36284- "أيضا" عن عبد العزيز الزهري عن محمد بن عبد الله بن عمرو بن عثمان عن أبيه عن جده قال: كان إسلام عثمان بن عفان فيما حدثنا به عن نفسه قال: كنت رجلا مستهترا1 بالنساء فأنا ذات ليلة بفناء الكعبة قاعد في رهط من قريش إذ أتينا فقيل لنا: إن محمدا قد أنكح عتبة بن أبي لهب من رقية ابنته وكانت رقية ذات جمال رائع؛ قال عثمان: فدخلتني الحسرة لم لا أكون أنا سبقت إلى ذلك، فلم ألبث أن انصرفت إلى منزلي فأصبت خالة لي قاعدة وهي سعدى بنت كريز بن ربيعة بن حبيب بن عبد شمس وكانت قد طرقت وتكهنت عند قومها فلما رأتني قالت:
أبشر وحييت ثلاثا تترى. ... ثم ثلاثا وثلاثا أخرى
ثم بأخرى كي تتم عشرا. ... أتاك خير ووقيت الشرا
أنكحت والله حصانا زهرا. ... وأنت بكر ولقيت بكرا
وافيتها بنت عظيم قدرا. ... بنت امرئ لقد أشاد ذكرا
قال عثمان: فعجبت من قولها وقلت: يا خالة! ما تقولين؟ فقالت: يا عثمان!
لك الجمال ولك اللسان. ... هذا نبي معه البرهان
أرسله بحقه الديان. ... وجاءه التنزيل والفرقان
فاتبعه لا تغتالك الأوثان ...قلت: يا خالة! إنك لتذكرين شيئا ما وقع ذكره ببلدنا فأبينيه لي، فقالت: محمد بن عبد الله، رسول من عند الله، جاء بتنزيل الله، يدعو به إلى الله، ثم قالت: مصباحه مصباح، ودينه فلاح، وأمره نجاح، وقرنه نطاح، ذلت به البطاح، ما ينفع الصياح، لو وقع الذباح، وسلت الصفاح، ومدت الرماح، ثم انصرفت ووقع كلامها في قلبي وجعلت أفكر فيه وكان لي مجلس عند أبي بكر فأتيته فأصبته في مجلس ليس عنده أحد فجلست إليه، فرآني مفكرا فسألني عن أمري وكان رجلا متأنيا فأخبرته بما سمعت من خالتي، فقال: ويحك يا عثمان! إنك لرجل حازم ما يخفى عليك الحق من الباطل، ما هذه الأوثان التي تعبدها قومنا؟ أليست من حجارة صم لا تسمع ولا تبصر ولا تضر ولا تنفع؟ قلت: بلى والله! إنها لكذلك، قال: فقد والله صدقتك خالتك! والله هذا رسول الله محمد بن عبد الله قد بعثه الله برسالته إلى خلقه! فهل لك أن تأتيه فتسمع منه؟ قلت: بلى، فوالله ما كان أسرع من أن مر رسول الله صلى الله عليه وسلم ومعه علي بن أبي طالب يحمل ثوبا! فلما رآه أبو بكر قام إليه فساره في أذنه بشيء، فجاء رسول الله صلى الله عليه وسلم فقعد ثم أقبل علي فقال: يا عثمان! أجب الله إلى جنته فإني رسول الله
إليك وإلى خلقه، فوالله ما تمالكت حين سمعت قوله أن أسلمت وشهدت أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له! ثم لم ألبث أن تزوجت رقية بنت رسول الله صلى الله عليه وسلم، فكان يقال: أحسن زوج رقية وعثمان ثم جاء الغد أبو بكر بعثمان بن مظعون وبأبي عبيدة بن الجراح وعبد الرحمن بن عوف وبأبي سلمة بن عبد الأسد والأرقم بن أبي الأرقم فأسلموا، وكانوا مع من اجتمع مع رسول الله صلى الله عليه وسلم ثمانية وثلاثين رجلا. وفي إسلام عثمان تقول خالته سعدى:
هدى الله عثمانا بقول إلى الهدى.
...
وأرشده والله يهدي إلى الحق
فتابع بالرأي السديد محمدا.
...
وكان برأي لا يصد عن الصدق
وأنكحه المبعوث بالحق بنته.
...
فكانا كبدر مازج الشمس في الأفق
فداؤك يا ابن الهاشميين مهجتي.
...
