35561- عن العباس بن مرداس السلمي أنه كان في لقاح له نصف النهار إذ طلعت عليه نعامة بيضاء عليها راكب عليه ثياب بيض مثل اللبن فقال: يا عباس بن مرداس! ألم تر أن السماء كفت أحراسها، وأن الحرب تجرعت أنفاسها، وأن الخيل وضعت أحلاسها وأن الدين نزل بالبر والتقوى يوم الاثنين ليلة الثلاثاء مع صاحب الناقة القصوى، قال: فخرجت مذعورا قد راعني ما رأيت وسمعت حتى أتيت وثنا لي يدعى بالضمار وكنا نعبده ويكلم من جوفه فكنست ما حوله، ثم تمسحت به وقبلته وإذا صائح يصيح من جوفه:
قل للقبائل من سليم كلها ... هلك الضمار وفاز أهل المسجد
هلك الضمار وكان يعبد مرة ... قيل الصلاة مع النبي محمد
إن الذي بالقول أرسل والهدى ... بعد ابن مريم من قريش مهتد
قال: فخرجت مذعورا حتى جئت قومي فقصصت عليهم القصة وأخبرتهم الخبر، فخرجت في ثلاثمائة من قومي من بني حارثة إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو بالمدينة فدخلت المسجد، فلما رآني النبي صلى الله عليه وسلم فرح بي وقال: "يا عباس كيف كان إسلامك"؟ فقصصت عليه القصة، فسر بذلك وقال: "صدقت"، فأسلمت أنا وقومي. "الخرائطي في الهواتف، كر، وسنده ضعيف".
35561 ۔۔۔ عباس بن مرداس سلمی سے روایت ہے کہ وہ اپنے اونٹوں میں تھے نصف النہار کے وقت ان کے سامنے سفید رنگ کا ایک شترمرغ ظاہر ہوا س پر ایک سواں میں جو دودھ کی طرح سفید لباس پہنچا ہواتھا کہ اے عباس بن مرداس تم نہیں دیکھتے ہو کہ آسمان اپنے حارسوں کو روک لیا ہے لڑائی سانس لے رہی ہے اور گھوڑوں نے اپنے ٹاٹ رکھ دیا اور دین نیکی تقوی کے ساتھ اترا ہے پیر کے دن منگل کی رات کو ناقہ قصوری کے مالک کے ساتھ میں گھبرا کر نکلا مجھے خوف زدہ کردیا اس چیز نے جو میں نے دیکھا اور سنا یہاں تک میں اپنے بت کے پس آیا ضمار کے نام سے موسوم تھا ہم اس کی عبادت کرتے تھے وہ اپنی پیٹ سے باتیں کرتا تھا میں اس کے گردے کی جگہ کی صفائی کی پھر اس پر ہاتھ اس کو بوسہ دیا تو اس کے پیٹ سے ایک آواز آئی۔ قل للقبائل من سلیم کلھا ۔ ھلک الضمار وفاز اھل المسجد ۔ ھلک الضمار وکان یعبد مرة . قیل الصلاة مع النبی محمد ۔ ان الذی بالقول ارسل واھھدی ۔ بعد ابن مریم من قریش مھتد ۔ ترجمہ :۔۔۔ نبی سلیم کے تمام قبائل سے کہہ دی کہ ضمار ہلاک ہوگیا اور اہل مسجد کامیاب ہوگیا ضمار ہلاک ہوگیا اور اس کی عبادت کی جاتی تھی کہا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ نماز بھی جائے وہ شخص جس کو قول اور ہدایت دے کر بھیجا گیا ۔ ابن مریم کے بعد قریش سے ہدایت کی طرف رہنمائی کرنے والے ہیں۔ بتایا کہ میں گھر آکر نکلا یہاں قوم کے پاس آیا اور ان کو پورا قصہ سنایا اور پوری خبر بتائی تو میں اپنی قوم نبی حارثہ کے تین سو افراد کے ساتھ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا وہ مدینہ منورہ میں تھے میں مسجد میں داخل ہواجب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے دیکھا مجھ سے بہت خوش ہوا اور پوچھا عباس تمہارے اسلام قبول کرنے کا واقعہ کیا پیش آیا میں نے پورا قصبہ بیان کیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس سے خوش ہوئے اور فرمایا کہ تم نے سچ بولا میں اور میری اسلام میں داخل ہوئے ۔ (الخرائطی فی الھواتف ابن عساکر اور اس کی سندضعیف ہے)