر بنوے ہوئے تھے اور ان پر دروازے بھی لگے ہوئے تھے ان میں سے ایک دروازہ کھولا اس میں سیاہ رنگ کے ریشم کا ایک ٹکڑا نکالا اس کو پھیلایا تو اس میں سرخ رنگ کی تصویر تھی اس میں ایک موٹی آنکھوں ولاچوڑا سر والا شخص تھا کسی کے جسم میں اس اس کے جیسے لمبے پانی نہیں دیکھے گئے ہم سے پوچھا جانتے ہو یہ کون ہے ہم نے کہا نہیں اس نے کہا نہیں اس نے کہا آدم (علیہ السلام) ہیں اس نے اس کو دو بارہ لوٹ دیا پھر دوسرا دروازہ کھولا اس میں سے ایک سیاہ ریشم کا ٹکڑا نکالا اس کو پھیلایا تو اس میں ایک سفید تصویر تھی اس میں ایک شخص جس کے بال فیطوں کی طرح زیادہ گھنے میں قاضی نے کہا میرے خیال میں موٹی آنکھوں والا دونوں منڈوں کے درمیان فاصلہ والا اور بڑی کھوپڑی والا پوچھا جانتے ہو یہ کون ہے ؟ ہم نے بتایا نہیں تو اس نے کہا یہ نوح (علیہ السلام) ہیں بھر اس کو اپنی جگہ لوٹا دیا پھر ایک اور دروازہ کھولا اس سے ایک سبز رنگ کے ریشم کا ٹکڑا نکالا اس میں ایک انتہائی سفید تصویر ہے جس کا چہرہ حسین آنکھیں حسین اونچی ناک قدرے لمبے رخسار اور ڈارھی کے بالی سفید گویا زندہ ہے اور سانس لے رہا ہے پوچھا جانتے ہو یہ کون ہے ؟ ہم نے کہا نہیں پھر بتایا یہ ابراہیم (علیہ السلام) میں اس کو اپنی جگہ لوٹا دیا پھر ایک دروازہ کھولا اس میں ایک سبز رنگ کے ریشم کا ٹکڑا نکالا اس میں محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تصویر تھی پوچھا جانتے ہو یہ کون ہیں ہم نے کہا یہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں ہم رو پڑے پوچھا کیا تمہارے لیے واضح ہوئی کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تصویر ہے ہم نے کہا واضح ہوگئی گویا ہم ان کی طرف زندگی میں دیکھ رہے ہیں کچھ دیر روک گیا اس کے بعد دو آدمی کے ہمارے کھڑا ہوا پھر بیٹھ گیا کافی دیر تک بیٹھا رہا پھر ہمارے چہروں کو دیکھا پھر کہا یہ آخری گھر ہے لیکن میں نے جلدی تاکہ انھوں تمہاری رائے معلوم کروں اس کو لوٹا دیا پھر بعد ایک اور دروازہ کھولا اس سے میز ریشم کا ٹکڑا نکالا اس میں ایک شخص کی تصویر تھی جو گنگریالے بھالوں والے تھے آنکھیں گہر تیز نگاہ والے مبلا کپڑے اور تربتہ دانت مسکرائے ہوئے ہونٹ والے گویا کہ دیہاتی آدمی ہے پوچھا جانتے ہو یہ کون ہے ؟ ہم نے کہا بتایا یہ موسیٰ (علیہ السلام) سب ان کے برابر میں ایک تصویر جو مردوں کے مشابہ ہے گول سروالے چوڑی پیشانی آنکھوں میں سیاہی غلاب پوچھا جانتے ہو یہ کون ہیں ؟ ہم نے کہا نہیں بتایا یہ ہارون (علیہ السلام) میں اس کو اپنے جگہ لوٹا دیا اس کے بعد ایک اور دروازہ کھولا اس میں سے ایک سبز ریشم کا ٹکڑا نکالا اس کو پھیلایا اس میں ایک سفید تصویر تھی اس میں ایک شخص عورتوں کے مشابہ دوسربن روپنڈلی والے پوچھا جانتے ہوں یہ کون ہیں ہم نے کہا یہ بتایا یہ داؤد (علیہ السلام) میں پھر اس کو اپنی جگہ لوٹا دیا پھر ایک اور دروازہ کھولا اس میں سے سبز رنگ کے ریشم کا ٹکڑا نکالا اس کو پھیلا یا اس میں ایک سفید تصویر تھی اس میں ایک شخص سب بیٹھ مختصر ٹانگیں قدرے لمبے ایک گھوڑے پر اس کی ہرچیز کے باڑو تھے پوچھا جانتے ہو یہ کون ہیں ؟ ہم نے کہا نہیں بتایا یہ سلمان (علیہ السلام) ہیں یہ وان کو اٹھارہی ہے پھر اس کو اپنی جگہ لوٹا دیا اور ایک اور دروازہ کھولا اس میں سے سبز ریشم کا ٹکڑا نکالا اس کو پھیلا یا اس میں ایک سفید صورت بھی اس میں ایک جوان خوبصورت چہرے والا حسین آنکھوں سیاہ ڈاڑھی جو ایک دوسرے کے سایہ میں پوچھا جانتے ہو یہ کون ہیں ؟ ہم نے کہا انھیں بتایا عیسیٰ بن مریم میں اس کو اپنی جگہ لوٹا دیا اور چوتھے کو بند کردیا ہم نے کہا ان تصویروں کی حالت بتاؤ یہ کیا میں کیونکہ ہم جانتے ہیں یہ صورتیں ان کے مشابہ ہیں جنکی صورت تو نے بنائی ہے کیونکہ ہم نے اپنے نبی کو دیکھا ہے اسی کے مشابہ میں جو صوت تم نے بنائی ہے تو بتایا کہ آدم علیہ اسلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی تھی کہ تمام انبیاء کی صورتیں ان کو دیکھا نے اللہ تعالیٰ نے ان پر صورتیں اتادیں ذوالقرنین نے ان کو نکالا ہے آدم (علیہ السلام) کے خزانہ سے جو کہ سورج غروب ہونے جگہ پر ہے دانیال (علیہ السلام) نے ان کی صورتیں بنائیں ریشم کے ٹکڑوں میں انہی صورتوں پر یہ بغینہ وہی ہیں اللہ کی قسم اگر میرا نفس اس بات پر خوش ہوتا کہ میں اپنی حکومت چھو وں میں تمہاری پیروی میں تمہارے دین کو قبول کرلیتا۔ اس نے ہمیں تحفہ دیا اور بڑا لیکن میرا نفس اس پر خوش نہیں ہے عمدہ تحفہ دیا اور ہمارے ساتھ بھیجا جو ہمیں امن کی جگہ تک پہنا دے ہم اپنے کجاواتک پہنچ گئے قاضی نے کہا ہمیں یہ ختہ رہ دوسرے طریق سے بھی لکھوائی گئی دونوں روایتوں کے مفہوم قریب قریب ہیں جب یہ خبر ہمیں سے طریق سے پہنچی ہے ہم نے اس کو یہاں لکھدی ہے یہ خبر متضمن ہے جو ہماری نبی کی تصدیق اور نبوت کی صحت پر دلدلت کرتی ہے بکثرت خبریں اور روایات ان میں کتب سابقہ کی تصدیق اور اللہ تعالیٰ کی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تائنیدان معجزات کے ذریعہ جو اللہ تعالیٰ نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دست مبارک پر ظاہر فرمایا اسی طرح جو علامات جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے شاید ہیں۔ (ابن عساکر)