hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 36311

.

كنز العمال

36311
Kanz al-Ummal
36302- "أيضا" عن مجاهد قال: أشرف عثمان على الذين حاصروه فقال: يا قوم! لا تقتلوني فإني وال وأخ مسلم، فوالله! إن أردت إلا الإصلاح ما استطعت، أصبت أو أخطأت، وإنكم إن تقتلوني لا تصلون جميعا أبدا، ولا تغزون جميعا أبدا، ولا يقسم فيئكم بينكم قال: فلما أبوا قال: أنشدكم الله هل دعوتم عند وفاة أمير المؤمنين بما دعوتم به وأمركم جميعا لم يتفرق وأنتم أهل دينه وحقه فتقولون: إن الله لم يجب دعوتكم، أم تقولون: هان الدين على الله، أم تقولون: إني أخذت هذا الأمر بالسيف والغلبة ولم آخذه عن مشورة من المسلمين، أم تقولون: إن الله لم يعلم من أول أمري شيئا لم يعلم من آخره فلما أبوا قال: اللهم! أحصهم عددا، واقتلهم بددا1، ولا تبق منهم أحدا، قال مجاهد: فقتل الله منهم من قتل في الفتنة، وبعث يزيد إلى أهل المدينة عشرين ألفا فأباحوا المدينة ثلاثا يصنعون ما شاؤا لمداهنتهم. ابن سعد.
٣٦٣٠٢۔۔۔ ” ایضاً “ مجاہد کی روایت ہے کہ حضرت عثمان (رض) نے محاصرین پر نمودار ہو کر فرمایا : اے قوم مجھے مت قتل کرو چونکہ میں والی ہوں اور تمہارا مسلمان بھائی ہوں۔ اللہ کی قسم مجھ سے جہاں تک ہوسکا ہے میں نے اصلاح کا ارادہ کیا ہے خواہ میں درستی تک پہنچایا مجھ سے خطا ہوئی اگر تم نے مجھے قتل کردیا پھر تم کبھی بھی اکٹھے نماز نہیں پڑھ سکتے اکٹھے مل کر جہاد نہیں کرسکتے تمہاری غنیمت تمہارے درمیان تقسیم نہیں ہوگی مجاہد کہتے ہیں : جب لوگوں نے انکار کیا تو آپ (رض) نے فرمایا : میں تمہیں اللہ تعالیٰ کا واسطہ دیتا ہوں کیا تم امیر المومنین کی وفات کے وقت اس امر کی دعوت دیتے ہو جس کی تم پہلے دعوت دے چکے ہو دراں حالیکہ تم سب ایک نکتہ پر مجتمع ہو تمہارا معاملہ جدا جدا نہ ہو اور تم دین کے اہل بھی ہو اور پھر تم یہ کہو اللہ تعالیٰ نے تمہاری دعوت قبول نہیں کی یا کہو کہ اللہ کے ہاں دین کی تذلیل ہو رہی ہے۔ یا تم کہو کہ یہ خلافت میں نے تلوار یا غلبہ سے حاصل کی ہے اور مسلمانوں سے مشورہ لے کر حاصل نہیں کی یا تم کہتے ہو کہ اللہ تعالیٰ میرے معاملہ کو شروع سے نہیں جانتا یا آخر سے نہیں جانتا جب لوگوں نے اس سے بھی انکار کیا تو آپ نے فرمایا : یا اللہ ! ان کی تعداد کو اپنے شمار میں رکھ لے اور انھیں چن چن کر قتل کر اور ان میں سے کوئی بھی باقی نہ رکھ۔ مجاہد کہتے ہیں : جو لوگ فتنوں میں قتل ہوئے وہ بلوائیوں ہی میں سے تھے چنانچہ یزید نے بیس ہزار جنگجو مدینہ منورہ بھیجے جنہوں نے تین اور تک مدینہ کو مباح سمجھے رکھا اور اپنی مداہنت کی وجہ سے جو چاہا کر گزرے۔ (رواہ ابن سعد)