hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 36232

.

كنز العمال

36232
Kanz al-Ummal
36223- عن أبي بكر العدوي قال: سألت عائشة: هل عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى أحد من أصحابه عند موته! قالت: معاذ الله! غير أني سأخبرك، ثم أقبلت على حفصة فقالت: يا حفصة! أنشدك بالله أن تصدقيني بباطل وأن تكذبيني بحق، قالت عائشة: هل تعلمين رسول الله صلى الله عليه وسلم أغمي عليه فقلت: أفرغ؟ فقلت: لا أدري، فقال: ائذنوا له، فقلت: أبي؟ فسكت، فقلت أنت: أبي؟ فسكت، ثم أغمي عليه أشد من الأولى فقلت: أفرغ؟ فقلت: لا أدري، ثم أفاق فقال: ائذنوا له، فقلت أنت: أبي؟ فسكت فقلت أنت: أبي؟ ثم أغمى عليه اغماة أشد من الأولين حتى ظننا أنه قد فرغ، فقلت: أفرغ؟ فقلت: لا أدري، ثم أفاق فقال: ائذنوا له، فقلت: أبي؟ فسكت، فقلت أنت: أبي؟ فسكت، فقلت: أتعلمين أن على الباب رجلا ائذنوا له، فإذا عثمان وكان من أشد هذه الأمة حياء وهو على الباب، فأذنوا له فدخل، فقال له النبي صلى الله عليه وسلم: ادنه، فدنا، فقال: ادنه، فدنا، فقال: ادنه، فدنا حتى أمكن يده رسول الله صلى الله عليه وسلم فجعلها وراء عنقه ثم ساره، فلما فرغ قال: أسمعت؟ قال: سمعته أذناي ووعاء قلبي، ثم وضع يده وراء عنقه ثم ساره،فلما فرغ قال: أسمعت؟ قال: سمعته أذناي ووعاه قلبي، ثم وضع يده وراء عنقه ثم ساره، فلما فرغ قال: أسمعت؟ قال: سمعته أذناي ووعاه قلبي، ثم قبض رسول الله صلى الله عليه وسلم، قالت عائشة: أخبره أنه مقتول وأمره أن يكف يده. "كر".
٣٦٢٢٣۔۔۔ ابوبکر عدوی کہتے ہیں میں نے حضرت عائشہ (رض) سے سوال کیا کیا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بوقت اپنے صحابہ (رض) میں سے کسی کو کوئی خاص مخفی وصیت کی ہے ؟ عائشہ (رض) نے جواب دیا اللہ کی پناہ اس کے علاوہ کچھ نہیں جو میں آپ کو ابھی بتاتی ہوں پھر عائشہ (رض) حضرت حفصہ (رض) کی طرف متوجہ ہوئیں اور کہا : اے حفصہ ! میں تمہیں اللہ تعالیٰ واسطہ دیتی ہوں کہ تم باطل میں کہیں میری تصدیق نہ کرو اور حق کی تکذیب کرو عائشہ (رض) نے کہا : تمہیں علم ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر غشی طاری ہوئی میں نے کہا : آپ رخصت ہوگئے مجھے اس کا پتہ نہیں تھا چنانچہ آپ نے فرمایا : اسے اجازت دو میں نے کہا : میں اپنے والد کو ؟ آپ خاموش رہے۔ میں نے کہا : اپنے والد کو آپ خاموش رہے پھر آپ پر غشی طاری ہوئی جو پہلے سے زیادہ تھی میں نے کہا آپ رخصت ہوگئے میں نے کہا مجھے اس کا پتہ نہیں تھوڑی دیر میں آپ کو پھر افاقہ ہوا اور فرمایا : اسے اجازت دو میں نے کہا : میرے باپ کو ؟ آپ خاموش رہے آپ پر پھر غشی طاری جو پہلے کی دونوں مرتبہ سے زیادہ سخت تھی حتیٰ کہ ہمیں گمان ہوا کہ آپ کی رحلت ہوچکی ہے پھر جب آپ کو افاقہ ہوا فرمایا : اسے اجازت دو میں نے کہا : میرے باپ کو ؟ آپ خاموش رہیے میں نے کہا : میرے باپ کو ؟ آپ پھر خاموش رہے۔ میں نے کہا : تم جانتی ہو کہ دروازے پر کوئی شخص ہے اسے اجازت دو چنانچہ عثمان (رض) اس امت میں سب سے زیادہ حیاء دار تھے اور دروازے پر وہی تھے انھیں اجازت دی اور وہ اندر داخل ہوئے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں فرمایا : میرے قریب ہوجاؤ عثمان (رض) قریب ہوئے آپ نے فرمایا : اور قریب ہوجاؤ عثمان اور قریب ہوئے فرمایا : اور قریب ہوجاؤ عثمان (رض) اور قریب ہوئے حتیٰ کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنا ہاتھ مبارک عثمان (رض) کی گردن پر رکھا اور پھر عثمان (رض) سے سرگوشی کی جب فارغ ہوئے تو فرمایا : کیا تم نے سن لیا جواب دیا : میرے کانوں نے سن لیا اور میرے دل نے اسے محفوظ کرلیا۔ آپ نے پھر ہاتھ مبارک عثمان (رض) کی گردن کے پیچھے رکھا اور سرگوشی کی جب فارغ ہوئے فرمایا : سن لیا ؟ عرض کیا : میرے کانوں نے سن لیا اور میرے دل نے اسے یاد کرلیا آپ نے پھر ہاتھ مبارک عثمان (رض) کی گردن کے پیچھے رکھا اور سرگوشی کی جب فارغ ہوئے تو فرمایا : سن لیا : عرض کیا : میرے کانوں نے سن لیا اور میرے دل نے محفوظ کرلیا پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی روح پر واز کرگئی حضرت عائشہ (رض) کہتی ہیں : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عثمان (رض) کو خبر دی تھی کہ انھیں قتل کیا جائے گا اور انھیں حکم دیا تھا کہ تم اپنا ہاتھ روکے رکھنا۔ (رواہ ابن عساکر)