36026- "أيضا" عن الأحنف بن قيس قال: ما كذبت قط إلا مرة، قالوا: وكيف يا أبا بحر؟ قال: وفدنا على عمر بفتح عظيم، فلما دنونا من المدينة قال بعضنا لبعض: لو ألقينا ثياب سفرنا ولبسنا ثياب صوننا فدخلنا على أمير المؤمنين والمسلمين في هيئة وشارة حسنة كان أمثل، فلبسنا ثياب صوننا وألقينا ثياب سفرنا حتى إذا طفنا في أوائل المدينة لقينا رجل فقال: انظروا إلى هؤلاء أصحاب دنيا ورب الكعبة! قال: فكنت رجلا ينفعني رأيي فعلمت أن ذلك ليس بموافق للقوم فعدلت فلبستها وأدخلت ثياب صوني العيبة وأشرجتها وأغفلت طرف الرداء ثم ركبت راحلتي ولحقت بأصحابي، فلما دفعنا إلى عمر نبت عيناه عنهم ووقعت عيناه علي فأشار إلي بيده، فقال: أين نزلتم؟ قلت: في مكان كذا وكذا، فقال: أرني يدك، فقام معنا إلى مناخ ركابنا، فجعل يتخللها ببصره ثم قال: ألا اتقيتم الله في ركابكم هذه؟ أما علمتم أن لها عليكم حقا؟ ألا قصدتم بها في المسير؟ ألا حللتم عنها فأكلت من نبت الأرض؟ فقلنا: يا أمير المؤمنين! إنا قدمنا بفتح عظيم فأحببنا أن نسرع إلى أمير المؤمنين وإلى المسلمين بالذي يسرهم، فحانت منه التفاتة فرأى عيبتي فقال: لمن هذه العيبة؟ قلت: لي يا أمير المؤمنين! قال: فما هذا الثوب؟ قلت: ردائي، قال: بكم ابتعته؟ فألقيت ثلثي ثمنه، فقال: إن رداءك هذا لحسن لولا كثرة ثمنه، ثم انطلق راجعا ونحن معه فلقيه رجل فقال: يا أمير المؤمنين! انطلق معي فأعدني على فلان فإنه قد ظلمني، فرفع الدرة فخفق بها رأسه وقال: تدعون أمير المؤمنين وهو معرض لكم حتى إذا شغل في أمر من أمر المسلمين أتيتموه أعدني أعدني، فانصرف الرجل وهو يتذمر فقال: علي الرجل، فألقى إليه المخفقة فقال: امتثل، فقال: لا والله ولكن أدعها لله ولك! قال: ليس هكذا، إما أن تدعها لله إرادة ما عنده أو تدعها لي فأعلم ذلك. قال: أدعها لله، قال: فانصرف ثم مضى حتى دخل منزله ونحن معه فافتتح الصلاة فصلى ركعتين وجلس فقال: يا ابن الخطاب! كنت وضيعا فرفعك الله، وكنت ضالا فهداك الله، وكنت ذليلا فأعزك الله، ثم حملك على رقاب المسلمين فجاءك رجل يستعديك فضربته! ما تقول لربك غدا إذا أتيته؟ قال: فجعل يعاتب نفسه في ذلك معاتبة ظننا أنه من خير أهل الأرض. "كر".