وأنت أمين الله أرسلت في الخلق
استخلافه رضي الله عنه
٣٦٢٨٤۔۔۔ ” ایضاً “ عبد العزیز زہری محمد بن عبداللہ بن عرو بن عثمان اپنے والد اور دادا کی سند سے روایت نقل کرتے ہیں کہ حضرت عثمان (رض) نے اپنے قبول اسلام کا واقعہ ہمیں یوں بیان فرمایا ہے میں عورتوں کا دلدادہ شخص تھا چنانہ ایک رات میں قریش کی ایک جماعت کے ساتھ کعبہ کے صحن میں بیٹھا ہوا تھا اچانک ہمیں آواز سنائی دی : محمد اپنی بیٹی کا نکاح عتبہ بن اطبی لہب سے کرنا چاہتے ہیں رقیہ (رض) بہت حسن و جمال والی عورت تھی حضرت عثمان (رض) کہتے ہیں : مجھے حسرت ہوئی کہ میں عتبہ پر سبقت کیوں نہ لے جاؤں میں وہاں نہ بیٹھا اور فوراً اٹھ کر اپنے گھر کی طرف چل پڑا میں نے گھر پر اپنی خالہ سعدی بنت کریز بن ربیعہ بن حبیب بن عبد شمس بیٹھی پائی سعدی بنت کر یز اپنی قوم کو غیب کی خبریں سنایا کرتی تھی ۔ جب اس نے مجھے دیکھا کہنے لگی :
بشر و حیث ثلاثا تتری ثم ثلاثا وثلاثا اخر
خوش ہوجا تجھے تین بار لگاتار خراج تحسین پیش کیا جاتا ہے پھر سہ بار اور ایک اور شہ بار۔
ثم باخری کی تتم عشرا اتاک خیر و وقیت الشرا
پھر ایک بار اور تاکہ دس بار پوری ہوجائے تیرے پاس خیر و بھلائی پہنچی ہے اور شر سے محفوظ کیا ہے۔
انکحت واللہ حصانا زھرا وانت بکر ولقیت بکرا
بخدا تیرا نکاح ایک پاکدامن چاند سی صورت سے کیا جائے گا تو بھی کنوارا ہے اور کنواری کو پائے گا۔
وفی تھا بنت عظیم قدرا بنت امری بقد اشاد ذکرا
تم اسے قدرو منزلت کے اعتبار سے عظیم باپ کی بیٹی پاؤ گے ایک ایسے شخص کی بیٹی ہے جس کی شہرت کے تذکرے ہوں گے
حضرت عثمان (رض) فرماتے ہیں : میں نے خالہ کے قول سے تعجب کیا اور کہا : اے خالہ کیا کہتی ہو ؟ وہ بولی : اے عثمان !
لک الجمال ولک اللسان ھذا نبی معہ البرھان
تمہارے لیے حسن و جمال اور زبان ہے یہ شخص نبی ہے اور اس کے پاس برھان ہے۔
ارسلہ بحقہ الدیان وجاءہ التنزیل والفرقان فاتبعیہ لاتغتالک الاوثان
اللہ تعالیٰ نے انھیں برحق پیغمبر بنا کر بھیجا ہے ان کے پاس تنزیل و فرقان آئے ہیں لہٰذا تم ان کی اتباع کرو تجھے بت گمراہ نہ کرنے پائی
میں نے کہا : اے خالہ ! آپ ایسی چیز کا ذکر کر رہی ہیں جس کا چرچا ہمارے شہر میں چل پڑا ہے آپ اس کی وضاحت کریں وہ محمد بن عبداللہ ہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول ہیں اللہ تعالیٰ کا قرآن لائیں گے اور اللہ کی طرف اس کی دعوت دیں گے ، پھر بولی : اس کا چراغ ہمیشہ روشن رہے گا اس کا دین فلاح و کامیابی ہے اس کا معاملہ کامرانی ہے اسے غلبہ حاصل ہوگا گمراہ لوگ اس سے مغلوب ہوں گے چیخ و پکار فضول ہوگی اگرچہ گھمسان کی جنگیں ہی کیوں نہ ہوں تلواریں بےنیام ہی کیوں نہ ہوجائیں نیز بےکیوں نہ کھینچ لیے جائیں پھر خالہ اٹھ کر چلی گئی لیکن اس کا کلام میرے دل میں رچ بس گیا میں اس معاملہ میں سوچ و بچار کرنے لگا دریں اثناء میں ابوبکر (رض) کے پاس اٹھتا بیٹھتا تھا میں ابوبکر (رض) کے پاس آیا اور انھیں تنہائی میں پایا میں ان کے پاس بیٹھ گیا ابوبکر (رض) نے مجھے فکر مند دیکھا آپ نے فکر مندی کی وجہ پوچھی چونکہ ابوبکر دل میں دوسروں کا درد رکھنے والے شخص تھے میں نے انھیں اپنی خالہ کا کلام سن دالا۔ ابوبکر (رض) نے فرمایا : اے عثمان (رض) تیری ہلاکت ہو بلاشبہ تو عقلمند آدمی ہے تمہارے اوپر حق باطل سے مخفی نہیں رہ سکتا یہ کیسے بت ہیں جن کی تمہاری قوم عبادت کرتی ہے کیا یہ گونگے پتھر نہیں جو نہ سن سکتے ہیں نہ دیکھ سکتے ہیں جو نقصان پہنچا سکتے ہیں نہ نفع ؟ میں نے کہا : بخدا جی ہاں حقیقت میں یہ ایسے ہی ہیں ابوبکر بولے : اللہ کی قسم تمہاری خالہ نے سچ کہا ہے بخدا ! یہ اللہ تعالیٰ کے رسول محمد بن عبداللہ ہیں اللہ تعالیٰ نے انھیں مخلوق کی طرف پیغمبر بنا کر بھیجا ہے کیا تم ان کے پاس جاسکتے ہو کہ ان کی بات سن لو میں نے حامی بھرلی، بخدا ! تھوڑی دیر بھی نہیں گزری تھی کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت علی (رض) کے ساتھ ادھر سے گزرے علی (رض) نے کپڑے اٹھائے ہوئے تھے جب ابوبکر (رض) نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا تو آپ کی طرف اٹھے اور آپ کے کام میں سرگوشی کی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے اور بیٹھ گئے پھر میری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا : اے عثمان (رض) اللہ تعالیٰ کی دعوت قبول کرلو اور جنت میں داخل ہوجاؤ بلاشبہ میں اللہ کا رسول ہوں تیری طرف اور مخلوق کی طرف مبعوث کیا گیا ہوں۔ بخدا میں نے جونہی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بات سنی میں نے زرہ بھر ڈھیل نہیں کی اسلام قبول کرلیا اور کلمہ شہادت پڑھ لیا اس کے بعد میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیٹی رقیہ (رض) سے شادی کرلی چنانچہ کہا جاتا تھا کہ سب سے اچھا جوڑا عثمان (رض) اور رقیہ (رض) کا ہے پھر دوسرے دن صبح کو ابوبکر (رض) عثمان بن مظعون ابو عبیدہ بن جراح عبد الرحمن بن عوف ابو سلمہ بن عبد الاسد اور ارقم بن ابی ارقم کو لے آئے اور انھوں نے بھی اسلام قبول کرلیا۔ چنانچہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس اڑتیس (٣٨) مرد جمع ہوگئے عثمان (رض) کے اسلام لانے کے متعلق ان کی خالہ سعدی نے یہ اشعار کہے ہیں۔
ھدی اللہ عثماناً بقول الی الھدی وآر شدہ واللہ یھدی الی الحق
اللہ تعالیٰ نے عثمان کو ہدایت دی ہے اور ہدایت کی طرف اس کی راہنمائی کی ہے اللہ تعالیٰ حق کی راہنمائی کرتا ہے۔
فتابع بالرای السدید محمدا وکان برای لا یصد عن الصدق
اس نے استصواب رائے سے محمد کی اتباع کی جب کہ غلط رائے سچائی سے نہیں روک سکتی۔
وانکھہ المبعوث بالحق بنتہ فکانا کبدر مازج الشمس فی الافق
اس پیغمبر نے اپنی بیٹی کا نکاح کرا دیا اور وہ زوجین کا جوڑا چاند جیسا ہے جو افق میں سورج کو ماند کردیتا ہے۔
فدءک یا ابن الھا شمین مھجتی وانت امین اللہ ارسلت کی الخلق
اے ہاشمیوں کے بیٹے ! تجھ پر میری جان قربان جائے تو اللہ کا امین ہے تجھے مخلوق میں رسول بنا کر بھیجا گیا ہے۔