36288- "أيضا" سيف بن عمر عن محمد وطلحة وحارثة وأبي عثمان قالوا: أدخلوا على عثمان رجلا من بني ليث فقال: ممن الرجل؟ فقال: ليثي، فقال: لست بصاحبي، قال: وكيف؟ قال: ألست الذي دعا لك النبي صلى الله عليه وسلم في نفر وأن تحفظوا يوم كذا وكذا؟ قال: بلى، قال فلم تصنع؟ فرجع وفارق القوم، فأدخلوا عليه رجلا من قريش فقال: يا عثمان! إني قاتلك، قال: كلا! قال: وكيف؟ قال: إن رسول الله صلى الله عليه وسلم استغفر لك يوم كذا وكذا فلن تقارف دما حراما، فاستغفر ورجع وفارق أصحابه. "كر".
٣٦٢٨٨۔۔۔ ” ایضاً “ سیف بن عمر محمد و طلحہ و حارثہ اور ابو عثمان سے روایت نقل کرتے ہیں کہ لوگ حضرت عثمان (رض) کے پاس بنی لیث کا ایک شخص پکڑ کر لائے عثمان (رض) نے فرمایا : تو کس قبیلہ سے ہے ؟ جواب دیا : میں لیٹی ہوں فرمایا : کیا تو میرا ساتھی نہیں ہے اس نے کہا : وہ کیسے آپ نے فرمایا : کیا ایک جماعت کے ساتھ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تمہارے لیے دعا نہیں کی تھی اور یہ کہ تم فلاں فلاں دن حفاظت کرو اس نے جواب دیا : جی ہاں آپ (رض) نے فرمایا : پھر تم بلوی میں کیوں شریک ہو ؟ چنانچہ وہ شخص بلوائیوں سے الگ ہو کر واپس چلا گیا۔ اسی طرح لوگ آپ (رض) کے پاس قریش کا ایک شخص لائے وہ بولا : اے عثمان ! میں آپ کو قتل کروں گا آپ نے فرمایا : ہرگز نہیں اس نے پوچھا : وہ کیسے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جواب دیا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تمہارے لیے فلاں دن استغفار کیا ہے لہٰذا تم ہرگز محترم خون کے درپے نہیں ہوگے چنانچہ اس شخص نے استغفار کیا اور اپنے ساتھیوں سے الگ ہو کر واپس لوٹ گیا۔ (رواہ ابن عساکر)