36222- عن أم كلثوم بنت ثمامة قالت: قلت لعائشة: نسألك عن عثمان فإن الناس قد أكثروا علينا فيه، قالت عائشة: لقد رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم مع عثمان في هذا البيت في ليلة قائظة1 والنبي صلى الله عليه وسلم يوحى إليه جبريل وكان إذا أوحي إليه ينزل عليه ثقلة شديدة قال الله عز وجل: {إِنَّا سَنُلْقِي عَلَيْكَ قَوْلاً ثَقِيلاً} وعثمان يكتب بين يدي النبي صلى الله عليه وسلم يقول: اكتب عثمان! وما كان الله لينزل تلك المنزلة من رسول الله صلى الله عليه وسلم إلا رجلا كريما. "كر".
٣٦٢٢٢۔۔۔ ام کلثوم بنت ثمامہ کی روایت ہے کہ میں نے حضرت عائشہ (رض) سے عرض کیا : ہم آپ سے عثمان (رض) کے بارے میں سوال کرتے ہیں چونکہ لوگ ہم زیادہ تر انہی کے متعلق سوال کرتے ہیں حضرت عائشہ (رض) نے فرمایا : میں نے اسی گھر میں ایک مرتبہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ عثمان (رض) کو دیکھا یہ بہت ٹھنڈی رات تھی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر جبرائیل وحی لے کر نازل ہوئے جب آپ پر وحی نازل ہوتی تھی آپ کی کیفیت شدید تر ہوجاتی تھی چنانچہ اللہ تعالیٰ کا فرمان نازل ہوا۔ ” انا سنلقی علیک قولا ثقیلا “ جب کہ عثمان رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے بیٹھے لکھ رہے تھے آپ نے فرمایا : اے عثمان لکھو بلاشبہ اللہ تعالیٰ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اس جگہ پر کسی شریف و مکرم شخص ہی کو بٹھا سکتا ہے (رواہ ابن عساکر)