36296- عن مهاجر بن حبيب وإبراهيم بن مصقلة قالا: بعث عثمان بن عفان إلى عبد الله بن سلام وهو محصور، فدخل عليه فقال له: ارفع رأسك ترى هذه الكوة، فإن رسول الله صلى الله عليه وسلم أشرف منها الليلة فقال: يا عثمان! أحصروك؟ قلت: نعم، فأدلى لي دلوا فشربت منه، فإني أجد برده على كبدي، ثم قال لي: إن شئت دعوت الله فينصرك عليهم، وإن شئت أفطرت عندنا! قال عبد الله: فقلت له: ما الذي اخترت؟ قال: الفطر عنده، فانصرف عبد الله إلى منزله، فلما ارتفع النهار قال لابنه: اخرج فانظر ما صنع عثمان، فإنه لا ينبغي أن يكون هذه الساعة حيا، فانصرف إليه فقال: قد قتل الرجل. الحارث.
٣٦٢٩٦۔۔۔ مہاجرین خیب اور ابراہیم بن تصقلہ کی روایت ہے کہ عثمان بن عفان (رض) نے عبداللہ بن سلام (رض) کو اپنے پاس بلایا عثمان (رض) محصور تھے عبداللہ بن سلام (رض) آپ کے پاس داخل ہوئے آپ (رض) نے فرمایا : اپنا سر اوپر اٹھاؤ اور یہ روشندان دیکھو آج رات رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہاں سے نمودار ہوئے اور فرمایا : اے عثمان ! لوگوں نے تمہارا محاصرہ کرلیا ہے میں نے عرض کیا جی ہاں چنانچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پانی کا ایک ڈول لٹکایا میں نے اس سے پانی پیا اس کی ٹھنڈک میں اپنے جگر میں پاتا ہوں آپ نے مجھ سے فرمایا : اگر تم چاہو میں اللہ تعالیٰ سے دعا کروں پھر وہ ان لوگوں کے خلاف تمہاری مدد فرمائے گا اور اگر چاہو تو ہمارے پاس آکر افطار کرو حضرت عبداللہ کہتے ہیں میں نے پوچھا : آپ نے کونسی صورت اختیار کی ہے ؟ فرمایا : آپ کے پاس افطاری اختیار کی ہے پھر عبداللہ (رض) اپنے گھر واپس لوٹ گئے پھر دوپہر کے وقت آپنے بیٹے سے کہا : جاؤ دیکھو کہ عثمان نے کیا کیا ؟ ناممکن ہے کہ وہ ابھی تک زندہ ہوں چنانچہ وہ جاکر واپس لوٹا اور بتایا عثمان (رض) قتل کر دئیے گئے ہیں۔ (رواہ الحارث)