35740- عن أسلم قال قال عمر: أتحبون أن أعلمكم كيف كان بدء إسلامي؟ قلنا: نعم، قال: كنت من أشد الناس على رسول الله صلى الله عليه وسلم: فبينا أنا في يوم شديد الحر بالهاجرة في بعض طريق مكة إذ لقيني رجل من قريش فقال: أين تذهب يا ابن الخطاب قلت: أريد هذا الرجل، قال: عجبا لك يا ابن الخطاب! إنك تزعم أنك كذلك وقد دخل عليك هذا الأمر في بيتك! قلت: وما ذاك؟ قال: أختك قد أسلمت؟ فرجعت مغضبا حتى قرعت الباب، وقد كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا أسلم الرجل والرجلان ممن لا شيء له ضمهما رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى الرجل الذي في يده السعة، فنالا من فضلة طعامه، وقد كان ضم إلى زوج أختي رجلين، فلما قرعت الباب قيل: من هذا؟ قلت: عمر، وقد كانوا يقرأون كتابا في أيديهم، فلما سمعوا صوتي قاموا حتى اختبأوا في مكان وتركوا الكتاب، فلما فتحت لي أختي الباب قلت: أيا عدوة نفسها! صبوت؟ وأرفع شيئا فأضرب به على رأسها، فبكت المرأة وقالت لي: يا ابن الخطاب! اصنع ما كنت صانعا فقد أسلمت. فذهبت وجلست على السرير فإذا بصحيفة وسط البيت! فقلت: ما هذه الصحيفة؟ فقالت لي: دعها عنك يا ابن الخطاب! فإنك لا تغتسل من الجنابة ولا تتطهر وهذا لا يمسه إلا المطهرون. فما زلت بها حتى أعطتنيها، فإذا بها "بسم الله الرحمن الرحيم"، فلما مررت باسم الله ذعرت منه فألقيت الصحيفة، ثم رجعت إلى نفسي فتناولتها فإذا فيها {سَبَّحَ لِلَّهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ} ، فقرأتها حتى بلغت {آمِنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ} إلى آخر الآية. فقلت: أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدا عبده ورسوله. فخرج القوم متبادرين فكبروا واستبشروا بذلك وقالوا لي: أبشر يا ابن الخطاب! فإن رسول الله صلى الله عليه وسلم دعا يوم الاثنين فقال: "اللهم؟ أعز الدين بأحب الرجلين إليك: عمر بن الخطاب أو أبي جهل بن هشام"، وإنا نرجو أن تكون دعوة رسول الله صلى الله عليه وسلم لك، فقلت: دلوني على رسول الله صلى الله عليه وسلم أين هو؟ فلما عرفوا الصدق دلوني عليه في المنزل الذي هو فيه، فخرجت حتى قرعت الباب، فقال: من هذا؟ قلت: عمر بن الخطاب. وقد علموا شدتي على رسول الله صلى الله عليه وسلم ولم يعلموا بإسلامي، فما اجترأ أحد منهم أن يفتح لي حتى قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " افتحوا له، فإن يرد الله به خيرا يهده"، ففتح لي الباب فأخذ رجلان بعضدي حتى دنوت من رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال لهم رسول الله صلى الله عليه وسلم: "أرسلوه" فأرسلوني، فجلست بين يديه، فأخذ بمجامع قميصي ثم قال: " أسلم يا ابن الخطاب! اللهم اهده"! فقلت: أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أنك رسول الله، فكبر المسلمون تكبيرة سمعت في طريق مكة وقد كانوا سبعين قبل ذلك، فكان الرجل إذا أسلم فعلم به الناس يضربونه ويضربهم. فجئت إلى رجل فقرعت عليه الباب فقال: من هذا؟ قلت: عمر بن الخطاب. فخرج إلي، فقلت له: أعلمت أني قد صبوت؟ قال: أو قد فعلت؟ قلت: نعم. قال: لا تفعل. ودخل البيت وأجاف الباب دوني، فقلت: ما هذا بشيء فإذا أنا لا أضرب ولا يقال لي شيء، قال الرجل: أتحب أن يعلم بإسلامك؟ قلت: نعم! قال: إذا اجلس في الحجر فائت فلانا فقل له فيما بينك وبينه، أشعرت أني قد صبوت، فإنه قلما يكتم الشيء، فجئت إليه وقد اجتمع الناس في الحجر فقلت له فيما بيني وبينه: أشعرت أني قد صبوت؟ قال: أفعلت؟ قلت: نعم! فنادى بأعلى صوته: ألا! إن عمر قد صبأ، فثار إلي أولئك الناس فما زالوا يضربوني وأضربهم حتى أتى خالي، فقيل له: إن عمر قد صبأ. فقام على الحجر فنادى بأعلى صوته: ألا! إني قد أجرت ابن أختي فلا يمسه أحد! فانكشفوا عني، فكنت لا أشاء أن أرى أحدا من المسلمين يضرب إلا رأيته، فقلت: ما هذا بشيء إن الناس يضربون وأنا لا أضرب ولا يقال لي شيء، فلما جلس الناس في الحجر جئت إلى خالي فقلت: اسمع! جوارك رد عليك! قال: لا تفعل، فأبيت، فما زلت أضرب وأضرب حتى أظهر الله الإسلام. "الحسن بن سفيان والبزار، وقال: لا نعلم أحدا رواه بهذا السند إلا إسحاق بن إبراهيم الحنيني، ولا نعلم في إسلام عمر أحسن منه على أن الحنيني خرج من المدينة فكف واضطرب حديثه، وابن مردويه وخيثمة في فضائل الصحابة، حل، ق في الدلائل، كر قال الذهبي في المغني: إسحاق بن إبراهيم الحنيني متفق على ضعفه".
35740 ۔۔۔ اسلم (رض) سے روایت ہے کہ عمر (رض) نے فرمایا کیا میں تمہیں اپنے اسلام قبول کرنے کا قصہ نہ سناؤں ہم نے کہا ضرورتو فرمایا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سخت مخالفین میں سے تھا اس دوران کہ سخت گرمی کے دن دوپہر کے وقت مکہ کی بعض گلیوں میں چل رہا تھا تو ایک قریشی شخص سے ملاقات ہوئی کہا مجھ سے اے ابن خطاب کہاں کا ارادہ ہے میں نے کہا اس شخص (یعنی محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قتل ) کا ارادہ ہے تو انھوں نے کہا اے ابن خطاب تعجب کی بات ہے میں نے کہا وہ کیا کہا اب اس کا قصد کررہے ہو جب کہ اس شخص کا دین تو تمہارے گھر میں داخل ہوچکا ہے میں نے کہا وہ کیسے بتایا آپ کی بہن مسلمان ہوچکی ہے میں غصہ ہو کر ان کے گھر کی طرف لوٹا اور دروازہ کھٹکھٹایا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا طریقہ یہ تھا کہ جب ایک وہ غریب شخص اسلام قبول کرتے تو اس کو ایسے شخص کے ساتھ ملا دیتے جو مالی وسعت والا ہوتا کہ وہ ان کا بچہ زائدکھانا کھاکر گذارہ کرے تو میرے بہنوئی کے ساتھ بھی وہ آدمی ملادئیے تھے جب میں نے دروازہ کھٹکھٹایا پوچھا کون میں نے کہا عمر وہ اپنے ہاتھ میں ایک کتاب پڑھ رہے تھی جب میری آواز سنی تو مجلس سے اٹھ کر گھر میں چھپ گئے لیکن کتاب کو چھوڑ دیا جب بہن نے میرے لیے دروازہ کھولا میں نے کہا اے اپنے نفس کی دشمن تو نے دین بدل لیا ہے میں نے اس کے سر پر مارنے کے لیے ایک چیز اٹھائی وہ روپڑی اور کہا ابن الخطاب تو جو کرنا چاہے کرلے میں تو مسلمان ہوچکی میں اٹھ کر چارپائی پر بیٹھ گیا تو گھر کے درمیان میں صحیفہ دیکھا میں نے پوچھا یہ کون ساصحیفہ ہے بہن نے کہا ابن خطاب اس کو چھوڑدے کیونکہ تم غسل جنابت نہیں کرتے ہو اور پاکی حاصل نہیں کرتے ہو یہ صحفیہ ایسا ہے کہ اس کو ناپاک ہاتھ نہیں لگ سکتا میں اصرار کرتا رہا یہاں تک مجھ دیدیا اس میں یہ مضمون تھا۔ بسم اللہ الرحمن جب اللہ تعالیٰ کا نام آیا تو خوف زدہ ہو کر اس کو چھوڑ دوبارہ اٹھاکر پڑھاتو یہ سورة تھی۔ سبح اللہ مافی السموات ولارض وھو العزیز الحکیم یہاں تک امنو اب اللہ ورسولہ تک بڑھا تو میں نے کہا اشھد ان لااہ الا اللہ واشھد ان محمدا عبدہ ورسولہ لوگ جلدی سے نکلے انھوں نے تکبیر بلند کی اس پر خوش ہوئے کہا اے ابن خطاب تمہیں بشارت ہو کیونکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پیر کے دن تمہارے حق میں دعا کی تھی۔ اللھم اعزالدین باحب الرجلین الیک عمر بن خطاب اوابی جھل بن ہشام یعنی اے اللہ ان دونوں میں جو آپ کے نزدیک محبوب ہے اس کے ذریعہ دین اسلام کو قوت عطاء فرما عمر خطاب ابوجہل بن ہشام ۔ ہمیں امید ہے کہ آپ رسول اللہ کی دعا کا نتیجہ ہیں میں نے کہا مجھے بتاؤ رسولہ کہاں ہیں ؟ جب انھوں نے میری طلب صادق کو دیکھاتو گھر کی طرف میری رہنمائی کردی میں نکلا اور اس گھر کا دروازہ کھٹکھٹایا پوچھا کون میں نے کہا عمر بن خطاب چونکہ لوگوں کو میری مخالفت کا تو علم تھا لیکن اسلام کا علم نہیں تھا اس لیے کسی نے دروازہ کھولنے کی جرات نہیں کی یہاں تک رسول اللہ نے فرمایا کہ دروازہ کھولو اگر اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے خیر مقدر فرمایا ہے تو ہدایت ہل جائے گی تو دو آدمیوں نے میرا بازو پکڑلیا یہاں تک میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قریب پہنچا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ان کو چھوڑ دونوں نے چھوڑ دیا میں آپ کے سامنے بیٹھ گیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرا گربیان پکڑ کر فرمایا اے عمربن خطاب اسلام قبول کرلے تو میں نے کہا اشھدالا لہ الا اللہ واشہد تک رسول اللہ تو مسلمانوں نے زور سے نعرہ تکبیر بلند کیا تو مکہ گلیوں میں سنا گیا وہ اس سے پہلے ستر تھے میں ایک شخص کے پاس آکر اس کا دروازہ کھٹکھٹایا اس نے پوچھا کون ؟ میں نے کہا عمر بن خطاب وہ گھر سے نکل کر میرے پاس آیا میں نے اس سے کہا کیا تمہیں معلوم ہے کہ میں مسلمان ہوچکاہوں اس نے پوچھا کیا واقعی تم نے ایسا کیا میں نے کہا ہاں اس نے کہا ایساہرگز مت کرو یہ کہہ کر گھر میں داخل ہوگیا اور مجھ سے دروازہ بند کرلیا میں نے کہا یہ کوئی طریقہ نہیں اب میں نہ دروازہ پیٹ رہا ہوں نہ مجھ سے کچھ کہا جارہا ہے پھر اس نے کہا کیا تم چاہتے ہو کہ تمہارے اسلام کا اعلان کیا جائے ؟ میں نے کہا ہاں کہا ہاں کہا پھر تم حطیم میں جاکر بیٹھو اور فلاں سے کہو جو تمہارے اور اس کے درمیان ہے اس سے کہو میں مسلمان ہوگیاہوں کیونکہ وہ باتوں کو بہت کم چھپاتا ہے میں اس کے پاس آیا لوگ مطاف میں جمع تھے میں نے اس کے کلام کا اعادہ کیا کہ کیا تم کو معلوم ہے کہ میں مسلمان ہوچکا ہوں پوچھا کیا واقعی تم نے ایسا کرلیا ہے ؟ میں نے کہا ہاں اس نے زور سے آواز لگائی کہ سن لو عمر مسلمان ہوچکا ہے لوگ میرے اوپر حملہ آور ہوئے وہ مجھ مارتے رہے میں ان کو مارتارہا یہاں تک میرے ماموں آگئے ان سے کہا گیا کہ عمر مسلمان ہوگیا انھوں نے حطیم میں کھڑے ہو کر زور سے اعلان کیا کہ میں نے اپنے بھانجے کو پناہ دے دی ہے اب اس کو کوئی ہاتھ نہ لگائے وہ سارے مجھ سے دور ہوگئے میں نہیں چاہتا تھا کہ کسی مسلمان کو مارا جائے اور میں دیکھتا رہوں میں نے کہا یہ کوئی طریقہ نہیں کہ لوگ مجھے مارتے رہے اور میں نہ ماروں اور مجھ سے کچھ بھی نہ کہا جائے چنانچہ جب لوگ حطیم میں بیٹھ گئے میں اپنے ماموں کے پاس آیا اور کہا سن لیں میں نے آپ کی پناہ آپ کو واپس کردی ہے ثوماموں نے کہا ایسانہ کریں میں نے ان کی پناہ لینے سے انکار کردیا اب میں مارتا بھی تھا اور مار کھاتابھی تھا یہاں تک اللہ تعالیٰ نے اسلام کو غلبہ عطاء فرمایا۔ (الحسن ابن سفیان والبز ارا ور کہا اس سند سے صرف اسحاق بن ابراہیم حتینی نے روایت کی ہے ہمیں اسلام عمر کے قصہ کے متعلق اس سے اچھی روایت معلوم نہیں مگر یہ کہ حنینی مدینہ سے نکلنے کے بعد نابینا ہوگئے اور ان کی حدیث مضطرب ہوگئی ابن مردوبہ اور خیثمہ نے فضائل صحابہ کرام (رض) میں روایت کی ہے حلیة بیہقی دلائل النبوة میں ابن عساکر ذھبی نے مغنی میں کہا اسحاق بن ابراہیم حینی کے ضعف پر اتفاق ہے)