35805- عن رجل من بني أسد أنه شهد عمر بن الخطاب سأل أصحابه وفيهم طلحة وسلمان والزبير وكعب فقال: إني سائلكم عن شيء فإياكم أن تكذبوني فتهلكوني وتهلكوا أنفسكم، أنشدكم بالله! أخليفة أنا أم ملك؟ فقال طلحة والزبير: إنك لتسألنا عن أمر ما نعرفه، ما ندري ما الخليفة من الملك، فقال سلمان يشهد بلحمه ودمه: إنك خليفة ولست بملك، فقال عمر إن تقل فقد كنت تدخل فتجلس مع رسول الله صلى الله عليه وسلم، ثم قال سلمان: وذلك أنك تعدل في الرعية وتقسم بينهم بالسوية وتشفق عليهم شفقة الرجل على أهله وتقضي بكتاب الله، فقال كعب: ما كنت أحسب أن في المجلس أحدا يعرف الخليفة من الملك غيري ولكن الله ملأ سلمان حكما وعلما، ثم قال كعب: أشهد أنك خليفة ولست بملك فقال له عمر: وكيف ذاك؟ قال: أجدك في كتاب الله قال عمر: تجدني باسمي؟ قال: لا ولكن بنعتك أجد: نبوة ثم خلافة ورحمة على منهاج نبوة، ثم خلافة ورحمة على منهاج نبوة، ثم ملكا عضوضا. "نعيم بن حماد في الفتن".
35805 ۔۔۔ نبی اسد کے ایک شخص نے بیان کیا کہ وہ عمر بن خطاب کے پاس حاضر ہوا تو عمر (رض) نے ساتھیوں سے دریافت کیا ان میں طلحہ سلیمان زبیر کعب تھے کہ میں تم لوگوں سے کچھ دریافت کرنا چاہتا ہوں پس جھوٹ اجتناب کرنا مجھے ہلاکت میں ڈالو گے اور اپنے نفسوں کو بھی ہلاکت میں ڈالو گے میں تمہیں اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ میں خلیفہ ہوں یا بادشاہ ؟ طلحہ اور زبیر نے جواب دیا کہ تم نے ایسا سوال کیا جس کا ہمارے پاس جواب نہیں کہ ہم نہیں جانتے کہ خلیفہ کیا ہوتا ہے بادشاہ کیا ہوتا ہے سلمان فارسی (رض) نے فرمایا کہ وہ اپنے گوشت اور خون کے ساتھ گواہی دیتا ہے کہ تم خلیفہ ہو بادشاہ نہیں تو عمر (رض) نے فرمایا اگر تم یہ کہہ رہے ہو تو تم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس حاضر ہوا کرتے تھے ان کے پاس بیٹھا کرتے تھے تو سلمان (رض) نے کہا آپ رعایا میں انصاف کرتے ہیں ان میں برابری کے ساتھ تقسیم کرتے ہیں آپ ان پر ایسی شفقت کرتے ہیں جیسے آدمی اپنے گھروالوں پر شفقت کرتا ہے اللہ قرآن کریم کے مطابق فیصلہ کرتا ہے کعب (رض) نے کہا میرا خیال یہ تھا کہ مجلس میں میرے علاوہ کوئی خلیفہ اور بادشاہ میں فرق کرنے والا نہیں لیکن اللہ تعالیٰ نے سلمان کو علم و حکمت سے بھر دیا پھر کعب نے کہا میں گواہی دیتاہوں کہ آپ خلیفہ ہیں بادشاہ نہیں تو ان سے عمر (رض) نے پوچھا کیسے اندازہ ہوا ؟ تو بتایا کہ میں آپ کے اوصاف کتاب اللہ میں پاتاہوں عمر (رض) نے پوچھا میرے اوصاف اللہ کی کتاب میں پاتے ہیں میرے نام کے اساتھ تو بتایا نام کے ساتھ نہیں صفات کے ساتھ موجود ہے کہ نبوة ہوگی اس کے بعد خلافت ورحمت ہوگی نبوت کے طریقہ پر بھر خلافت ورحمت ہوگی نبوت کے طریقہ پر بھر بادشاہت ہوگی کاٹنے والی۔ (نعیم بن حماد فی الفتن)