hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 35813

.

كنز العمال

35813
Kanz al-Ummal
35804- عن معاوية بن خديج قال: بعثني عمرو بن العاص إلى عمر بن الخطاب بفتح الإسكندرية فقدمت المدينة في الظهيرة فأنخت راحلتي بباب المسجد ثم دخلت المسجد، فبينا أنا قاعد فيه إذ خرجت جارية من منزل عمر بن الخطاب فقالت: من أنت؟ قلت: أنا معاوية بن خديج رسول عمرو بن العاص، فانصرفت عني ثم أقبلت تشتد فقالت: قم فأجب أمير المؤمنين: فتبعتها فلما دخلت فإذا بعمر بن الخطاب يتناول رداءه بإحدى يديه ويشد إزاره بالأخرى! فقال: ما عندك؟ قلت: خير يا أمير المؤمنين! فتح الله الإسكندرية، فخرج معي إلى المسجد فقال للمؤذن: أذن في الناس: الصلاة جامعة، فاجتمع الناس، ثم قال لي: قم فأخبر الناس، فقمت فأخبرتهم، ثم صلى ودخل منزله واستقبل القبلة فدعا بدعوات ثم جلس فقال: يا جارية! هل من طعام؟ فأتت بخبز وزيت، فقال: كل، فأكلت على حياء، ثم قال: كل، فإن المسافر يحب الطعام، فلو كنت آكلا لأكلت معك، فأصبت على حياء، ثم قال: يا جارية! هل من تمر؟ فأتت بتمر في طبق، فقال: كل، فأكلت على حياء، ثم قال: ماذا قلت يا معاوية حين أتيت المسجد؟ قال: قلت أمير المؤمنين قائل، قال: بئسما ظننت - لئن نمت النهار لأضيعن الرعية، ولئن نمت الليل لأضيعن نفسي، فكيف بالنوم مع هذين يا معاوية. "ابن عبد الحكم".
35804 ۔۔۔ معاویہ بن خدیج سے منقول ہے کہ عمروبن العاص نے مجھے عمربن خطاب کے پاس بھیجا اسکندریہ کی فتح کی خبر لے کر میں ظہر کے وقت مدینہ منورہ پہنچا اور مسجد کے دروازے پر سواری بیٹھا کر مسجد میں داخل ہوا میں بیٹھا ہوا تھا اچانک عمر (رض) کے گھر سے ایک باندی نکل کر آئی مجھے سے پوچھا آپ کون ہیں ؟ میں نے کہا معاویہ بن خدیج عمروبن العاص کا قاصد ہوں وہ اندر گئی پھر تیسری کے ساتھ واپس آئی آئیے امیر المومنین کے پاس چلیں میں ان کے ساتھ گیا تو عمربن خطاب (رض) کے ایک ہاتھ میں چادر رہے دوسرے ہاتھ میں لنگی مجھ سے پوچھا تمہارے پاس کیا خبرہے ؟ میں نے کہا اے امیر المومنین خبرہے اللہ تعالیٰ نے اسکندر یہ کو فتح فرمادیا پھر میرے ساتھ مسجد کی طرف نکلے اور موذن سے کہا لوگوں میں اعلان کریں الصلوة جامعہ لوگ جمع ہوگئے پھر مجھ سے فرمایا کھڑے ہو کر لوگوں میں اعلان کریں۔ میں نے کھڑے ہو کر اعلان کیا پھر نماز پڑھی اور اپنے گھر میں داخل ہوئے پھر قبلہ روہوکر متعدد دعائیں کیں پھر بیٹھ گئے اور باندی سے پوچھا کھانے کے لیے کچھ ہے ؟ وہ روٹی اور زیتون لے کر آئی مجھ سے فرمایا کھاؤ میں نے حیاء کرتے ہوئے کچھ کھایا پھر فرمایا کھاؤ کہ مسافر کھانے کو محبوب رکھتا ہے اگر مجھے کھانا ہوتا میں تمہارے ساتھ کھاتا مجھے کچھ حیاء آگئی پھر اے جاریہ کچھ کھجوریں ہیں ؟ تو وہ ایک پلیٹ میں کھجوریں لے آئیں مجھ سے فرمایا کھاؤ میں نے حیاء کے ساتھ کچھ کھایا پھر اے معاویہ مسجد میں آکر تم نے کیا کہا ؟ میں نے کہا امیر المومنین قیولہ کررہے ہیں تو فرمایا برا کیا یاگمان کیا اگر میں دن کو سو گیا تو دعایاضائع ہوں گے اگر رات کو سویا تو میرا نفس ضائع ہوگا اے معاویہ ان باتوں کے ہوتے ہوئے میں ہوسکتا ہوں۔ (ابن عبدالحکیم)