36378- أنا أسلم بن الفضل بن سهل ثنا الحسين بن عبيد الله الأبزاري البغدادي ثنا إبراهيم بن سعيد الجوهري حدثني أمير المؤمنين المأمون حدثني الرشيد حدثني المهدي حدثني المنصور حدثني أبي حدثني عبد الله بن عباس قال: سمعت عمر بن الخطاب يقول: كفوا عن ذكر علي بن أبي طالب فقد رأيت من رسول الله صلى الله عليه وسلم فيه خصالا لأن تكون لي واحدة منهن في آل الخطاب أحب إلي مما طلعت عليه الشمس، كنت أنا وأبو بكر وأبو عبيدة في نفر من أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم فانتهيت إلى باب أم سلمة وعلي، قائم على الباب فقلنا: أردنا رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال: يخرج إليكم، فخرج رسول الله صلى الله عليه وسلم فسرنا إليه فاتكأ على علي بن أبي طالب ثم ضرب بيده منكبه ثم قال: إنك مخاصم تخاصم، أنت أول المؤمنين إيمانا، وأعلمهم بأيام الله، وأوفاهم بعهده، وأقسمهم بالسوية، وأرأفهم بالرعية وأعظمهم رزية، وأنت عاضدي، وغاسلي، ودافني، والمتقدم إلى كل شديدة وكريهة، ولن ترجع بعدي كافرا وأنت تتقدمني بلواء الحمد وتذود عن حوضي، ثم قال ابن عباس من نفسه: ولقد فاز علي بصهر رسول الله صلى الله عليه وسلم وبسطة في العشيرة وبذلا للماعون وعلما بالتنزيل وفقها للتأويل ونيلا للأقران."البزاري كذاب".
٣٦٣٧٨۔۔۔ اسلم بن فضل بن سہل، حسین بن عبید اللہ ابزاری بغدادی، ابراہیم بن سعید جوہری، امیر المومنین مامون رشید مھدی منصور اپنے والد سے عبداللہ بن عباس (رض) کی روایت ہے کہ میں نے عمر بن خطاب (رض) کو فرماتے سنا : علی بن ابی طالب کے تذکرہ سے رک جاؤ چونکہ میں ان میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے حاصل کی ہوئی خصلتیں دیکھ چکا ہوں ان میں سے اگر ایک بھی آل خطاب میں ہوئی مجھے وہ اس چیز سے زیادہ محبوب ہے جس پر سورج طلوع ہوتا ہے میں ابوبکر ابو عبیدہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ (رض) کی ایک جماعت میں تھے میں ام سلمہ (رض) کے دروازے تک جا پہنچا۔ دروازے پر علی (رض) کھڑے تھے ہم نے عرض کیا : ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ارادہ سے آئے ہیں حضرت علی (رض) نے کہا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) باہر آنا چاہتے ہیں۔ آپ تشریف لائے اور علی بن ابی طالب (رض) کا سہارا لے لیا پھر علی (رض) کاندھے پر ہاتھ رکھ کر فرمایا : تجھ سے خصومت اور جھگڑا کیا جائے گا تو ایمان کے اعتبار سے پہلا مومن ہے سب سے زیادہ اللہ کے امام کا علم رکھتا ہے سب سے زیادہ وعدہ وفا ہے درستی پر زیادہ چلنے والا ہے رعیت پر سب سے زیادہ مہربان ہے تو میرا بازو ہے مجھے غسل دینے والا ہے مجھے دفن کرنے والا ہے ہر سختی اور پریشانی کی طرف آگے بڑھنے والا ہے میرے بعد کافر نہیں ہوگا تو حمد کا جھنڈا اٹھائے مجھ سے آگے چلے گا اور حوض کوثر میں میرے ساتھ ہوگا پھر ابن عباس (رض) نے فرمایا : علی (رض) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا سسرالی رشتہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے خاندان میں ان کا غلبہ ہے عام استعمال کی چیزیں دینے والے ہیں تنزیل و تاویل کا علم رکھتے ہیں ہم عمروں سے آگے بڑھنے والے ہیں۔ کلام :۔۔۔ حدیث موضوع ہے محدثین نے آبزار کو کذاب کہا ہے۔