36402- عن علي قال: جاء النبي صلى الله عليه وسلم أناس من قريش فقالوا: يا محمد! إنا جيرانك وحلفاؤك وإن ناسا من عبيدنا قد أتوك ليس بهم رغبة في الدين ولا رغبة في الفقه، إنما فروا من ضياعنا وأموالنا فارددهم إلينا، فقال لأبي بكر: ما تقول: قال: صدقوا، إنهم لجيرانك وأحلافك، فتغير وجه رسول الله صلى الله عليه وسلم ثم قال لعمر: ما تقول؟ قال: صدقوا إنهم لجيرانك وحلفاؤك، فتغير وجه رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: يا معشر قريش! والله ليبعثن الله عليكم رجلا قد امتحن الله قلبه بالإيمان فيضربكم على الدين أو يضرب بعضكم، فقال أبو بكر: أنا يا رسول الله! قال: لا، قال عمر: أنا يا رسول الله؟ قال: لا، ولكنه الذي يخصف النعل وكان أعطى عليا نعلا يخصفها. "حم" وابن جرير، وصححه، "ص".
٣٦٤٠٢۔۔۔ حضرت علی (رض) کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں قریش کے کچھ لوگ حاضر ہوئے اور عرض کیا : یا محمد ! ہم آپ کے پڑوسی اور حلیف ہیں ہمارے کچھ غلام تمہارے پاس آگئے ہیں انھیں دین وفقہ کی کچھ رغبت نہیں ہے وہ ہماری جائیداروں اور اموال سے بھاگ آئے ہیں لہٰذا آپ ہمیں واپس کردیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ابوبکر (رض) سے فرمایا : تم کیا کہتے ہو انھوں نے جواب دیا : یہ لوگ سچ کہتے ہیں : وہ آپ کے پڑوسی اور حلیف ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا چہرہ اقدس متغیر ہوگیا پھر عمر (رض) سے فرمایا : اے عمر ! تم کیا کہتے ہو ؟ انھوں نے کہا : یہ سچ کہتے ہیں یہ آپ کے جیران اور حلیف ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا چہرہ اور متغیر ہوگیا۔ پھر ارشاد فرمایا : اے جماعت قریش اللہ تعالیٰ تمہارے اوپر ضرور ایک ایسے شخص کو بھیجے گا جس کے دل کو اللہ تعالیٰ نے ایمان سے جا نچ لیا ہے وہ دین پر تمہاری گردنیں مارے گا ابوبکر (رض) نے کہا : یا رسول اللہ وہ میں ہوں فرمایا نہیں حضرت عمر (رض) نے کہا : یا رسول اللہ وہ میں ہوں فرمایا : نہیں لیکن یہ وہ شخص ہے جو جوتا گانٹھ رہا ہے چنانچہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت علی (رض) کو جوتا گانٹھنے کے لیے دیا ہوا تھا۔ (رواہ احمد بن حنبل وابن جریر وصححہ و سعید بن المنصور)