36026 ۔۔۔ (ایضا) احنف بن قیس سے روایت ہے کہ میں نے کبھی جھوٹ نہیں بولا مگر ایک مرتبہ پوچھا وہ کیسے اے ابوحر ؟ بتایا عمر (رض) کی خدمت میں وفد کے ساتھ حاضر ہوئے ایک بڑی فتح سے واپسی کے موقع پر جب ہم دمینہ منورہ کے قریب پہنچے تو ہم نے آپس میں کہا کہ اگر ہم سفر کے لاباس اتار کر دوسرا لباس پہن لیں اس کے بعد امیر المومنین کی خدمت میں عمدہ حالت میں ہوں تو بہتر ہوگا چنانچہ ہم سفر کا لباس اتارا دیا اور ان کا لباس پہن لیا جب ہم دمینہ کی شروع کی آبادی تک پہنچے تو ایک شخص سے ہماری ملاقات ہوئی تو اس نے کہا ان دنیاداروں کو دیکھو رب کعبہ کی قسم میں ایک شخص تھا کہ میری رائے نے مجھے فائدہ دیا مجھے یقین ہوگیا کہ قوم کے لیے مناسب نہیں چنانجہ واپس ہوا اور لباس بدل لیا اونی لباس کو زنبیل میں ڈالرکر بند کردیا البتہ چادر کا کنارہ باہر نکلا ہوا تھا اس کو اندر کرنا بھول گیا پھر سواری پر سوار ہوگیا اور اپنے ساتھیوں سے مل گیا جب ہم عمر (رض) کے پاس پہنچے تو انھوں نے ہمارے ساتھیوں سے نظر پھیرلی اور میرے اوپر نظر ڈالی اور مجھے ہاتھ سے اشارہ کیا مجھ سے پوچھا کہاں ٹھہرے میں نے بتایا فلاں فلاں مقام پر مجھ سے فرمایا اپنا ہاتھ دیکھا پھر ہمارے ساتھ اونٹ بیٹھا نے کی جگہ پر گئے اور اونٹوں کو نظر جماکر دیکھنی لگے پھر فرمایا کہ تم اپنے جانوروں کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے نہیں ڈرتے ؟ کیا تمہیں معلوم نہیں ان کا تم پر حق ہے ؟ کیا سفر میں ان کے ساتھ اعتدال سے کام نہیں لیتے ہو ؟ ان سے کجاوا کیوں نہیں اتاراتا کہ وہ زمین کی گھاس پھوس میں چرتے ؟ ہم نے کہا اے امیر المومنین ہم فتح عظیم سے واپس آئے ہم نے چاہا جلدی سے جاکر امیر المومنین اور مسلمانوں کو فتح کی خبرسنائیں جس سے وہ خوش ہوجائیں ان سے فارغ ہو کر میرے زنبیل پر ان کی نضرپڑی پوچھایہ کس کا زنبیل ہے ؟ میں نے امیرالمومنین میرا ہے پوچھا یہ کونسا ن کپڑا ہے میں نے کہا میری چادر ہے پوچھا کتنے میں خریدی ؟ میں اس کی قیمت میں سے دوتہائی کمکرکے بتایاتو فرمایا تمہاری یہ چادر بہت اچھی ہے اگر اس کی قیمت زیادہ نہ ہوتی پھر واپس چل پڑے ہم بھی ان کے ساتھ تھے تو راستہ میں ایک شخص ملا اس نے کہا اے امیر المومنین میرے ساتھ چلین فلاں سے میرا بدلہ دلائیں کہ اس نے مجھ پر ضلم کیا درہ اٹھایا اس کے سرپر مارا اور فرمایا کہ تم امیر المومنین کو چھوڑ دیتے ہو جب وہ تمہارے سامنے ہوتا ہے پھر وہ مسلمانوں کے امور میں سے کسی کام میں مشغول ہوتا ہے تو اس کے پاس آکر کہتے ہو ظلم کا بدلہ دلاؤ ظلم کا بدلہ دلاؤوہ شخص ناراضگی سے بڑبڑا ہوا چلا گیا تو فرمایا اس شخص کو میرے پاس واپس بلا کر لاؤ جب آیا تو اس درد دے کر فرمایا بدلہ لے لے اس نے کہا نہیں اللہ کی قسم اس کو اللہ کی خاطر اور تمہارے خاطر چھوڑتا ہوں تو فرمایا کہ اس طرح نہیں یا تو اس کو اللہ کے پاس جو اجرواثواب ہے اس کو حاصل کرنے کے ارادہ سے چھوڑ دے یا میری خاطر چھوڑ دے میں اس کو جان لوں اس نے کا اللہ کی خاطر چھوڑتاہوں پھرچلا گیا اور آپ (رض) گھر میں داخل ہوئے ہم بھی آپ کے ساتھ تھے نماز شروع کی دو رکعتیں پڑھیں اس کے بعد بیٹھ گئے اور اپنے کو خطاب کرتے ہوئے کہا اے خطاب کے بیٹے تو کمینہ تھا اللہ تعالیٰ تجھے عزت دی تو راہ بھولا ہوا تھا اللہ تعالیٰ نے تجھے ہدایت دی تو ذلیل تھا اللہ تعالیٰ نے تجھے عزت دی پھر تجھے مسلمانوں کے کندھوں پر بیٹھایا ۔ (امیر المومنین بنایا ) پھر ایک تمہارے پاس آکرانصاف طلب کرتا ہے تو اس کو دردہ مارتا ہے کل جب رب تعالیٰ کے دربار میں حاضر ہوگا تو کیا جواب دے گا ؟ پھر اپنے نفس کی خوب سرزنش شروع کی ہمیں یقین ہوگیا کہ اہل زمین میں سے بہتر یہی ہیں۔ (رواہ ابن عساکر)