36086 عن عمر أنه قال : أوصي الخليفة بعدي بالمهاجرين الاولين أن يعلم لهم حقهم ويحفظ لهم حرمتهم ، وأوصيه بالانصار الذين تبوؤا الدار والايمان من قبلهم أن يقبل من محسنهم وأن يفعو عن مسيئهم ، وأوصيه بأهل الامصار خيرا فانهم ردء الاسلام وجباة الامول وغيظ العدو أن لا يؤخذ منهم إلا فضلهم عن رضاهم ، وأوصيه بالاعراب خيرا فانهم أصل العرب ومادة الاسلام أن يؤخذ من حواشي أموالهم فيرد على فقرائهم ، وأوصيه بذمة الله وذمة رسوله أن يوفي لهم بعهدهم وأن يقاتل من ورائهم ولا يكلفهم إلا طاقتهم (ش وأبو عبيد في الاموال ، ع ، ن ، حب ، ق).
36086 ۔۔۔ عمر (رض) سے روایت ہے کہ انھوں نے فرمایا کہ میں اپنے بعد خلیفہ کو وصیت کرتا ہوں کہ مہاجرین اولین کے حقوق کا خیال رکھے ان کی عزت وناموس کا تحفظ کرے اور وصیت کرتا ہوں انصارکالحاظ رکھے جنہوں نے مہاجرین کی آمد سے پہلے ہی مدینہ مقیم رہ کر ایمان کو ٹھکانا دیا کہ ان کے حساب کو قبول کرے سیات سے درگذر کرے اور دیگرشہر کے لوگوں کے ساتھ خیر خواہی کرے کیونکہ وہ اسلم کے معاون مددگار ہیں مال حاصل ہونے ذرایع ہیں اور دشمنوں کو غصہ دلانی کا سبب ہیں ان سے ان کی رضاء کے بغیر زکوۃ میں عمدہ مال نہ لیا جائے اعراب کے ساتھ بھی خیر کی وصیت کرتا ہوں کیونکہ وہ عرب کی بنیاد ہیں اور اسلام کا مادہ ہیں کہ ان سے ان کی مواشیوں کی زکوۃ وصول کرکے ان کے فقراء پر تقسیم کی جائے اس طرح وصیت کرتا ہوں اللہ تعالیٰ اور اللہ کے رسول کے ذمہ کو پورا کیا جائے کہ ان سے کئے گئے وعدہ عہد کو پورا کیا جائے اور ان کی حفاظت کے لیے لڑا جائے اور ان پر طاقت سے زیادہ بوجھ نہ ڈالا جائے۔ (ابن ابی شیبة وابوعبیدہ فی الاموال وایویعلی ابن حبا ن بیہقی ) تم بمنہ وحسن توفیقہ طبع الجزء الثانی عشر من کتاب کنزالعمال