35739- عن عمر قال: خرجت أتعرض رسول الله صلى الله عليه وسلم قبل أن أسلم فوجدته قد سبقني إلى المسجد فقمت خلفه، فاستفتح سورة الحاقة فجعلت أتعجب من تأليف القرآن فقلت: والله! هذا شاعر كما قالت قريش، فقرأ: {إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ وَمَا هُوَ بِقَوْلِ شَاعِرٍ قَلِيلاً مَا تُؤْمِنُونَ} ، قلت: كاهن، قال: {وَلا بِقَوْلِ كَاهِنٍ قَلِيلاً مَا تَذَكَّرُونَ} إلى آخر السورة، فوقع الإسلام في قلبي كل موقع. "حم، كر، ورجاله ثقات ولكن فيه انقطاع بين شريح بن عبيد وعمر".
35739 ۔۔۔ عمر (رض) سے روایت ہے کہ میں اسلام لانے سے پہلے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ملاقات کے لیے گیا تو وہ مجھ سے پہلے مجسد جاچکے تھے میں ان کے پیچھے جاکرکھڑا ہوگیا آپ نے نماز میں سورة الحاقہ شروع فرمائی میں تالیف قرآن سے تعجب کرنے لگا میں نے کہا واللہ یہ شاعر ہے جیسا کہ قریش نے کہا پھر پڑھا : انہ لقول رسول کریم وما ھو بقول شاعر قلیلا ماتومنون میں نے اپنے دل میں کہا کاھن ہیں آپ نے پڑھا ولایقول کاھن قلیلا ماتذکرون سورة کے آخر تک تو اسلام میرے دل میں پوری طرح اتر گیا تھا۔ ( احمد ابن عساکر اور اس کے رجال ثقات ہیں لیکن اس میں شریح بن عبید اور عمر (رض) کے درمیان انقطاع ہے)