36224- عن عائشة قالت: دخل عثمان على النبي صلى الله عليه وسلم وهو محلل الأزرار فزر عليه النبي صلى الله عليه وسلم قميصه وقال: كيف أنت يا عثمان إذا لقيتني - وفي لفظ: إذا جئتني - يوم القيامة وأوداجك تشخب دما؟ فأقول: من فعل بك هذا؟ فتقول: بين امرئ قاتل وخاذل، فبينما نحن كذلك إذ ينادي مناد من تحت العرش: ألا! إن عثمان بن عفان قد حكم في أصحابه، فقال عثمان: لا حول ولا قوة إلا بالله العلي العظيم. "كر" وفيه هشام بن زياد أبو المقدام متروك.
٣٦٢٢٤۔۔۔ حضرت عائشہ (رض) کی روایت ہے کہ حضرت عثمان (رض) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنا ازار کھول رکھا تھا چنانچہ آپ نے قمیص اپنے اوپر کھینچ لی اور پھر فرمایا : اے عثمان جب قیامت کے دن میرے پاس آؤ گے اس وقت تمہاری کیا حالت ہوگی جب کہ تمہاری رگوں سے خون رس رہا ہوگا ؟ میں کہوں گا تمہارے ساتھ یہ کس نے کہا : تم کہو گے ایک قاتل و رسوا آدمی سے یہ ہوا اسی دوران عرش کے نیچے سے ایک منادی پکارے گا خبردار ! عثمان نے اپنے ساتھیوں کے درمیان فیصلہ کردیا : عثمان (رض) کہنے لگے۔ لاحول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم۔ (رواہ ابن عساکر وفیہ ہشام بن زیاد ابو المقدام متروک)