36295- عن النعمان بن بشير قال: حدثتني نائلة بنت القرافصة الكلبية امرأة عثمان قالت: لما حوصر عثمان ظل يومه صائما، فلما كان عند الإفطار سألهم الماء العذب، فقالوا: دونك هذا الركي1، وإذا ركي يلقى فيه النتن، فبات تلك الليلة على حاله لم يطعم، فلما كان من السحر أتيت جارات لنا فسألتهم الماء العذب، فجئته بكوز من ماء فأيقظته فقلت: هذا ماء عذب قد أتيتك به، فقال: إن رسول الله صلى الله عليه وسلم أطلع علي من هذا السقف ومعه دلو من ماء فقال: اشرب يا عثمان! فشربت حتى رويت، ثم قال: ازدد، فشربت حتى تملأت، فقال: إن القوم سيكثرون عليك، فإن قاتلتهم ظفرت، وإن تركتهم افطرت عندنا، قالت: فدخلوا عليه من يومه فقتلوه."ابن منيع وابن أبي عاصم".
٣٦٢٩٥۔۔۔ نعمان بن بشیر (رض) کی روایت ہے کہ مجھے نائلہ بنت قرافصہ کلبیہ عثمان (رض) کی بیوی نے حدیث سنائی ہے کہ جب عثمان (رض) کا محاصرہ کیا گیا آپ نے وہ دن روزے میں گزار دیا افطاری کے وقت بلوائیوں سے میٹھا پانی طلب کیا کہنے لگے : اس کنویں کے علاوہ جہاں سے بھی پانے ملے پی لو کیا دیکھتے ہیں کہ کنویں سے بدبو اٹھ رہی ہے چنانچہ آپ نے یہ رات اسی حال میں گزر دی کوئی چیز نہیں کھائی پھر سحری کے وقت میں اپنی پڑوسیوں کے پاس گئی میں نے ان سے میٹھا پانی طلب کیا میں پانی کا ایک کوزہ لیے ہوئے حضرت عثمان (رض) کے پاس آئی انھیں جگایا میں نے عرض کیا : یہ میٹھا پانی ہے جو میں آپ کے پا سلائی ہوں آپ نے فرمایا : آج رات اس چھت سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مجھ پر نمودار ہوئے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس پانی کا ایک ڈول تھا آپ نے فرمایا : اے عثمان : پی لو۔ میں نے سیر ہو کر پانی پیا پھر فرمایا : اور پیو ! ، میں نے اور پیا حتیٰ کہ میرا پیٹ بھر گیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ لوگ تمہارے اوپر چڑھائی کریں گے اگر تم ان سے قتال کرو گے فتح مند ہوجاؤ گے اور اگر قتال ترک کرو گے ہمارے پاس آکر افطاری کرو گے حضرت نائلہ (رض) کہتی ہیں اسی دن لوگ گھر میں داخل ہوئے اور آپ کو قتل کردیا۔ (رواہ ابن منع وابن ابی عاصم)