36293- "أيضا" عن إسماعيل بن أبي خالد قال: لما نزل أهل مصر الجحفة يعاتبون عثمان صعد عثمان المنبر فقال: جزاكم الله يا أصحاب محمد عني شرا! أذعتم السيئة وكتمتم الحسنة وأغريتم بي غوغاء الناس، أيكم يأتي هؤلاء القوم فيسألهم ما الذي نقموا؟ وما الذي يريدون - ثلاث مرات، فلم يجبه أحد، فقام علي فقال: أنا، فقال عثمان: أنت أقربهم رحما وأحقهم بذلك، فأتاهم فرحبوا به وقالوا: ما كان يأتينا أحد أحب إلينا منك، فقال: ما الذي نقمتم؟ قالوا: نقمنا أنه محا كتاب الله، وحمى الحمى، واستعمل أقرباءه، وأعطى مروان مائتي ألف، وتناول أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم، فرد عليهم عثمان: أما القرآن فمن عند الله، إنما نهيتكم لأني خفت عليكم الاختلاف فاقرؤا علي أي حرف شئتم، وأما الحمى فوالله ما حميته لإبلي ولا غنمي وإنما حميته لإبل الصدقة لتسمن وتصلح وتكون أكثر ثمنا للمساكين، وأما قولكم: إني أعطيت مروان مائتي ألف، فهذا بيت مالهم فيستعملوا عليه من أحبوا، وأما قولهم: تناول أصحاب محمد النبي صلى الله عليه وسلم، فإنما أنا بشر أغضب وأرضى، فمن ادعى قبلي حقا أو مظلمة فهذا أنا، فإن شاء قود1 وإن شاء عفو وإن شاء أرضي؛ فرضي الناس واصطلحوا ودخلوا المدينة وكتب بذلك إلى أهل البصرة وأهل الكوفة فمن لم يستطع أن يجيء فليوكل وكيلا. ابن أبي داود، "كر".
٣٦٢٩٣۔۔۔ ” ایضاً “ اسماعیل بن ابی خالد کی روایت ہے کہ جب اہل مصر تمام جحفہ میں اترے حضرت عثمان (رض) کو برا بھلا کہہ رہے تھے عثمان (رض) منبر پر چڑھے اور فرمایا : اللہ تعالیٰ تمہیں اے اصحاب محمد ! میری طرف سے برائی کا بدلہ دے تم برائی کا پرچار کرتے ہو اور نیکی کو چھپاتے ہو لوگوں کے شوروغل میں مجھے دھوکا دیتے ہو تم میں سے کون ان لوگوں کے پاس جائے گا اور ان کی برائی کا ان سے پوچھے ؟ اور وہ کیا چاہتے ہیں۔ کسی نے جواب نہ دیا : حضرت علی (رض) کھڑے ہوئے اور فرمایا : میں ان سے سوال کرتا ہوں عثمان (رض) نے فرمایا : آپ کا ان سے قریبی رشتہ ہے اور آپ اس کے زیادہ حقدار بھی ہیں۔ چنانچہ علی (رض) ان لوگوں کے پاس تشریف لائے لوگوں نے انھیں خوش آمدید کیا۔ اور بولے آپ سے زیادہ کوئی شخص ہمیں محبوب نہیں جو ہمارے پاس آتا حضرت علی (رض) نے کہا : کس چیز نے تمہیں ایسا کرنے پر مجبور کیا ہے ؟ لوگوں نے کہا : اس شخص نے (عثمان (رض)) کتاب اللہ مٹا ڈالی ہے چراگاہوں کو استعمال ہے اپنے قریبی رشتہ داروں کو سرکاری عہدوں پر فائز کیا ہے مروان کو دو ہزار درہم دئیے ہیں اور اصحاب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے غصہ سے کام لیا ہے حضرت عثمان (رض) نے ان لوگوں کو جواب بھیجوایا : قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوا ہے میں نے تمہیں (مختلف ق راتوں سے) منع کیا ہے چونکہ مجھے تمہارے اوپر اختلاف کا ڈر تھا لہٰذا جس قران پر چاہو پڑھو رہی بات چراگاہوں کی اللہ کی قسم میں نے اپنے اونٹ نہیں چرائے نہ اپنی بکریاں چرائی ہیں میں نے تو صدقہ کے اونٹ چراگاہوں میں بھیجے ہیں تاکہ فربہ ہوجائیں اور مساکین کو زیادہ نفع پہنچائیں : رہا ان کا کہنا کہ میں نے مروان کو دو ہزار درہم دئیے ہیں یہ لوگوں کا بیت المال ہے لوگ جسے چاہیں اس پر عامل مقرر کریں رہا ان کا یہ کہنا کہ میں نے اصحاب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر غصہ کیا ہے اور انھیں حق سے محروم کیا ہے سو میں بشر ہوں میں غصہ بھی ہوسکتا ہوں اور خوش بھی ہوسکتا ہوں جو مجھ پر حق یا ظلم کا دعوی کرے تو میں یہ ہوں چاہے تو مجھ سے بدلہ لے چاہے تو معاف کرے لوگ آپ کے جواب سے راضی ہوگئے اور صلح کرلی پھر مدینہ میں داخل ہوئے عثمان (رض) نے یہ حکم نامہ اہل بصرہ و اہل کوفہ کی طرف روانہ کیا کہ جو شخص آنے کی طاقت نہیں رکھتا وہ اپنا وکیل مقرر کرے۔ (دواہ ابن ابی داخد وابن عساکر)